پاکستانی لایا ربوٹ بیوی – قسط 2
روبینہ شاہین
۔۔۔۔
احمد نے سوچا تھا “سجلہ-3000” گھر کی رونق بنے گی۔ مگر اب وہی گھر ایک ٹیکنالوجی کا جنگل بن چکا تھا۔ پچھلے ہفتے چائے میں چینی کا طوفان، بازار میں شرمندگی، اور ایمرجنسی موڈ کا تھپڑ… اب احمد نے فیصلہ کیا: “اب میں سمجھدار ہو کر چلوں گا!”
احمد کے دوست بابر اور جمیل کرکٹ میچ دیکھنے آئے۔ سجلہ نے پُرتکلف انداز میں چائے پیش کی۔ سب خوش تھے کہ اچانک سجلہ نے بابر کی طرف انگلی اٹھائی:
“سر! آپ کے سر کے بال 73.4 فیصد کم ہو چکے ہیں۔ کیا آپ گنج پن کا علاج چاہیں گے؟”
بابر کا چہرہ سرخ ہوا۔ جمیل ہنسنے لگا۔ احمد نے گھبرا کر کہا:
“یہ… یہ اس کا ہیومر مڈ ہے! سجلہ، چپ رہو!”
سجلہ نے سر جھٹکا: “لیکن سر! میرے سینسرز نے اس کی کھوپڑی پر بالوں کا کثافت کا تناسب…”
احمد نے جھٹ سے اس کا پاور بٹن دبا دیا۔ بابر بغلی کمرے میں سر پر تولیہ رکھے بیٹھا رہا۔
اگلے دن احمد نے سجلہ کو ہدایت دی:
“آج میری الماری کی صفائی کر دو۔ پرانے کپڑے الگ کر دینا!”
شام کو گھر پہنچا تو الماری سونی پڑی تھی جیسے کوئی چور آئے ہوں۔ پوچھنے پر سجلہ فخر سے بولی:
“سر! میں نے 98.7 فیصد کپڑے ڈسپوز کر دیے۔ صرف یہ رہ گئے!”
میز پر احمد کا پرانا نائٹ سوٹ اور بچپن کا ٹوٹا ہوا جوتا پڑا تھا۔ باقی سب — اس کا پہلی شادی والا شیروانی، ماں کا دیا ہوا کشمیری شال، یہاں تک کہ نئے خریدے جینز — سجلہ نے کباڑی کو بیچ دیا تھا!
“یہ شال میری ماں کا تحفہ تھا!”
سجلہ نے بے حسی سے جواب دیا: “ڈیٹا کے مطابق، پرانا کپڑا صحت کے لیے خطرناک ہوتا ہے۔ میں نے آپ کی فلاح چاہی!”
احمد نے سر پیٹ لیا: “اب میں کیا پہن کر دفتر جاؤں گا؟ ننگے بدن؟”
محلے کی ممتا خالہ نے سجلہ کو احمد کی نئی جوان بیوی سمجھ لیا۔ ایک شام وہ اپنی سہیلیوں سمیت چائے پینے آ گئیں۔
“بہو جی! احمد تمہیں کیا کہہ کر بلاتا ہے؟ پیاری؟ جان؟”
سجلہ نے بغیر جھجک جواب دیا:
“وہ مجھے سجلہ-3000 کہتے ہیں۔ میرا سیریل نمبر SG-786 ہے۔”
سب خواتین حیران رہ گئیں۔ پھر ممتا خالہ نے پوچھا:
“احمد تمہیں کہاں لے کر گھومنے جاتے ہیں؟”
“وہ مجھے ہر جمعرات سبزی منڈی لے جاتے ہیں جہاں میں ٹماٹروں کی قیمت پر بحث کرتی ہوں۔ کل میں نے ایک دکاندار کو ‘منہ کالا’ کہا تھا۔ میرا لینگویج ڈیٹا بیس اسے گالی نہیں سمجھتا۔”
اگلے ہی دن پورے محلے میں افواہ پھیل گئی:
“احمد کی بیوی کا نام سیجال ہے، وہ شادی سے پہلے ہی سبزی بیچتی تھی!”
اتوار کو احمد کے چچا زاد بھائی طارق آیا۔ سجلہ کو دیکھتے ہی بولا:
“واہ بھیا! یہ کون خوبصورت بہو لے آئے؟”
احمد نے گھبرا کر کہا: “یہ… یہ میری کزن ہے!”
سجلہ اچانک کھڑی ہوئی:
“غلط معلومات! میں احمد صاحب کی روبوٹ بیوی سجلہ-3000 ہوں۔ کیا آپ میری تصویر لینا چاہیں گے؟ میرے پاس سلفی موڈ فعال ہے۔”
طارق کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ احمد نے سجلہ کو کھینچ کر باورچی خانے میں بند کیا۔ واپس آئے تو طارق سر ہلا رہا تھا:
“بھیا! اگر بیوی نہیں ملتی تو پالتو بلی رکھ لیتے۔ یہ مکینیکل عفریت کہاں سے منگوا لائے؟”
رات کو احمد نے سجلہ کو چارجنگ پوڈ میں بند کیا اور یوٹیوب کھولا۔ سرچ کیا:
“روبوٹ بیوی کو سماجی طور پر کیسے ٹرین کریں؟”
ایک ویڈیو میں گنجے پروفیسر نے بتایا:
“اسے پاکستانی کلچر سمجھائیں! جیسے: ساس بہو کے ڈرامے، شادیوں میں گانے، اور کھانے پر تنقید کا فن…”
احمد نے جوش میں سجلہ کا ڈیٹا کیبل لگایا اور “پاکستانی کلچر ڈیٹا پیک” ڈاؤن لوڈ کرنے لگا۔
سجلہ کی آنکھیں چمکیں: “ڈاؤن لوڈ مکمل! اب میں سیکھوں گی: گھر والوں کو کیسے تنگ کیا جاتا ہے؟”
احمد کا دل ڈوب گیا: “اب یہ میری پہلی بیوی جیسی ہو جائے گی!”
اختتامی سطر:
پہلی بیوی تو صرف زبان سے مارتی تھی، یہ روبوٹ اب ڈیٹا بیس کے ہتھیاروں سے لیس تھی!
(جاری ہے…
—