بہت خوبصورت اور پراثر انداز میں آپ نے “پہلی اڑان — قسط 45” مکمل کی ہے۔ یہ قسط جذبات، عزم، اور روشنی کے سفر کی مکمل جھلک پیش کرتی ہے۔ جیسے جیسے ندا کی شخصیت نکھرتی جا رہی ہے، ویسے ویسے پڑھنے والے کے دل میں ایک امید جگتی ہے کہ قلم، دعا اور ہمت سے دنیا بدلی جا سکتی ہے۔
ٕٕپہلی اڑان – قسط 45
صبح کے دھیمے دھیمے سائے آنگن کے فرش پر پھیل رہے تھے۔ درختوں کی ٹہنیاں ہلکی ہوا میں جھوم رہی تھیں، اور پرندوں کی چہچہاہٹ میں ایک خاص تازگی تھی۔ ندا کی کھڑکی کے پردے آدھے کھلے تھے، روشنی آہستگی سے اس کے قرآن جرنل پر اتر رہی تھی۔ جرنل کا وہی صفحہ کھلا تھا، جس پر کل رات اس نے اپنے احساسات لفظوں میں ڈھالے تھے:
> “آج میرے قلم نے پہلی بار ظلم کے خلاف گواہی دی ہے…”
ندا خاموش بیٹھی تھی، لیکن اُس کا دل جیسے مسلسل دھڑک رہا تھا۔ کل کی ریلی، تقریر، لوگوں کی دعائیں، اور وہ ننھی بچی کی آواز — “کیا ہم بھی آپ کی طرح بن سکتے ہیں؟” — یہ سب اُسے بار بار یاد آ رہا تھا۔
عروہ نے چپکے سے دروازہ کھولا۔ اُس کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا، اور آنکھوں میں نیند کی جھلک۔
“آپ جاگ رہی ہیں؟” عروہ نے آہستگی سے پوچھا۔
ندا نے مسکرا کر سر ہلایا۔ “ہاں، نیند آنکھوں سے تو گئی ہے، لیکن دل میں کچھ اور جاگ گیا ہے…”
عروہ نے چائے اُس کے پاس رکھی اور پوچھا:
“کیا آپ نے آج انسٹاگرام چیک کیا؟”
ندا نے نفی میں سر ہلایا۔
عروہ نے موبائل اس کے سامنے رکھا۔ “دیکھیں، آپ کی پوسٹ پر سو سے زیادہ تبصرے آ چکے ہیں۔ سب لوگ پوچھ رہے ہیں: ‘قرآن جرنلنگ کیسے کریں؟ کیا ندا باجی سکھائیں گی؟’”
ندا نے خاموشی سے تبصرے پڑھنے شروع کیے۔ ہر کمنٹ میں کسی نہ کسی دل کی خواہش تھی۔ کوئی سکون چاہتا تھا، کوئی راستہ، کوئی جڑت۔
“ندا باجی! میں اکیلی ماں ہوں، کیا قرآن جرنلنگ مجھے اندرونی طاقت دے سکتی ہے؟”
“کیا آپ آن لائن سکھا سکتی ہیں؟ میں گاؤں میں رہتی ہوں۔”
“مجھے آپ کا جرنل چاہیے، کیا اس کی نقل مل سکتی ہے؟”
ندا کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
“عروہ… شاید اللہ نے میرے الفاظ کو آواز بنا دیا ہے۔”
عروہ مسکرائی:
“یہی تو آپ ہمیشہ کہتی تھیں نا؟ کہ قلم میں روشنی ہو تو وہ دلوں کو جگاتا ہے۔”
ندا نے چائے کا آخری گھونٹ لیا، اور فوراً اپنے کمرے کے اُس کونے میں چلی گئی، جہاں اُس کی کتابیں، نوٹس اور سابقہ جرنلز رکھے تھے۔ اُس نے پرانا رجسٹر نکالا، ایک پین لیا، اور صفحہ کھولا۔
اوپر جلی حروف میں لکھا:
قرآن جرنلنگ کورس — نور کی لکیریں
ندا نے یہ خاکہ کچھ سال پہلے اپنے لیے بنایا تھا، صرف ذاتی سیکھنے کے لیے۔ مگر اب وہی خاکہ ایک آن لائن کورس کی بنیاد بننے والا تھا۔
“عروہ، کیا ہم یہ کورس نور کی لکیریں پر لانچ کر سکتے ہیں؟ بالکل سادہ انداز میں، اردو میں؟”
عروہ نے جوش سے کہا:
“جی باجی! ہم پاور پوائنٹ سلاڈز، وائس اوور، اور چھوٹی چھوٹی ورک شیٹس بنا سکتے ہیں۔ میں ٹیکنیکل کام میں آپ کی مدد کروں گی۔”
ندا کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ “تو یہ طے ہوا — ہم صرف مظلوموں کے لیے آواز نہیں، خود اپنے لوگوں کے لیے روشنی بھی بنیں گے۔”
### کورس کی تیاری
اگلے کچھ دن ندا نے دن رات محنت کی۔ ہر باب کی ورک شیٹس تیار کی گئیں، سادہ زبان میں، تاکہ بچے، نوجوان، اور مائیں سب سمجھ سکیں۔ اُس نے اپنے سابقہ جرنل کے اقتباسات کو مثال کے طور پر شامل کیا، جیسے:
> آیت: الا بذکر اللہ تطمئن القلوب
> جرنل تحریر: “یا اللہ! میرے دل کا سکون صرف تیرے ذکر سے ہے، مجھے دنیا کی آوازوں سے بچا لے…”
اسے محسوس ہوا جیسے ہر آیت کا مفہوم اُسے دوبارہ زندہ کر رہا ہو۔
عروہ نے آڈیو ریکارڈنگ کی، ندا کی آواز کو نرم بیک گراؤنڈ نعت کے ساتھ مکس کیا، اور ویب سائٹ پر “پری لانچ” پیج تیار کیا۔
ندا نے انسٹاگرام پر کورس کا اعلان کیا:
قرآن جرنلنگ کورس — دل سے قرآن تک کا سفر
آن لائن، مفت، اردو میں — نور کی لکیریں کے ساتھ
رجسٹریشن کے لیے bio میں لنک ملاحظہ فرمائیں
پہلے ہی دن 230 رجسٹریشنز ہو گئیں۔ اُن میں پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، سعودی عرب، برطانیہ، اور کینیڈا سے خواتین شامل تھیں۔
ندا نے جرنل کھولا، اور نئے انداز سے لکھا:
“یا اللہ! تو نے میری تنہائی کو آواز دی، میری تحریر کو منزل دی۔ میں صرف تیری رضا چاہتی ہوں۔ اگر ایک دل بھی قرآن سے جڑ جائے، تو یہ مشن کامیاب ہے۔”
اس ساری خوشی میں بھی ندا کے دل میں ایک اضطراب تھا۔
ریلی کے بعد اُسے کچھ تنقیدی پیغامات بھی ملے تھے۔ چند افراد نے اُس کی تقریر کو “جذباتی” قرار دیا، اور قرآن جرنلنگ کو “بیدینی کے قریب” سمجھا۔
ندا نے ان پیغامات کو غور سے پڑھا، مگر کوئی ردعمل نہ دیا۔ اُس نے صرف ایک بات جرنل میں لکھی:
“کبھی کبھی روشنی پر بھی سایہ ڈالنے کی کوشش ہوتی ہے… لیکن سچ یہ ہے کہ اندھیرا ہمیشہ ہارتا ہے۔”
اُس رات ندا نے سورۃ طٰہٰ کی یہ آیت پڑھی:
“اور ہم نے تم پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑو…”
(طٰہٰ: 2)
ندا کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
“تو نے جو آسانی کے لیے بھیجا ہے، میں اُسے مشکل نہ بناؤں گی۔”
ندا نے اگلے دن ویب سائٹ پر بلاگ لکھا:
“قرآن جرنلنگ ایک روحانی مکالمہ ہے — میرے رب کے ساتھ۔
یہ تفسیر کا نعم البدل نہیں، بلکہ اس کی طرف ایک ذاتی دعوت ہے۔
یہ صرف تحریر نہیں، تعلق ہے۔
اور یہی تعلق، ہمیں زندہ رکھتا ہے۔”
لوگوں نے اس بلاگ کو سینکڑوں بار شیئر کیا۔
ایک ماں نے لکھا:
“میری بیٹی نے پہلا جرنل صفحہ لکھا ہے، اور اُس نے دعا کی: ‘یا اللہ! مجھے ندا باجی جیسا بننا ہے۔’”
ندا کا دل کانپ گیا۔ اُس نے فوراً سجدہ شکر ادا کیا۔
ندا نے آسمان کی طرف دیکھا۔ چاند آدھا چھپا ہوا تھا، مگر روشنی موجود تھی۔
عروہ آہستگی سے کمرے میں آئی۔ “کیا سونے چلیں؟”
ندا نے ہلکے سے کہا:
“بس ایک صفحہ اور لکھنا ہے…”
اُس نے جرنل کھولا، اور لکھا:
“میرا قلم اب رکنے والا نہیں۔
یہ اب صرف لکھے گا نہیں، جگائے گا۔
جہاں اندھیرا ہے، وہاں کچھ حرف روشن ہوں گے۔
جہاں سوال ہیں، وہاں کچھ آیات کا نور ہو گا۔
اور اگر میں نہ رہوں…
تو یہ روشنی باقی رہے۔”
—