523

پریاں

تحریر شئیر کریں

پریاں

نصرت یوسف

نرم ریشمی زلفیں لہراتی کس قدر حسین لگتی ہیں، یہ کوئی ماہا رحمن سے پوچھتا جسکو اپنے بالوں کو سیدھا رکھنے کے لیے کتنے پاپڑ بیلنے ہوتے اور ہر کچھ عرصے بعد پروٹین ٹریٹمنٹ کی خاطر داری بھی کی جاتی .
اور جب بھی جنت شاکر  اپنے بھورے گیسو اور بھوری آنکھوں کے ساتھ اسکرین پر نظر آتی تو وہ جلن کے مارے منظر ہی بدل دیتی ..
“کیا تھی اور کیا ہوگئ”
” ریت جیسی تھی، اب دیکھو زرا”
“نیک خاندان ہے انکا، بلکہ نیک تھا!” وہ اکثر ہی یہ طنزیہ جملے آواز یا بے آواز دہراتی.
“اچھا ہوا ہم نے فائز کے لیے اسکو نہ پسند کیا، نسلوں میں یہ ہی خصلتیں منتقل ہوجاتیں”
گھر سے کوئ اور بھی ماہا کی ہاں میں ہاں ملاتا فائز کے جنت شاکر سے محفوظ رہنے پر شکر کرتا.
اور رہا اسکا بھائی فائز، اسے اسکرین پر دکھتی جنت شاکر سے محروم رہنے پر افسوس  تو ہوتا مگر بیوی کے باپ کی گاڑی جب آۓ دن اسکے گھر پر بیٹی داماد کے لئیے کچھ نہ کچھ دان کرنے کھڑی ہوتی تو اسے جنت شاکر کے تصورات پر مٹی ڈالنی آسان ہو جاتی.
اسکی بیوی نہ ریت سی تھی اور نہ جل پری، کھاتے پیتے گھر کی اکلوتی بیٹی تھی جسکے لیے بہت سے لوگ خواہشمند تھے.
لیکن انکو فائز کی وجاہت بھا گئ اور یوں بیس خاندانوں کی بیٹیاں دیکھنے بعد فائز کے لیے زوج کا انتخاب طے پا ہی گیا.
جنت شاکر ان بیس ہی میں کہیں تھی جو شاکر کے لیے بیوی کی تلاش میں جانچی گئ تھیں، وہ فائز کے گھر والوں کو یاد بھی نہ آتی اگر اسکرین پر بجلیاں نہ گراتی .
فائز کی بیوی سے کسی کو کوئی خاص شکایت نہ تھی وہ سسرال کے لیے کم گو لڑکی تھی جسکا میکہ شادی کے بعد اسکی ناز برداری میں مستقل مصروف رہتا.


ایک دن قبل ہی فائز کے سسرا نے پہاڑی مقام پر تفریح کے سارے انتظامات کے بعد بیٹی داماد کو ساتھ چلنے کی دعوت دی تھی، جسے منظور کرتے فائز نے شکر کیا کہ اسکی بہت سے مزے بنا ہاتھ ہلاۓ پورے ہو جاتے ہیں.  
بس کبھی کبھی تنہائ میں وہ قلق ضرور کرتا کہ یہ سب جنت شاکر کے ساتھ بھی مل ہی جاتا، آخر وہ اتنی مشہور اسکرین شخصیت بن چکی ہے، لیکن یہ میرے گھر والے بھی بس عجیب ہیں، اس نور العین کو لے آۓ، اسنے کوفت زدہ ہو کر بستر پر رکھے دوسرے تکیہ کو دیکھا، جو خالی تھا، نورالعین پارلر گئ ہوئ تھی.


“اب پانچ فٹ دو انچ پارلر تو نہیں بڑھا سکتا اور نہ ہی چائنیز آنکھوں کا کچھ کرنا ممکن ہے وہاں” اسنے کلس کر بیوی کے قد اور آنکھوں کے لیے سوچتے اسکے بل پر ہونے والے تمام عیش آرام سے آنکھیں ہی پھیر لیں.
ہاتھ میں پکڑے سیل فون پر لمحے قبل جنت کے انٹرویو کلپ نے اسکا موڈ خراب کر دیا تھا.


سنہرے لباس میں ملبوس جنت شاکر سے میزبان نے اسکی شو بز آمد کی وجہ جاننی چاہی تو وہ مسکرا گئ.
“رشتوں کے لیے آنے والے نیک پری سی لڑکی چاہتے تھے، نیکی سے شاید انکو اختلاف نہ تھا لیکن پری سی وضع نہ تھی.. میں نے سوچا مجھے پری بن جانا چاہیے سو میں بن گئ” اسنے اپنے بالوں کی لٹ کو خواہ مخواہ چھوتے جواب دیا. طرار میزبان لمحے بھر خاموش رہا اور وہ دھیما سا قہقہہ لگاتی فائز کے دل میں مذید گہرائی میں اترتی گئ.


کلپ دیکھنے کے بعد سے آنکھی‍ں موندے اسی کے خیالوں میں گم تھا کہ نورالعین کی مخصوص مہک نے اسکی موجودگی کی اطلاع دی تو خیالات کا ارتکاز ٹوٹ گیا، بدمزہ ہوتے اسنے آنکھیں کھولی‍ں، بیوی پر نگاھ ڈالی،
“مجال ہے جو کوئی فرق پڑا ہو، جیسی گئ تھی ویسی ہی آئئ ہے “ دل کے تبصرے نے اسے اور نا خوش کردیا.
میاں کو متوجہ دیکھ کر نورالعین نے اسکی طرف رخ کیا” آج بہت رش تھا، میں تو واپس آگئ، انتظار نہیں کیا، کل جاؤنگی”.
” رش کیوں تھا آج” فائز کو بد دلی دباتے سوال کرنا پڑا.
” کسی ائر لائن کی ہوسٹسسز کے اپائنمنٹ طے تھے، سارا اسٹاف انکو پریاں بنانے میں لگا تھا”


اسنے لفظ پریا‍ں استعمال کرتے قہقہہ لگایا، تو فائز کی پیشانی بیوی کی ہنسی سے نہ جانے کیوں عرق آلود سی ہوگئ.
اسے لگا بہت سے پریاں جنہیں ہم نیک نہیں کہتے انکے بنانے میں” نیک “انسانوں ہی کا ہاتھ ہوتا ہے. اس لمحے پہلی بار نورالعین اسے نیک بھی لگی اور پری بھی.

پریاں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں