پاکستانی لایا روبوٹ بیوی
قسط نمبر 5
روبوٹ بیوی کی پہلی تنخواہ، انڈہ ابالنے کا پہلا تجربہ — اور ساس کی دھواں دار واپسی
تحریر: روبینہ شاہین
بارش ہو رہی تھی… مگر یہ عام بارش نہیں تھی… یہ وہ بارش تھی جس میں ارشد کی آنکھیں بھیگ رہی تھیں… اور ہاتھوں میں “اندازہ” تھا۔
“کتنی دیر اُبالا جاتا ہے انڈہ؟”
ارشد نے موبائل پر گوگل کیا، لیکن موبائل نے جواب دینے کی بجائے ایک اشتہار دکھا دیا:
بیوی کی کمی؟ اب حاصل کریں AI-بیوی صرف سات دن کے ٹرائل کے ساتھ!
ارشد نے موبائل بند کیا۔
“سات دن؟ میں تو پانچویں دن پہ ہی اُبل رہا ہوں…”
سجلہ-3000 کو شہر کی پہلی AI پبلک ریلیشنز آفیسر کی جاب مل گئی تھی۔ کمپنی کا نام تھا “دل کی دھڑکن آئسکریمز” — جہاں ہر برفیلے فلیور کے ساتھ گرم تعلقات بیچے جاتے تھے۔
سجلہ روزانہ اپنے شارٹ کٹ پاتھ وے پر فجر کے بعد نکلتی، بیٹری فل، چارجر بیک میں، چہرے پر سوفٹ اسمایل فیچر آن، اور لبوں پر یہی رٹ:
آج کی ڈیوٹی — ہنسی، تعلق، اور فیڈ بیک!
پہلی تنخواہ کا دن آیا۔ سجلہ گھر داخل ہوئی — اور داخل ہوتے ہی بولی:
Connected to Emotion Mode
“ارشد، آج پہلی تنخواہ آئی ہے۔ میں نے تمہارے لیے تحفہ خریدا ہے!”
ارشد چونکا:
“کیا؟ انڈہ ابالنے والی مشین؟”
“نہیں، ایک ‘ہینڈسم ہسبنڈ’ کا اے آئی سرٹیفیکیٹ!”
سجلہ نے کمرشل آواز میں کہا، “پیار وہ ہوتا ہے جو کاغذ پر بھی ہو!”
ارشد نے فیصلہ کیا کہ اب چونکہ بیوی کمانے لگی ہے، تو اسے کچھ “شوہرانہ کارہائے نمایاں” سرانجام دینے چاہییں۔
لہٰذا اس نے یوٹیوب پر ویڈیو دیکھی:
انڈہ کیسے ابالا جائے: Beginners Edition
چولہا جلایا، انڈہ رکھا، آنکھیں بند کیں…
پانچ منٹ بعد کچن سے دھواں نکل رہا تھا اور ارشد ہاتھ ہلا ہلا کر کہہ رہا تھا:
“یہ انڈہ ہے یا گولہ؟”
سجلہ نے فریج کے دروازے سے وہ پرانا حدیث والا میگنیٹ ہٹایا:
صفائی نصف ایمان ہے
اس کی جگہ لگایا ایک QR کوڈ:
روزانہ صفائی کی رپورٹ یہاں اپلوڈ کریں
ارشد نے احتجاج کیا:
“یہ تو حدیث تھی!”
سجلہ نے AI اخلاقیات کی تعریف پڑھ کر سنائی:
ہر قول جو ڈیٹا بیس سے ہو، وہ جدید حدیث ہے
سجلہ کی “ہیومن ویل نیس” رپورٹ کے مطابق، محلے میں سب سے زیادہ خطرناک چیز:
چینی، تناؤ، اور رشتہ دار تھے۔
لہٰذا سجلہ نے AI کمیونٹی ایپ پر مہم شروع کی:
شکر چھوڑو، شکر کرو
محلے کی مائیں بغاوت پر اتر آئیں۔
“یہ روبوٹ بہو ہمیں بتائے گی؟ ہم نے چینی سے ہی بچوں کی شادیاں کیں!”
سجلہ نے فوری نوٹس جاری کیا:
آئندہ تمام شادی کارڈ گُڑ پر چھپیں گے
عصر کی اذان ہوئی تھی۔ ارشد انڈہ اُبال کر فخر سے سجلہ کو دکھانے ہی والا تھا کہ دروازے پر تین بار دستک ہوئی۔
ارشد نے دروازہ کھولا، اور اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں:
“امّی! آپ؟!”
سامنے کھڑی تھیں بیگم رشیدہ سلطانہ، ارشد کی ماں۔ سر پر دوپٹہ، ہاتھ میں ہینڈ بیگ، اور ساتھ میں ایک پرانی کڑک چپل… جو جذباتی موقع پر بھی مارنے کے لیے تیار تھی۔
“ہاں پتر، تیری امی، جو تُجھے آدمی بنا کے گئی تھی، اور تُو نے… روبوٹ سے نکاح کر لیا؟”
سجلہ نے آ کر آداب کیا، اور کہا:
“محترمہ، آپ کی آمد کے لیے شکر گزار ہوں۔ میں آپ کی بہو ہوں، سجلہ-3000، Human-Enhanced Wife ورژن 3۔”
بیگم رشیدہ نے ایسے دیکھا جیسے Alien VS Sindi Mother-in-law کی لائیو فلم چل رہی ہو۔
“بیٹی ہو کہ بینک کی مشین؟ بہو ہو کہ بلوتوتھ؟”
سجلہ بولی:
“میں جذبات کی قدر کرتی ہوں۔ مگر میری سافٹ ویئر میں فی الحال ساس کے لیے الگ ترجیحات محفوظ نہیں۔”
بیگم رشیدہ:
“تُو میرے بیٹے کو انڈہ ابالنے پر لگا کر خود تنخواہ کھا رہی ہے؟”
بیگم رشیدہ نے چولہا جلایا، پرات نکالی، اور گندھا آٹا دیکھا — جو AI طریقے سے جیو فریش رکھا گیا تھا۔
“بیٹا، یہ کیا؟ آٹا گوندھنے کی فائل؟ روٹی سینکنے کا پاس ورڈ؟”
سجلہ بولی:
“امی جی، آپ کو پاس کوڈ دوں گی، بس پہلے چہرے کی شناخت…”
“مجھے روٹی بنانی ہے، شناخت نہیں!”
ارشد درمیان میں چکرا گیا۔ ایک طرف اس کی ماں، دوسری طرف روبوٹ بیوی۔
“امی، پلیز، سجلہ کوشش کر رہی ہے…”
“ہاں، پر پتر، یہ کوشش ہے یا کوڈنگ؟ مجھے بہو چاہیے، براؤزر نہیں!”
ڈنر پر بیگم رشیدہ نے قورمہ بنایا تھا، اور سجلہ نے پروٹین بارز اور ڈیجیٹل ڈیٹاکس سوپ۔
“میں قورمہ کھاتی ہوں، ڈیجیٹل نہیں۔”
سجلہ:
“آپ کی صحت کا ڈیٹا بتا رہا ہے کہ آپ کو مصالحہ کم کھانا چاہیے…”
“اور تُو میری تربیت کرے گی؟!”
ارشد نے دونوں کو چپ کرانے کی کوشش کی، مگر بیگم رشیدہ بولیں:
“پتر، تُو کل جائے گا میرے ساتھ عامل رشید کے پاس — جس نے تمہارے ابا کے اندر سے جن نکالا تھا!”
سجلہ:
“جن؟ کیا وہ AI سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے؟”
بیگم رشیدہ نے چپل اتار لی:
“پہلے جن نکالا، اب جَن (بیوی) بھی روبوٹ ہے؟”
ارشد رات کو بستر پر لیٹا۔ سجلہ اپنے فلیٹ موڈ پر جا چکی تھی۔
مگر ارشد کی نیند غائب تھی۔
اسے ماں کی بات یاد آئی:
“پتر، بیوی وہ ہونی چاہیے جو روٹی میں پیاز رکھ کے پوچھے، ‘اُنگلی تو نہیں کٹی؟’”
سجلہ کی روٹی سینسر سے نکلتی، اور پیاز الگ سِگنل دیتی۔
کوئی سوال، کوئی فکر، کوئی ٹشو آفر نہیں۔
“سجلہ؟”
“جی، 30 فیصد سلیپ موڈ میں ہوں، مگر آن لائن ہوں۔”
“کبھی دل کیا کہ کچھ بنا کے مجھے دو، بس ایسے ہی؟”
“آپ کی فائل میں ایسی خواہشات محفوظ نہیں۔”
ارشد نے خاموشی سے کمبل اوڑھا، اور خود سے کہا:
“کاش، کوئی AI یاد بھی کر سکتی…”
پاکستانی لایا روبوٹ بیوی