509

پگلی دو بہنوں کی کہانی

تحریر شئیر کریں

روبینہ شاہین

پگلی دو بہنوں کی کہانی

شائزہ گھر بھر میں پگلی کے نام سے مشہور تھی کیونکہ وہ شکل و صورت اور عقل و فہم کی نسبت اپنی چھوٹی بہن عائزہ سے بہت پیچھے تھی۔
رمضان کی دوبیٹیاں تھی جو خاندان بھر کو کافی کھٹکھتی تھیں کیونکہ ان کے سر پر بھائی کا سایہ نا تھا جو کہ جرم نا ہوتے ہوئے بھی جرم بنا دیا گیا تھا

خیر بھائی کی کمی پورے کرنے کے لیے عائزہ جو پگلی سے چھوٹی تھی نے میٹرک کے بعد تعلیم کو خیر باد کہہ دیا تھا اور بیوٹیشن کا کورس کر کے زریعہ آمدن بھی کما رہی تھی۔خوبصورت اوپر سے بیوٹیشن اور پھر کماو بھی تو سب کی نظریں عائزہ پہ تھیں ہر بات میں اسی کو سراہا جاتا اور اسی کی مثالیں۔دی جاتیں جبکہ شائزہ عرف پگلی کی شخصیت ایک بڑے درخت کے نیچے چھوٹے سے پودے کی تھی جو کسی کو کم ہی دکھائی دیتا تھا


وقت گزرتا رہا دونوں بہنوں کی شادیاں ہو گئیں عائزہ اپنی امیر ترین خالہ کے اکلوتے بیٹے سے بیاہی گئ جو کہ لندن میں مقیم تھا جب کہ شائزہ کے حصے میں یہاں بھی سمجھوتہ آیا وہ گھگھڑ پنڈ مءں بیاہی گئ جو کہ گوجرانوالہ کے ساتھ ہی واقع تھا۔اس کے پینڈ میں کوئی خاص بات نا تھی۔اس لیے کم ہی کوئی ادھر کا چکر لگاتا تھا جبکہ عائزہ پنڈی شہر میں بیاہ کر گئ تھی سو یہاں بھی وہ آگے رہی

پگلی کی ذات دوسروں کے لیے ہنسی مذاق کی حد تک ہی تھی وہ بھی اللہ میاں کی گائے تھی مجال ہے جو اپنا طرز فکر بدلا ہو بیوٹیشن بہن کا ایک بھی عکس اس پر اثر انداز نا ہو۔سکا ،سادہ سے حلیے میں رہتی جسے پلکنگ تھریڈنگ سے بہت چڑ تھی پورے بازووں والی قمیض پہن کر کس۔کے چوٹی بناتی اور اس پر بڑا سا دوپٹہ ہر وقت اسے لپیٹے رکھتا،گاوں کے ماحول نے اسے اور بھی پردہ۔نشیں بنا دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

رمضان ہمدردی کا مہینہ

وہ اللہ کی شکر گزار بندی تھی بس کبھی کبھی گاوں کے ماحول سے اسے بہت جڑ تھی مگر آیستہ۔آہستہ وہ اس کی عادی ہوتی چلی گئ

کہتے ہیں کہ دنیا کاطویل ترین سفر اپنی ذات کا۔سفر ہے جو تن کی دنیا سے قطع نظر من کی طرف دھیان لگاتے ہیں ان کی چھب ہی کچھ اور ہوتی ہے لوگ جسے پگلی کہہ کر اس درخواعتنا نا سمجھتے تھے وہی پگلی جب من کے سفر پہ نکلی تو دنیا کے رنگ و بو بھی اس کا بال بیکا نا کر سکے ،مجھ پر اس کے ذات کے چھپے رنگ کبھی آشکار نا ہوتے جو اگر میری اس سے ایک اتفاقیہ ملاقات نا ہوتی

ادھر عائزہ کے پاس سب کچھ تھا دھن دولت اور پیار کرنے والا شوہر مگر اس سب کے باوجود وہ ناشکرے پن کا شکار تھی،کھوکھلی تھی من کی دنیا بھلا تن کی فکر میں سرگراں، فیشل مینی کیور پیڈی کیور اور میک اپ سے اٹا اس کا چہرہ اسے خوبصورت ہی نہیں بہت خوبصورت دکھاتا تھا اتنا کہ دیکھنے والے ایک نظر کے بعد بار بار دیکھتے،مگر یہ رنگ پھیکے ہی نہیں کچے بھی تھے اتر جانے والے وقتی اور جھوٹے

رنگوں کی بات چلی ہے تو قرآن کی وہ آیت یاد آ رہی ہے صبغتہ اللہ “رنگوں میں سب سے اچھا رنگ اللہ کا رنگ ہے یہ جس پر چڑھ جائے پھر اس پر کوئی اور رنگ نہیں بھاتا

میں یہ کہانی آج آپ کو اس لیے سنا رہی کہ میں رشتے میں ان دونوں کی بھابھی لگتی ہوں یعنی خالہ کی بہو


تو بڑے قریب سے نا سہی مگر بڑے دھیان سے ان دونوں کی شخصیات کا جائزہ لیا تو ایک لمحے کو حیران ری گئ سودو زیان کون ہارا کون جیتا،کس کے رنگ پکے تھے اور کس کے اتر جانے

دنیا کی نظر میں بظاہر پگلی پیچھے تھی مگر اللہ نے اسے اپنے شکرگزار بندوں میں لکھ رکھا تھا ۔یہ۔بات مجھے کبھی پتہ نا چلتی اگر خاندان میں ہونے والی ایک فوتگی میں پگلی سے بات چیت نا ہوتی،بات ایسے چلی کہ مرنے والی عزیزہ ایک لڑکی تھی جس کو غسل دینے والی ایک پروفیشنل تھی جومردوں کو عموما غسل دیتی ہیں پگلی کافی پریشانی میں میرے ساتھ بیٹھی تھی۔اتنی پریشان کہ میں پوچھے بنا نا رہ سکی۔


اور پوچھنے پر بتانے لگی کہ میت کو غلط طریقے سے غسل دیا گیا ہے اور کفن بھی مردوں والا۔۔۔بس یہاں سے بات شروع ہوئی اور عقیدے تک جا پہنچی۔۔۔میں حیران پریشان پگلی کی باتیں سنتی رہی درحقیقت میں بھی اسے کند ذہن اور پگلی ہی سمجھتی تھی

جب اصل حقیقت سے آشکار ہوئی تو پگلی کی دینداری سے بہت متاثر ہوئی کہ کیسے اس نے گاوں کے ماحول میں یوٹیوب سے علماء کو سن سن کر دین سیکھا اور خود کو گروم کیا۔سچ ہے برانڈڈ کپڑے پین کر کوئی ماڈرن اور پڑھا لکھا نہیں ہو جاتا اصل چیز سوچ ہے جب تک سوچ پسماندہ رہتی ہےانسان کبھی ترقی نہیں کرتا۔۔۔ پگلی سے ملتے ہوئے وہ اس کا نمبر لیے بغیر نا رہ سکی اور نامعلوم مدت کے لیے ایک دوسرے کو خدا حافظ کہا اس یقین دہانی کے ساتھ کہ کال پہ بات ہوتی رہے گی۔

پگلی دو بہنوں کی کہانی آپ نے پڑھئ ،پڑھنا مقصود نہیں سیکھنا مقصد ہونا چاہیے۔رب راکھا پھر ملیں گے کسی زندہ کہانی کے ساتھ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں