405

واقعہ کربلا کا سبق

تحریر شئیر کریں

واقعہ کربلا کا سبق

دس محرم کا دن ہے جسم۔پسینے سے شرابور اور فضا میں گھٹن ہے عجیب بات ہے دس محرم کا دن گرم ہوتا ہے پتہ نہیں کیوں؟یہ راز ہے جسے اہل اللہ اور اہل علم ہی جان سکتے ہیں

بلاگر ہونا بھی ایک امتحان ہے سید الشہداء پہ لکھنا جہاں اعزاز اور سعادت ہے وہاں اس دور میں جہاں چاروں طرف یزید ہیں ایک کٹھن مرحلہ بھی ہے

کیا آپ جانتے ہیں یزید اور امام حسین رضی اللہ کے درمیان وجہ اختلاف کیا تھا؟

یزید حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا تھا آپ صل اللہ علیہ وسلم کے عہد سے خلافت کا آغاز ہوا تھا وہ جاری و ساری تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور تک آن پہنچا یہاں تک تو خلافت کا نظام جاری و ساری تھا مگر جب خلافت کی باگ دوڑ حضرت امیر معاویہ تک پہنچی تو انھوں نے اپنے بیٹے یزید کو نامزد کیا جو کہ اسلامی شوری کے خلاف تھا یہ ملوکیت ہے کہ فرد واحد اپنے بیٹے کو نامزد کرے جب کہ یہ کام شوری کا تھا یہی سے نظام خلافت کا خاتمہ ہوتا ہے اور ملوکیت کا آغاز

یہ بھی پڑھیے

سیدنا امام حسین ؓ حریت فکر کے علمبردار


حسین ابن علی نے یزید بن معاویہ کی خلافت کو قبول نہیں کیا وہ اسے ناحق سمجھتے تھے۔۔۔اس پہ تبصرہ کرتے ہوئے سید مودودی لکھتے ہیں کہ ان سے کسی نے سوال کیا کہ جب سب نے ہزید کی بیعت کر لی تھی تو حسین ابن علی نے کیوں نہیں کی؟آپ نے کہا سوال ہی غلط ہے جب حسین نے نہیں کی تو باقی سب نے کیوں کی۔۔۔۔

آگے کیا ہوا خون کی جو ہولی کھیلی گئ تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں مگر واقعہ کربلا کا محرک بننے والے عوامل یہ بتاتے ہءں کہ نظام خلافت میں۔جو رخنہ یزید کی تعیناتی سے پڑا تھا آج کے نظام جمہوریت اور نظام ملوکیت کے بگاڑ کی صورت میں چہار سو بکھرا پڑا ہے

اگر آپ اما حسین رضی اللہ عنہ کے راستے پر ہیں تو پھر جان لیں کہ نظام خلافت کے لیے اٹھ کھڑا ہونا آپ کا قولین فرض ہے ورنہ وقت کے یزیدوں نے جو اندھی مچا رکھی ہے وہ سب پہ عیاں ہے جوں جوں وقت گزر رہا ہے توں توں امام حسین رضی اللہ عنہ کا موقف شفاف پانی کی طرح نکھر کر دنیا کے سامنے عیاں ہو رہا ہے ماتم نا گریہ وزاری یہ بہت پیچھے رہ گئے ہیں اب وقت ہے کہ کربلا کے پیغام کو سمجھا جائے اور سمجھایا جائے۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں