
یہ سردیاں پھر سے آئی ہیں
مگر تم بن۔۔۔!
اب کے مطلع تو ابرآلود ہے لیکن
تمہاری فکر کا وہ سائبان کہیں نظر نہیں آتا۔
تمہیں یاد ہے؟
تمہاری وہ والہانہ فکر مندی۔۔۔
“کہیں بجلی نہ چلی جائے”
“کہیں چھت نہ ٹپکنے لگے”
کچن کے راستے آتے پانی کو روکنے کی تگ و دو
اور چھجے سے گرتی بوندوں کا وہ خوف
کہ کہیں نیچے پڑا فریج گیلا نہ ہو جائے!
کتنی فکر تھی تمہیں اس گھر کی، اس ایک ایک سامان کی
جیسے یہ بے جان چیزیں نہیں، تمہارا مان ہوں!
بارش آنے کی پیش گوئیاں
تمہارے چہرے پر لکھی ہوتی تھیں
وہ گیلی مٹی کی خوشبو ہو یا ہوا میں نمی کا احساس
تم فوراً چائے بنانے لگتے تھے
پھر ہم دونوں ایک ساتھ
گرم چائے کے گھونٹ بھرتے تھے
اور تمہاری ہر فکر
اس بھاپ میں تحلیل ہو جاتی تھی
جب تک مینہ برستا رہتا
تم چھت پر پہرہ دیتے پھرتے تھے
اور جیسے ہی رم جھم تھمتی
میں جھاڑو اٹھاتی تو تم فوراً پوچھا پکڑ لیتے
تمہیں تو مٹی سے الرجی تھی ناں!
ذرا سی دھول تمہارا سانس بھاری کر دیتی تھی
مگر گھر چمکانے کی دھن میں تم سب بھول جاتے تھے۔
اور آج۔۔۔
تم اسی مٹی کی چادر اوڑھے سو رہے ہو
خاموش، بے فکر، گہری نیند میں!
آج جب باہر بوندیں گر رہی ہیں
تو میرا دل اس خیال سے لرز جاتا ہے
کہ تمہارے اس “ابدی گھر” کی چھت
کہیں ٹپکتی تو نہ ہوگی؟
اگر وہاں پانی اتر آیا
تو تمہیں کون دیکھے گا؟
تمہاری مٹی کون صاف کرے گا؟
یہ سیزن کی پہلی بارش
میرے اندر ایک عجب ٹھنڈک بھر گئی ہے
تمہاری فکریں اب میری دعائیں بن گئی ہیں
تمہارے بن یہ سردیاں ادھوری ہیں
مگر تمہاری یادوں کی تپش
آج بھی میرے وجود کو گرم رکھتی ہے۔
اللہ پاک ,میرے شریکِ حیات کی قبر کو نور سے بھر دے اور مجرے دل کو وہ سکون دے جو صرف وہی ذات دے سکتی ہے۔امین
نظم: بارش، تم اور سردیاں