482

میری ذات ذرہ بے نشاں

تحریر شئیر کریں

میری ذات ذرہ بے نشاں

قسط وار کہانی

از قلم ساجدہ بتول

قسط 2

”سنو او بد بخت شیطانو! تم سب کے سب مر جاٶ“
یہ اس کا مخاطب کرنے کا انداز تھا ۔
”تم بھی مرو ۔ کمینے! بد ذات! “
عادت کے مطابق سب شیاطین اسے بد دعاٸیں دینے لگے تھے ۔“
”سنو او خبیثو! تم سب کو ایک کام دیا جا رہا ہے ۔ تم سب زمانہ جاہلیت جیسا کوٸی کام کرنے کی کوشش کرو ۔ جس کا کام سب سے گھٹیا ہوا ، اس کو ترقی دلا دی جاٸے گی ۔ گندے نالے کے وسط والی بڑی کرسی اس کو دے دی جاٸے گی ۔“
اس کے بعد وہ سب ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہوٸے رخصت ہو گٸے تھے ۔ وہاں سے نکلتے ہی مردود ایک محلے میں چلا آیا تھا ۔ وہ اس وقت ایک سیاہ ہیولے کی شکل میں تھا ۔ اڑتے ہوٸے وہ کھلی کھڑکی سے اندر داخل ہُوا ۔ یہ باورچی خانہ تھا ۔ جس میں ایک عورت ڈرم میں سے آٹا نکال رہی تھی ۔
”آج آٹا مت گوندھو ۔“ اس نے اس کے کان میں سر گوشی کی ۔
”واہ واہ “ وہ طنزیہ مسکراٸی ” آٹا نہ گوندھوں اور شوہر کی ڈانٹ کھاٶں! جاٶ بھٸی جاٶ “
وہ مایوس ہو کر وہاں سے نکل آیا کیونکہ وہ کسی کی سوچ کے مطابق ہی اس سے کوٸی کام کروا سکتا تھا ۔
ساتھ والے گھر کی دیوار کے اوپر سے اڑ کر وہ اس دوسرے گھر میں داخل ہو گیا ۔ سامنے ہی دو لڑکیاں کپڑے دھو رہی تھیں ۔ ایک واشنگ مشین میں سے کپڑے نکال رہی تھی ۔ دوسری کھنگال رہی تھی ۔
وہ ایک کے کان کے قریب ہوا ”چھوڑو ان کپڑوں کو ۔ جا کے ٹی وی دیکھو “
”اور پھر اماں سے مار کھاٶں؟ جو پہلے ہی سسرال کا نام لے لے کے ڈراتی رہتی ہیں ۔“
مردود ذرا سا کھسیانہ ہوا لیکن پھر حوصلہ کر کے دوسری کے پاس گیا ۔ ”دنیا چاند پہ پہنچ گٸی مگر تم ابھی تک گھر کے کاموں میں الجھی ہو ۔ چھوڑو ان کپڑوں کو ۔ منہ ہاتھ دھو کے اچھے سے کپڑے پہنو ۔ کسی پارلر میں جا کر بالوں کی کٹنگ کرواٶ اور خوب گھومو پھرو ۔ انجواٸے کرو ۔ “
”میرا اماں کے جوتے کھانے کا کوٸی ارادہ نہیں ۔ “ اس نے بھی اسے ٹھینگا دکھا دیا تھا ۔
وہ وہاں سے نکل آیا تھا ۔ جلد ہی وہ ایک اور گھر میں تھا ۔ یہاں کا منظر اسے اپنے حق میں محسوس ہو رہا تھا ۔ سامنے ہی ٹی وی چل رہا تھا ۔ ایک شخص کوٸی ڈرامہ دیکھ رہا تھا ۔ کچن سے پریشر ککر کی سیٹی کی آواز سناٸی دے رہی ۔تھی اچانک شوں کی آواز سناٸی دی ۔ یعنی سیٹی اتار دی گٸی تھی ۔ اسی وقت ایک عورت کچن سے باہر نکلی ۔
”چلو ناں! تم بھی چل کر ڈرامہ دیکھو ۔ “
اس عورت کی آہ نکلی ۔”مدت ہوٸی ڈرامے دیکھے ہوٸے ۔ اب تو گھر کی ذمہ داریاں ہی بے تحاشا ہیں ۔ جب تک حذیفہ اور مناہل نہیں تھے تو ایک آدھ ڈرامہ دیکھ لیتی تھی مگر یہ دونوں جڑواں ہی چلے آٸے ۔ اب بس انہی کی ڈرامے دیکھتی ہوں ۔ “
مردود کی آہ نکلی ۔

(جاری ہے )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں