213

محبت کی دوا

تحریر شئیر کریں

عورت ڈاکٹر کی موجودگی میں گھر کا ماحول جیسے کھیل بدل گیا۔ وہ نہ صرف علاج کر رہی تھیں بلکہ ایک حقیقی ساتھی کا کردار بھی نبھا رہی تھیں—وہ رات کو والد کے بستر کے ساتھ بیٹھ کر آرام دہ گفتگو کرتی، تجویز کردہ دوا کے ساتھ نرم ہنسی و مسکراہٹ بھی سنوارتی رہتی تھیں۔ یہ احساس کہاں سے آتا تھا؟ شاید محبت کا رنگ، شاید انسانیت کا لمس—جو ہر مریض کے دل کو شفا دیتا ہے۔

محبت سے ملتی ہے دوا

روزانہ نس نس میں امید کا سانس بھرتے ہوئے وہ کہتی تھیں: “انہوں نے میں نے آپ کے شوہر کے ساتھ نکاح کیا ہے، یہ صرف رسمی نام نہیں—یہ حلف ہے، ایک عہد ہے۔” اس عہد نے والد کو ایک مخصوص طاقت سے نوازا۔ صرف جسم کا علاج نہیں ہو رہا تھا؛ روح کا بھی ٹھیک علاج ہو رہا تھا۔ والد نے گویا یہ بھی پہچان لیا: “انہوں نے میری شادی کر کے میری زندگی واپس دی ہے”۔

دو دن کے اندر معجزہ

جب سے نکاح ہوا، والد دو دن میں صحت یاب ہونے لگے—اسی دو دن میں بخار میں کمی ہوئی، قوتِ برداشت بڑھ گئی۔ اس نرالے اقدام نے خاندان کو حیران کر دیا، اور شاید ایسا شفا بخش علاج ساری زندگی نہیں ملا ہوگا۔

گھر میں تبدیلی

ایک دو دن بعد، جب آپ اچانک والد کے کمرے میں داخل ہوتے ہیں، آپ انہیں ڈاکٹر کے ساتھ گفتگو کرتے پاتے ہیں۔ ڈاکٹر والد کے ہاتھ تھامے، ایسی شفقت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی ہوتی ہیں کہ جیسے یہ محبت کی پہلی شب ہو—ایک نئی راہ، ایک نئی شروعات۔

محبت کی دوا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں