قسط وار کہانی
مِری ذات ذرّہِ بے نِشاں
از قلم ساجدہ بتول
قسط 5
”ایک ہمارا زمانہ تھا ۔ سب کام خیر خیریت سے ہو جاتے تھے ۔ مگر آج کل کی لڑکیوں سے تو کچھ سنبھلتا ہی نہیں ہے ۔“ ساس نے کہا ۔
”شاباش“ مردُود نے فورًا اس کی پیٹھ پہ تھپکی دی ۔
”بھٸی ہماری ماٸیں بھی ساتھ ہاتھ بٹاتی تھیں ۔“ عمر رسیدہ شخص نے کہا ۔
”آپ بھی بس دوسروں کی طرف داری کیا کریں ۔ “ ساس کا مُنہ پھول گیا ۔
مردود کو اب ساس پہ غصہ آ رہا تھا کہ وہ غصّے میں مزید کیوں کچھ نہیں کہہ رہی!
اسی وقت ایک جوان شخص اندر داخل ہوا ۔ کم عُمر نوجوان اب اس کی طرف متوجّہ ہو گیا ۔ بچوں نے اب پورے صحن میں دھما چوکڑی مچا رکھی تھی ۔ لڑکی بچے کا ڈاٸپر تبدیل کروا کر اسے اٹھاٸے کچن میں داخل ہوٸی اور اس کا دودھ کا فیڈر تیار کرنے لگی ۔۔ اسے یونیفارم دھونے کی فکر کے ساتھ ساتھ اب روٹی پکانے کی فکر بھی ستانے لگی تھی ۔
”اُف ابھی مچھلی بھی فراٸی کرنا ہے ۔ “ اُس نے بوکھلاتے ہُوٸے سوچا ”چار بچے ، شوہر ، وقت بے وقت آ دھمکنے والے نند اور دیور ۔ ساس اور سسر ۔۔ اِتنے لوگوں کو مَیں اکیلی پال رہی ہوں ۔ پھر بھی اگر ذرا سی کوٸی اُونچ نیچ ہو جاٸے تو امّاں راٸی کا پہاڑ بنا دیا کرتی ہیں ۔ “
”تُم جواب میں پہاڑوں کی لاٸن لگا دیا کرو ۔ “ مردُود نے آخر انگلی لگا ہی دی ۔
”میرے شوہر میری گردن مروڑ دیں گے اگر میں نے ایسا کیا ۔ ابھی اچھاٸیاں کر کے ہی جان مصیبت میں اٹکی ہوٸی ہے ۔ بُراٸی کی تو پھر اللّٰہ ہی حافِظ ہے ۔“
”اُوٸی “ مردوُد چیخ مار کر اس کے دماغ میں سے نکل گیا کیونکہ لڑکی نے بے ارادہ ہی سہی ، اللّٰہ کا نام جو لے دیا تھا ۔ “
اب وہ ایک طرف کھڑا حسرت سے پریشر ککر اور مسالے لگی مچھلی کو دیکھ رہا تھا ۔ اس نے تو انگلی لگا کر ہی تباہی مچنے کا خواب دیکھا تھا مگر یہاں دال گلتی نظر ہی نہ آ رہی تھی ۔۔۔ کیونکہ وہ کل جل گٸی تھی ۔
”گھٹیا ترین کام ۔۔۔ گھٹیا ترین کام “ وہ چیف کے الفاظ کی گردان کرنے لگا ۔ ”آخر ایسا کون سا کام ہو اور کیسے سر زد ہو! یہ محتاط قسم کی لڑکیاں ایسا کوٸی کام ہونے بھی دیں گی کیا!“
دھوٸیں کی شکل میں سوالیہ نشان بنا وہ بے بس ہو کر وہاں سے بھی نکل آیا ۔ بھوک کی وجہ سے اس کی اڑنے کی رفتار کم ہو گٸی تھی ۔ اگرچہ وہ اپنی فطری تیز اڑان کی وجہ سے انتہاٸی تیز اڑتا تھا۔
اُسے کچھ معلوم نہ تھا کہ آنے والے وقت میں اس کی وجہ سے پورے ملک میں ایک نیا مسٸلہ سوال بن کر کھڑا ہونے والا ہے اور لوگوں کے ذہن منتشر ہونے ہی والے ہیں ۔
کچھ دیر بعد وہ ایک اور گھر میں اُتر گیا ۔
سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی آنکھوں میں چمک آ گٸی ۔ اُسے امّید کا اندھیرا نظر آ گیا تھا ۔ یہاں سب کچھ اُسے اپنے حق میں محسوس ہو رہا تھا ۔
ایک کونے میں ایک لڑکی فرش پہ سُکڑی سِمٹی بیٹھی تھی ۔ اس کے سامنے دو مرد اور تین عورتیں غصّے سے تنے کھڑے تھے ۔ اچانک مرد کی لات بلند ہوٸی اور لڑکی کے پیٹ میں لگی ۔ ”تف ہے مجھ پر جو تمہیں بیاہ کر لایا ۔ تمہیں بیوی کہتے ہوٸے مُجھے شرم آتی ہے ۔“
لڑکی کراہ کر پیچھے کو گر گٸی ۔
(جاری ہے)مِری ذات ذرّہِ بے نِشاں