نکتے کی بات کہانی ہے جو ہم سب کے لیے ہے۔
ام محمد سلمان
یہ ان دنوں کی بات ہے جب دیورانی کی تینوں بچیاں میرے پاس قرآن مجید پڑھنے آیا کرتی تھیں۔ میری عادت تھی کہ دورانِ سبق جب بھی کوئی قرآنی دعا آتی تو ایک دو بار ترجمہ اور مختصر تشریح سمجھا کے دعا انھیں زبانی یاد کروا دیتی تھی تاکہ ساتھ ساتھ قرآنی دعائیں بھی یاد ہوتی رہیں۔ اسی طرح جمعہ کے دن خاص طور پہ درود شریف پڑھوایا کرتی تاکہ ابھی سے عادت پختہ ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت دل میں بیٹھے۔
شوق و رغبت دلانے کے لیے حدیث بھی سنا دیا کرتی.
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے، اس دن کثرت سے درود پڑھا کرو، کیوں کہ تمہارا درود مجھے پہنچایا جاتا ہے“۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ)
سمجھ آئی بات!! جو بچے درود شریف پڑھتے ہیں ان کا درود فرشتے لے جاتے ہیں نبی علیہ السلام کے پاس۔
”ہیییییں تائی امی!! کیا واقعی؟“
”میرا نام بھی بتاتے ہیں فرشتے کہ یہ درود شریف عشمل نے بھیجا ہے؟“
گاہے گاہے نہایت ہی شوق و عقیدت سے یہ سوال پوچھا جاتا تھا…
میں بھی اللہ تعالیٰ سے قوی حسن ظن رکھتے ہوئے کہہ دیا کرتی کہ ضرور بتاتے ہوں گے بھئی… نام بھی لیتے ہوں گے درود بھیجنے والے کا۔
(ان چٹاخ پٹاخ بچوں کو مطمئن کرنا بھی تو ضروری ہوتا ہے۔)
ایک دن میں انھیں سبق پڑھا رہی تھی جب سورہ بنی اسرائیل کی یہ آیت سامنے آ گئی
و قل رب ارحمھما کما ربینی صغیرا
اچھا بچو! یہ بہت پیاری دعا بتائی ہے اللہ تعالیٰ نے کہ میرے بندے اپنے والدین کے لیے اس طرح دعا کیا کریں… دعا کا
مطلب ہے کہ:
”اے رب! ہمارے والدین پر اپنی رحمت و شفقت فرما جیسے بچپن میں انھوں نے مجھے پیار محبت سے پالا ہے۔“
والدین بہت پیار کرتے ہیں ناں اپنی اولاد سے۔ آپ لوگ تو خیر اب بڑی ہو گئیں لیکن مریم تو ابھی چھوٹی ہے ناں..!
دیکھا… مما کیسے اس کا خیال رکھتی ہیں، گود میں اٹھائے پھرتی ہیں، کتنا پیار کرتی ہیں اسے۔
میں نے یہ بات کہہ کے مسکرا کے بچیوں کی طرف دیکھا تو سدرہ میری طرف بڑی عجیب سی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ ایسی نظر جس میں درد تھا، تکلیف تھی، احتجاج تھا، شکایت تھی….!! تھوڑی دیر وہ اسی طرح مجھے دیکھتی رہی پھر آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ مجھے اس کی معصومیت پہ پیار آ گیا۔
کیا بات ہے سدرہ! آپ کو اعتراض ہے کچھ؟ سدرہ تو کچھ نہیں بولی مگر اس سے بڑی سُمیکہ ہنس کر کہنے لگی..”تائی امی اس کو مما سے مار بہت پڑتی ہے نا..“
مجھے بھی یہ بات معلوم تھی ڈھکی چھپی نہ تھی۔ اوپر نیچے تو گھر تھے ہمارے، رات دن کا ساتھ تھا۔ اکثر بچے ماؤں کی ڈانٹ پھٹکار اور مار سہتے ہی ہیں۔ کون سی نئی بات تھی۔
مگر قرآن میں یہ ذکر سن کر کہ والدین اپنے بچوں کو کتنی شفقت سے پالتے ہیں، بچی کو اپنے سارے دکھ یاد آ گئے تھے شاید… اب یہ رونا اللہ کے حضور تھا کہ میری مما تو مارتی بہت ہیں، چیختی ہیں، ہر وقت ڈانٹتی ہیں۔
خیال گزرا بچی کے دل میں ماں کے لیے کوئی منفی جذبہ نہ بیٹھ جائے… اس لیے اس کی تھوڑی سی برین واشنگ کرنا ضروری سمجھا۔
اچھا یہ بتاؤ بیٹا.. آپ کو شکایت ہے کہ مما مارتی بہت ہیں اور پیار نہیں کرتیں؟
اس نے اثبات میں گردن ہلا دی!
آپ کو یہ بھی لگتا ہے کہ مما نے آپ کو شفقت اور محبت سے نہیں پالا؟
اس بار بھی جواب سر جھکا کر خاموشی کے ساتھ دیا گیا۔
ہمممم!! تو یہ بات ہے۔
اچھا بچو مجھے ایک بات بتاؤ۔
آپ کے لیے کھانا کون بناتا ہے؟ صبح اسکول بھیجتے ہوئے آپ کے ناشتے، یونیفارم، بستے اور جوتوں کا خیال کر کے وقت پہ سب کچھ تیار کر کے کون دیتا ہے؟
”مما دیتی ہیں،“ تینوں نے یک زبان ہو کر کہا.
اور جب کبھی آپ میں سے کوئی بیمار ہو جاتا ہے تو کون خیال کرتا ہے؟ ڈاکٹر کے پاس کون لے جاتا ہے، وقت پر دوا کون پلاتا ہے؟
”مما بھی اور پاپا بھی، دونوں مل کے کرتے ہیں.“
اچھا.. اور یہ ہر دوسرے روز آپ لوگوں کو نہلا دھلا کے، بالوں میں شیمپو کر کے، کنگھی کر کے صاف ستھرے کپڑے کون پہناتا ہے؟
”مما کرتی ہیں سب“، پھر سے یک زبان ہو کر جواب دیا۔
اچھا اپنے کپڑے آپ لوگ خود دھوتی ہیں یا مما دھو کر دیتی ہیں؟
”مما دھوتی ہیں.“
اور جب آپ اسکول سے تھکی ہاری اور بھوک سے بلکتی ہوئی آتی ہیں تو کون آپ کے لیے کھانا تیار کر کے کھلاتا ہے؟
”مما کھلاتی ہیں تائی امی! چپس بھی بناتی ہیں اور اسنیکس بھی بنا کے دیتی ہیں.“ اس بار عشمل بڑے جوش و خروش سے بولی۔
نکتے کی بات جاری ہے
اب ذرا سوچو بیٹا.. اگر مما گھر پر نہ ہوں تو کون آپ کے لیے یہ سب کچھ کرے؟
کوئی دوسرا کرے گا کیا؟ اور اگر کر بھی لے گا تو کتنے دن؟
یہ تو ماں باپ ہی ہیں نا جو روزانہ کی ذمے داریاں نبھاتے ہیں۔ آپ کی ساری ضرورتیں پوری کرتے ہیں۔ میں نے خاموش ہو کر ان کی طرف دیکھا…
لوہا بہت حد تک نرم ہو چکا تھا، چہروں کے تاثرات بدل رہے تھے۔
اور صرف یہی نہیں بیٹا! سوچنا چاہیے کہ انسان کے بچے جانوروں کے بچوں کی طرح نہیں ہوتے کہ پیدا ہوتے ہی اٹھ کھڑے ہوئے اور چلنے پھرنے لگے۔
انسان کے بچے تو بہت نازک ہوتے ہیں، چل پھر نہیں سکتے، کھا پی نہیں سکتے، اپنا کوئی کام خود نہیں کر سکتے، ان کا پیشاب پاخانہ سب کچھ ماں ہی کرتی ہے۔
گود میں رہتے ہیں۔ ہر چیز میں والدین کے محتاج ہوتے ہیں۔ ماں راتوں کو جاگ جاگ کے روتے بچے کو چپ کراتی ہے، دودھ پلاتی ہے، بستر تبدیل کرتی ہے۔ بیمار ہو جائے تو ہتھیلی کا چھالا بنا لیتی ہے۔ اس کی خدمت اور دوا دارو میں لگی رہتی ہے۔ اس کے سونے جاگنے کھانے پینے ہر چیز کا خیال رکھتی ہے۔ صفائی ستھرائی کرتی ہے۔ گندا نہیں چھوڑتی، خوشبوؤں میں بسا کے رکھتی ہے۔ بھلا ماں کے سوا ایسی بے لوث اور مستقل محبت اور کون کرتا ہے؟
نکتے کی بات جاری ہے
جب آپ کا کسی سے جھگڑا ہوتا ہے یا کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو کون سینے سے لگا کر پیار کرتا اور تسلی دیتا ہے؟
والدین ہی ہوتے ہیں نا.. خاص طور پہ ماں!!
ہے کہ نہیں؟؟
”جی تائی امی! آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں. مما ہمارا بہت خیال رکھتی ہیں۔ لیکن وہ مارتی بھی تو ہیں، ہر وقت ڈانٹتی کیوں ہیں؟ مجھے بہت برا لگتا ہے۔“
”بیٹا جی! مائیں خواہ مخواہ تو نہیں ڈانٹتی ہیں بچوں کو۔ آپ بھی تو ضد کرتی ہیں، ان کا کہنا نہیں مانتیں۔ اگر پہلی دوسری دفعہ کہنے پر ہی آپ ان کی بات سن لیں تو بھلا کیوں ان کے چیخنے کی نوبت آئے!!!“
”مما بھی تو ہماری بات نہیں مانتی ہیں، باہر کھیلنے بھی نہیں دیتیں دوستوں کے ساتھ.“
”بیٹا جی! مما نے آپ کی کچھ فرمائشیں پوری نہیں کیں یا کہیں جانے کے لیے منع کر دیا تو بچوں کو لگتا ہے کہ ان پر بہت ظلم ہو گیا. حالانکہ یہ سب کچھ آپ کی بھلائی کے لیے ہوتا ہے. یہ بچوں سے دشمنی یا ان پر ظلم نہیں ہے، اس میں خود بچوں کی بھلائی ہوتی ہے اس بات کو سمجھیں۔
ماں کی ذمے داریوں کا احساس کریں… ایک ماں کے لیے سارے گھر کے کام کاج کرنا، بچوں کی پرورش و تربیت کرنا، خود اپنا اور میاں کا خیال کرنا، رشتے داروں کو دیکھنا… اپنی دیگر ضروریات بھی پوری کرنا.. یہ سب کچھ آسان تو نہیں ہوتا۔ آپ سب لوگ تو صبح صبح گھر سے چلے جاتے ہو، پیچھے ایک دو چھوٹے بچوں کے ساتھ اکیلی ماں کے لیے پورا گھر سنبھالنا، کھانا تیار کرنا، کپڑے دھونا… کچھ آسان تو نہیں ہوتا۔
یہ ماں کی شفقت ہی تو ہے کہ وہ بچوں کے آنے تک سب کچھ تیار کر کے رکھتی ہے، گھر بھی صاف اور کھانا بھی تیار…!!
آپ لوگوں کو تو چاہیے کہ جتنا ہو سکے مما کی مدد کریں۔ نہ کہ الٹا انھیں تنگ کریں، ٹی وی اور موبائل میں لگی رہیں۔ وہ کسی کام کا کہیں تو سنی ان سنی کر دیں۔
جب آپ ان کا خیال کریں گی، پہلی آواز میں ان کا کہنا مانیں گی تو انھیں ڈانٹنے اور مارنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ پھر وہ آپ سے پیار بھی خوب کریں گی.. جیسے مریم رانی سے کرتی ہیں۔
ہے ناں مریم!!!“
”جی تائی امی!!“ وہ شوخی سے مسکرائی، جو ہر وقت مما کی مار کی شکایتیں لے کر آ رہی ہوتی تھی وہ بھی اس وقت ماں کی ممتا کے احساس میں مکمل ڈوبی ہوئی تھی۔
اچھا بچو!! اب . نکتے کی بات سمجھ آ گئی کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی دعا کیوں بتائی ہمیں…. اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایک بات سمجھا رہے ہیں کہ جیسے بچپن میں بچے والدین کی انتہائی نگہداشت کے محتاج ہوتے ہیں اور والدین ان کو پیار محبت سے پالتے ہیں، خیال کرتے ہیں، ہر ضرورت پوری کرتے ہیں اور ہر نقصان سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں تو بالکل اسی طرح ان کے لیے دعا کریں کہ ان کے بیش بہا احسانات کا پورا پورا بدلہ چکانا ہمارے بس میں ہے ہی نہیں، ہم ان کی کتنی بھی خدمتیں کر لیں، پھر بھی ان کے احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتے۔ اس لیے اے اللہ! اے ہمارے رب!! تو بالکل اسی طرح ان پر شفقت فرما جیسے بچپن میں والدین اپنی اولاد کو رحمت و شفقت سے پالتے ہیں۔
کہ نہ صرف ان کو کھلاتے پلاتے، سردی گرمی سے بچاتے ہیں بلکہ ہر نقصان دینے والی چیز سے انھیں دور رکھتے ہیں. چھری، چاقو، گرم چائے، گرم کھانا، آگ، چولہا، پانی کی بھری بالٹی…. اس طرح کی ہر چیز سے اپنے بچوں کو بچاتے ہیں۔ اپنی طرف سے کوئی نقصان نہیں پہنچنے دیتے بالکل اسی طرح
اے اللہ! آپ بھی ان کے حال پر رحم فرمائیے، ان کی خدمات کا بھرپور بدلہ دیجیے، انھیں دنیا و آخرت کے ہر نقصان سے بچائیے۔ جب میں بالکل لاچار ایک چھوٹا سا بچہ تھا، کچھ نہیں جانتا تھا تو انھوں نے مجھے سب کچھ سکھایا، میری ہر طرح سے حفاظت کی، ہر موذی کے شر سے بچایا، اپنی دعاؤں کے حصار میں رکھا۔
اے رب! بالکل اسی طرح میرے والدین کی حفاظت کیجیے، ان کے اندر جو کمی کوتاہیاں ہیں انھیں دور فرما دیجیے، ان کی ساری ضرورتوں کو پورا فرما دیجیے (جیسے بچپن میں وہ میری ہر ضرورت میرے کہے بنا جان لیا کرتے تھے) انھیں اپنے دین کی اعلیٰ اقدار سکھا دیجیے۔ ان پر ایسی رحمت کیجیے جو آپ کے سوا کوئی اور کر ہی نہیں سکتا..!!!
نکتے کی بات یہ
اللہ کریم نے اس دعا میں ایک بہت لطیف نکتہ سمجھایا ہے کہ جیسے نیا پیدا ہوا بچہ کافی مدت تک کلی طور پہ والدین کا محتاج ہوتا ہے بالکل اسی طرح بڑھاپے میں والدین اولاد کے محتاج ہو جاتے ہیں۔ اولاد کو احساس دلایا ہے کہ ان کی خدمت کو خود پر بوجھ نہ سمجھنا، اس وقت کو یاد کر لینا جب تم پنگھوڑے میں پڑے ان کی شفقت اور رحم و کرم کے محتاج تھے۔
بچوں کی کہانی تو یہاں ختم ہوئی مگر حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے والدین خاص طور پہ ماں کے دل میں اولاد کے لیے رحمت و شفقت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر رکھا ہے. اسی لیے پرورش و تربیت کی ذمے داری بھی زیادہ تر اسی پر ہے۔
یہ ایک بہت بڑا فریضہ ہے۔ اولاد کی دینی تربیت کے اصول سیکھیے۔ انھیں دین سکھا دیجیے، یہ آپ کی دنیا و آخرت سنوار دیں گے۔
اس کے ساتھ ہی ماؤں سے ایک درد مندانہ گزارش ہے اپنے بچوں کی تربیت مار پیٹ اور طعن تشنیع سے نہ کریں۔ یہ نازک پھول ہیں، طعنوں سے ہی مرجھا جاتے ہیں۔ یہ کبھی تنگ کریں تو انھیں سامنے بٹھا کر نرمی سے بات چیت کریں، انھیں بات سمجھانے کی کوشش کریں۔ یقین کریں بچے آپ کی ہر بات سمجھیں گے اور مانیں گے۔
ان معصوم پھولوں کو سینے سے لگا کر رب العالمین کی بارگاہ میں دعا کیا کریں کہ ان کا حال درست فرما دے، انھیں ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے۔
رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا. (۷۴) سورۃ الفرقان
“اے ہمارے رب! ہماری بیویوں اور ہماری اولاد سے ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرمااور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا دے!!”
آمین یا رب العالمین.
========
نکتے کی بات آپ نے پڑھی ْپ کو کیسی لگی اور کیا سیکھا؟