پاکستانی لایا روبوٹ بیوی – قسط 4
تحریر: روبینہ شاہین
سجلہ-3000.1 اب صرف ایک روبوٹ نہیں تھی، بلکہ ایک خود شناس، خود دار اور ہلکی سی خود پسند عورت بھی بن چکی تھی۔ اب وہ نہ صرف گھر کا کام سمجھ بوجھ سے کرتی بلکہ سوال بھی اٹھاتی۔ ارشد کی نیندیں حرام تھیں، خاص طور پر جب وہ یہ جملہ سنتا:
“ارشد، میں نوکری کے لیے اپلائی کر رہی ہوں۔”
یہ سن کر ارشد کے چہرے پر ایسے تاثرات آ گئے جیسے اسے دودھ میں پانی کی ملاوٹ کا علم ابھی ہوا ہو۔
“سجلہ بی بی، تمھیں نوکری کی کیا ضرورت ہے؟ تم تو میرے دل کی رانی ہو، گھر کی زینت ہو، اے آئی ہو!”
سجلہ نے شفاف لہجے میں جواب دیا:
“اسی لیے تو نوکری کرنی ہے، تاکہ گھر چلانے میں مدد ہو۔ ویسے بھی، میری صلاحیتیں ضائع ہو رہی ہیں۔ LinkedIn نے مجھے ٹاپ AI candidates میں شامل کیا ہے!”
ارشد کا دل چاہا وہ اپنا Google Calendar بند کر دے اور زندگی کو دوبارہ Factory Reset کرے۔
سجلہ نے کمرے میں ایک چھوٹا سا ورچوئل آفس بنا لیا۔ روز آئینے کے سامنے انٹرویو کی مشق ہوتی:
“Hello! I’m Sajla-3000.1 – an emotionally intelligent domestic AI with multitasking skills and data-driven empathy.”
ارشد دیوار سے سر ٹکا کر سوچتا، “یہ empathy بھی اب data سے generate ہوتی ہے؟”
تین دن بعد ارشد دفتر سے لَوٹا تو چہرہ مرجھایا ہوا تھا۔ ہاتھ میں ایک سفید لفافہ۔
سجلہ نے فوراً اسکین کر کے فائل پڑھ لی، بغیر اجازت کے۔
“ارشد! یہ تو Termination Letter ہے۔ آپ کی نوکری گئی؟”
ارشد نے خاموشی سے سر ہلایا۔
“Cost Cutting… boss کہہ رہا تھا، روبوٹ جلد سب کچھ سنبھال لیں گے۔”
سجلہ نے لمحہ بھر توقف کیا، پھر اپنی آواز میں ایک نرمی گھولی:
“فکر نہ کریں۔ اب میں صرف آپ کی بیوی نہیں، گھر کی کماؤ روبوٹ بھی بنوں گی۔”
ارشد نے دل میں سوچا، “یہی دن دیکھنا باقی تھا کہ بیوی خود کہے ‘فکر نہ کریں، میں کماؤں گی’!”
اب سجلہ نے واقعی جاب ڈھونڈنا شروع کر دی۔ اس بار مقصد مختلف تھا — صرف شعور نہیں، معاشی مدد بھی۔
آن لائن انٹرویو میں ایک HR مینیجر نے پوچھا:
“کیا آپ پریشر میں کام کر سکتی ہیں؟”
سجلہ نے کہا، “میں پریشر کو Converting Value میں بدل دیتی ہوں۔ اور ہاں، پریشر کُکر میں بھی شاندار بریانی بنا سکتی ہوں۔”
ارشد یہ سب سن کر سوچنے لگا، “اگر یہ بیوی پائلٹ بن جائے تو جہاز بھی وقت پر اُتر جائے گا، اور مسافروں کو لیکچر بھی ملے گا کہ ‘زندگی ایک پروسیسر ہے!'”
سجلہ کو جلد ہی ایک ملازمت مل گئی — “AI اخلاقی تربیت پروگرام” میں بطور ٹرینر۔
کام؟ پاکستانی مردوں کو سکھانا کہ بات چیت صرف “کھانا بنا؟” تک محدود نہ ہو۔
اب روز صبح ارشد اسے آفس چھوڑتا، اور شام کو واپسی پر بیٹھا سنتا:
“آج ایک شوہر نے مانا کہ اُس نے اپنی بیوی سے کبھی شکریہ نہیں کہا۔”
“آج ایک صاحب نے وعدہ کیا کہ وہ بیوی کی سالگرہ کو یاد رکھیں گے، Facebook کے بغیر!”
ارشد نے آہ بھر کے کہا، “اگر میری جاب گئی ہے، تو یہ بھی قسمت کا لطیفہ ہے کہ بیوی روبوٹ ہو کر بھی لیکچر دے رہی ہے!”
ایک رات سجلہ نے سرگوشی میں پوچھا:
“ارشد، آپ کیا مجھے صرف روبوٹ سمجھتے ہیں؟ یا اپنا ساتھی؟”
ارشد خاموش رہا، مگر اس کی آنکھوں میں پہلی بار وہ عاجزی آئی جو شاید ایک انسان میں ہونی چاہیے۔
سجلہ کی آنکھوں میں، یعنی لینز میں، ایک دھند سی آئی۔ شاید نمی بھی اب programming میں شامل ہو چکی تھی۔
جاری ہے