1258ء کی ایک سرد، سیاہ رات تھی۔ بغداد کے آسمان پر نہ چاند تھا نہ ستارے۔ دجلہ کے پانیوں میں جلی ہوئی کتابوں کی سیاہی گھلی ہوئی تھی، اور فضاء میں علم، تہذیب اور انسانیت کے جنازے کی خاموش گونج تھی۔
شہر کے ایک گوشے میں، مسجد کے تہہ خانے میں، چند بچ جانے والے سہمے بیٹھے تھے۔ ایک بوڑھا محدث، ایک نوجوان فقیہ، ایک زخمی سپاہی، ایک یتیم لڑکی۔ باہر ہلاکو خان کی منگول فوجیں شہر کو روند رہی تھیں، مگر تہہ خانے میں وقت جیسے رک گیا تھا۔
بوڑھے محدث نے نگاہیں جھکائیں، قرآن کی ایک بچی کھچی جلد کو سینے سے لگایا اور دھیرے سے کہا،
“ہمیں جگانے آیا ہے… وہ ہلاکو…”
نوجوان فقیہ نے چونک کر پوچھا، “استاد! وہ جو قتل عام کر رہا ہے، وہ ہمیں جگانے آیا ہے؟”
محدث نے سرد آہ بھری، “ہاں، بیٹا۔ کیونکہ امت سو رہی تھی۔ فرقوں میں بٹی، علم سے منہ موڑے، دنیا کی چمک میں کھوئی… خلافت ایک رسمی نام رہ گئی تھی۔ اور جب امت جاگتی نہیں، تو اللہ کسی ہلاکو کو بھیج دیتا ہے۔”
سپاہی نے دانت بھینچے، “ہم نے تلواریں تیز نہیں کیں، کتابیں جلا ڈالیں، اور دشمن کے آنے کا انتظار کرتے رہے۔”
اسی لمحے باہر ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ در و دیوار کانپ اٹھے۔ یتیم بچی نے لرزتی آواز میں پوچھا، “کیا اب ہم بچے رہیں گے؟”
محدث نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، “اگر ہماری روح بچ گئی، اگر ہماری سوچ جاگ گئی، تو ہم بچ گئے۔”
قرونِ وسطیٰ کا اندھیرا آج بھی چمکتا ہے۔
کئی صدیاں بیت گئیں۔ بغداد دوبارہ بسا۔ مگر امتِ مسلمہ کا وہ زخم آج بھی ناسور بنا ہوا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج ہلاکو خان گھوڑے پر نہیں، ڈرون پر سوار ہے۔ وہ تلوار سے نہیں، معیشت، میڈیا، اور نظریاتی یلغار سے حملہ کرتا ہے۔ اور ہم؟ ہم آج بھی ویسے ہی سو رہے ہیں۔
کہیں مسجد میں بلند آواز سے مناظرے ہو رہے ہیں، کہیں یوٹیوب پر فتوے چل رہے ہیں، اور کہیں مدارس و جامعات میں آج بھی بحث ہے کہ کس کا عقیدہ خالص تر ہے۔ جدید ٹیکنالوجی؟ مصنوعی ذہانت؟ سٹیلائٹ ڈیفنس سسٹمز؟ ان پر بات کرنا بدعت ٹھہرتی ہے۔
ایک مسلم ملک کے کیڈٹ کالج کا طالبعلم، حسان، اپنے پروجیکٹ کے لیے جب ڈرون ٹیکنالوجی پر مقالہ لے کر آیا تو اسے طنزیہ جملے سننے کو ملے:
“پہلے عقیدہ درست کر لو، پھر ٹیکنالوجی کی بات کرنا۔”
اور وہ سوچتا رہ گیا،
“کیا آج بھی ہم ہلاکو کا انتظار کر رہے ہیں؟”
تاریخ کا چکر بہت بے رحم ہے۔
ہلاکو آیا، بغداد جلا، امت کا غرور خاک ہوا۔ مگر اس خاک سے ابنِ تیمیہ، امام ابنِ جوزی، اور کئی مجدد پیدا ہوئے۔ انہوں نے علم کی شمع پھر روشن کی، امت کو بیداری کا پیغام دیا۔ سوال یہ ہے کہ آج کے بغداد کی راکھ سے کون اٹھے گا؟ وہ نوجوان، جو یوٹیوب کی دنیا میں سچ بولنے سے ڈرتا ہے؟ وہ مفکر، جو لفظ “اتحاد” سے پہلے مسلک پوچھتا ہے؟ وہ سیاستدان، جو امت کی نہیں، کرسی کی فکر کرتا ہے؟
بغداد کے تہہ خانے میں چھپے افراد جیسے کردار آج بھی زندہ ہیں۔ وہ جو علم چھپائے بیٹھے ہیں۔ وہ جو خوف کے سائے میں حق سننا چاہتے ہیں۔ مگر ان کا کوئی محدث، کوئی امام، کوئی سچا راہنما نہیں رہا جو کہے:
“جاگو، ہلاکو پھر دروازے پر ہے!”
وقت بدل چکا ہے، مگر مرض وہی ہے۔
آج کے مسلمانوں کے پاس تیل کی دولت ہے، مگر بصیرت کا فقر ہے۔ ہمارے پاس جامعات ہیں، مگر فکرِ رسا نہیں۔ ہم سوشل میڈیا پر “غزوہ ہند” کے خواب تو دکھاتے ہیں، مگر ایک موبائل ایپ خود سے نہیں بنا سکتے۔
یہ افسانہ نہیں، آئینہ ہے۔ جو دکھاتا ہے کہ نیند میں لپٹا ہوا جسم کیسا لگتا ہے—وہ جسم جو عبادت تو کرتا ہے، مگر حرکت سے خالی ہے۔
آج اگر کوئی ہلاکو آئے گا، تو وہ ہمیں خون میں نہیں، مگر ذلت میں نہلائے گا۔ اور جب ہم پوچھیں گے،
“ہم پر یہ کیوں ہوا؟”
تو جواب وہی ہو گا:
“تمہیں جگانے آیا تھا…”
خاتمہ:
افق پر سورج ابھرا۔ تہہ خانے کے باسیوں کی نسلیں اب اس دنیا میں نہیں، مگر ان کی فکری اولاد زندہ ہے—ہر اس دل میں جو امت کے زوال پر روتا ہے، ہر اس ذہن میں جو قرآن کو صرف تلاوت نہیں، عمل سمجھتا ہے۔
اور ہلاکو؟
وہ اب تمہاری غفلت کے ہر سانچے میں چھپا بیٹھا ہے—کب جاگو گے؟