433

ویکسینیشن آخری حل

تحریر شئیر کریں

“ویکسینیشن آخری حل

“ابو! آج میم نے کہا پہلے ویکسینیشن کارڈ جمع کرواٸیں پھر تنخواہ ملے گی ورنہ نہیں”
شہیر صاحب اخبار پڑھ رہے تھے جب ماہ نور نے اپنی پریشانی ان کے سامنے رکھی۔
“تو بیٹا لگوالو ویکسین، بلکہ کل میں اپنی بیٹی کو خود لے جاٶں گا ویکسینیشن سینٹر”
انہوں نے مسٸلے کا حل نکالا، پر دوسری طرف ماہ نور کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔
“ابو! میں کیسے؟ مطلب سننے میں تو آرہا ہے کہ جو بھی ویکسین لگواٸے گا، دو سال بعد مرجاٸے گا۔
آج واٹس ایپ گروپ میں میری ایک سہیلی نے اپنے ویکسین کارڈ کی تصویر بھیجی اور کہا میں دو سال بعد مرجاٶں گی اب”
ماہ نور کو سمجھ نہیں آرہی تھی کیسے اتنی آسانی سے ابو نے کہہ دیا کہ ویکسین لگوالو مطلب موت کا پروانہ لے کر آجاٶ۔


“بیٹا! یہ خبر سب سے زیادہ سوشل میڈیا پر ہی گردش کر رہی ہے، جہاں اکثریت منفی باتیں پھیلانے والوں کی ہے۔ جن کا کام ہی یہی ہوتا کہ ہر نٸی، اچھوتی بات کو چٹ پٹا بنا کر لوگوں کے سامنے رکھنا اور پھر ان کے تاثرات سے لطف اندوز ہونا۔ اگر کورونا ایک وبا ہے تو ہمیں اس سے بچاٶ کی تدبیر کرنی چاہٸے جو کہ آج کل ویکسین کی صورت میں موجود ہے، نہ کہ پچھلی قوموں کی طرح ہر چیز کو مزاق کا رنگ دے کر، اس پر ٹھٹھے کیے جاٸیں۔
لیکن اگر یہ کسی کی سازش ہے تو بھی ہمارے پاس نہ لگوانے کا کوٸی آپشن نہیں بچا۔ اسکول، کالج، یونیورسٹی، ہسپتال، آفس غرض ہر جگہ سب سے پہلے اب ویکسین کارڈ کا مطالبہ کیا جاٸے گا۔


اس لٸے ہم اس بات پر یقین رکھتے ہوٸے لگواٸیں کہ اللہ کی ذات جب نہ چاہے تو کوٸی بھی چیز ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتی، چاہے پوری دنیا اکھٹی ہوجاٸے۔ موت اگر دو سال بعد لکھی ہے تو ویکسین لگواٸے بغیر بھی آجاٸے گی۔ قرآن پاک کا مفہوم ہے


“اگر تم مضبوط قلعوں میں کیوں نہ ہو موت آ کر تمہیں دبوچ لے گی” موت کا وقت آٸے گا تو ایک لمحہ بھی تاخیر نہیں ہوگی نہ آگے نہ پیچھے۔
اور ویسے بھی موت سے کیا ڈرنا؟؟موت تو مومن کے لٸے تحفہ ہے۔ بس ہمیشہ یہ دعا کیا کرو کہ اللہ تعالی موت کو ہمارے لٸے تحفہ بنا کر بھیجے”
ماہ نور کی بات سن کر، انہوں نے کافی تفصیل سے اسے سمجھایا تھا۔ جس پر ماہ نور کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر وہ اب قدرے مطمٸن ہوچکے تھے کہ میڈیا کے پھیلاٸے ہوٸے خوف سے وہ اب نکل کر ہلکی پھلکی ہوچکی تھی۔

از قلم: صدیقہ ابراہیم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں