265

مِری ذات ذرّہِ بے نشاں

تحریر شئیر کریں

مِری ذات ذرّہِ بے نشاں

قِسط وار کہانی

از قلم ساجدہ بتول

قِسط 8

”بس! ہو گٸی بولتی بند !“ لڑکی کی ماں چمک کر بولی ۔
”وہ دراَصل دُوسرے شہر گیا ہوا ہے “ ساس بِالآخر بات بنانے میں کامیاب ہو ہی گٸی ۔
”واہ واہ! اچھا پردہ ہے تمہارے جھوٹ پہ ۔ “
بات ختم ہوتے ہوتے دوبارہ شروع ہو رہی تھی ۔ مردُود لڑکے کے دماغ میں سے نکل کر فورًا لڑکی کی ماں کے دماغ میں گُھس گیا ۔


”تُم کہو! تمہاری بیٹی کا بھی ایک لڑکے سے چکر ہے ۔ “
”نہیں نہیں ۔“ وہ عورت فورًا بولی ”مُجھے اپنی بیٹی کا گھر بسانا ہے ۔ اجاڑنا نہیں ۔“

”مردُود اب تھک چکا تھا ۔ بے بس ہو کر واپس نکل آیا ۔“

”خیر! ابھی میں شام تک یہیں ہُوں ۔ تم لوگ میری بیٹی کو جُوس پلاٶ اور اچھا سا کھانا کھِلاٶ ۔۔۔ اور خبردار جو اب کِسی نے اِسے ڈانٹا بھی ۔ “ مار کھانے والی لڑکی کی ماں نے کہا ۔


”ٹھٹھ ٹھیک ہے ۔ “ یہ لڑکی کا شوہر تھا ۔
”ساس نے اِس پر اُسے گُھور کے دیکھا مگر کُچھ کہہ نہ سکی ۔۔۔ لڑکا کان دباتا ہوا جُوس لینے کے لیے گھر سے باہر نکل گیا ۔


”اندر چلو بیٹی! “ سُسّر نے مار کھانے والی لڑکی کے سر پہ ہاتھ رکھا اور اُس کی ماں اُس کا ہاتھ پکڑے اسے اس کے کمرے میں لے جانے لگی ۔


”یہ تو کچھ بھی نہ ہوا ۔ مردُود نے مایُوسی اور بے چارگی سے سوچا اور نہ چاہتے ہوٸے بھی اڑ کر وہاں سے باہر نکل آیا ۔ وہ اپنا پُورا زور لگا چکا تھا مگر اُس کے زور کے آگے دو عورتیں ڈٹ گٸی تھیں اور فساد مچانے والی نے خُود ہار مان لی تھی ۔
مردُود کی آج کی پروگریس رپورٹ میں بس دو لاتیں ، ایک مُکّہ اور ایک جھوٹ ہی تھا ۔
”میں بھی پاگل ہوں ۔ عورتوں سے بڑی غلطیاں کروانے کی کوشِش کر رہا ہوں ۔ یہ تو خُود مجبُور ہوتی ہیں ۔ اور رہے مرد ، وہ ان کی وجہ سے ہی کچھ زیادہ برا نہیں کر سکتے ۔ اب تو بس کوٸی ایسا لڑکا پھانسنا ہے جو اُتاٶلا ہو ۔ کِسی عورت سے مشورہ کیے بغیر ہی میری بات فورا مان لے ۔ “

اُس نے سوچا اور اپنے مخصوص بیت الخلاء میں آ گیا ۔ وہ کافی تھک گیا تھا لہٰذہ لیٹتے پی خراٹے مارنے لگا تھا ۔
اگلے دن صبح ہی اس نے کوشش شروع کر دی تھی ۔ کل والے مناظر سوچتے ہُوٸے اُس کا سر آگ کا بن گیا ۔ ”ہونہہ! غلیظ چھپکلیاں ۔ سارا کام عورتیں ہی خراب کرتی ہیں ۔ “
اُس کے ذہن میں ایک ترکیب آٸی اور وہ اڑنے لگا ۔

(جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں