پہلی اڑان — قسط 43 204

پہلی اًڑان 46 

تحریر شئیر کریں

پہلی اًڑان 46

ناول نگار :روبینہ شاہین

صبح کی نرم روشنی نے ندا کے کمرے میں داخل ہو کر اُس کے چہرے کو چھوا۔ الماری کے آئینے پر پڑا ہوا قرآنی ورق ہلکی ہوا سے تھرتھرا رہا تھا۔ ندا کی آنکھ کھلی تو اُس کی نظر سب سے پہلے اپنے جرنل پر گئی، جہاں رات کو اس نے آخری دعا لکھی تھی:
“میرا قلم جگانے والا بنے، میری سوچ روشنی بانٹے۔”

موبائل پر پیغام جگمگا رہا تھا۔ ثانیہ حراء نے لکھا تھا:
“ندا! ٹورنٹو یونیورسٹی میں تمہارے کورس کے چرچے ہیں۔ کب آن لائن سیشن رکھ رہی ہو؟”

ندا نے مسکرا کر جواب دیا:
“جلد، حراء! میں چاہتی ہوں کہ تم لوگ بھی چراغ جلاؤ۔ ہر دل تک قرآن پہنچے۔”

ندا نے جرنل میں لکھا:
“جب نیت خالص ہو، تو راستے خود بن جاتے ہیں۔”

کچن میں ماما پراٹھے سینک رہی تھیں اور بابا اخبار میں الجھے ہوئے تھے۔
ماما نے کہا:
“آ جا بیٹا! دلی پراٹھا اور مکھن لگا کے کھا لے۔”

ندا نے مسکراتے ہوئے کہا:
“ماما! آج ناشتہ کرتے ہوئے آپ دونوں کو قرآن جرنلنگ سکھاؤں؟”

بابا نے چونک کر اخبار ایک طرف رکھتے ہوئے کہا:
“اوہ! یہ کیا ہوتا ہے؟”

ندا نے ایک سادہ سی آیت پڑھ کر سنائی:
“فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا”

کہا:
“دیکھیں، یہ آیت بتاتی ہے کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ ہم اسے جرنل میں لکھتے ہیں، اس کا مطلب سمجھتے ہیں، دعا کرتے ہیں، اور اپنی زندگی میں اس آسانی کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔”

ماما ہنس کر بولیں:
“واہ بیٹا! یہ تو دیسی جرنلنگ ہو گئی!”

ندا کو یہ لمحات قیمتی لگے۔ اُس نے دل میں کہا:
“ایسے سادہ لمحات ہی زندگی کو خاص بناتے ہیں۔”

**ٹوتھ پیسٹ کا لمحہ**

ناشتہ کے بعد ندا باتھ روم گئی۔ جیسے ہی برش اٹھایا، اُس کی نظر کولگیٹ ٹوتھ پیسٹ پر پڑی۔ کل ہی اس نے طے کیا تھا کہ اسرائیلی مصنوعات چھوڑنی ہیں۔
اُس نے فوراً ڈسٹ بن کھولا اور ٹوتھ پیسٹ پھینک دیا۔ دل میں کہا:
“چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں، بڑے فیصلوں کا آغاز ہوتی ہیں۔”

ندا نے آئینے میں اپنی آنکھوں میں وہ چمک دیکھی، جو عمل کی ہوتی ہے۔

**خبرنامہ اور اٹھارہ ہزار فلس**

اچانک لاؤنج سے بابا کی آواز آئی:
“بیٹا، آ ذرا یہ سن۔”
ندا آئی تو ٹی وی پر نیوز اینکر بول رہا تھا:
“اے آئی کی مدد سے اٹھارہ ہزار جعلی فلس دنیا بھر میں مار دیے گئے۔”

ندا حیران ہوئی:
“بابا! یہ کیسا فلس؟”

بابا نے گہری سانس لے کر کہا:
“بیٹا، سچ تو یہ ہے کہ آج فکر، فلسفہ اور سوال کی قیمت ختم ہو گئی ہے۔ اے آئی نے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ کی چادر اوڑھا دی ہے۔ لوگ وہی مانتے ہیں، جو سکرین دکھاتی ہے۔”

ندا نے آہستہ سے کہا:
“تو اصل سچ کہاں جاتا ہے؟”

بابا بولے:
“دفن ہو جاتا ہے… سکرین کی چمک تلے۔”

**ٹی وی کے باندر**

ندا کی نظر اچانک ٹی وی پر لگے ایک چھوٹے سے سنسر پر پڑی، جس کی ریڈ لائٹ جل رہی تھی۔
“بابا، یہ کیا ہے؟”

بابا مسکرا کر بولے:
“بیٹا، یہ وہ باندر ہیں، جو ہمیں دیکھ رہے ہوتے ہیں، اور ہم انہیں نہیں دیکھ پاتے۔”

ندا حیران:
“کیا مطلب؟”

بابا نے وضاحت کی:
“تمہیں لگتا ہے کہ تم ٹی وی دیکھ رہی ہو، لیکن حقیقت میں وہ تمہیں دیکھ رہا ہوتا ہے۔ تمہارے تاثرات، پسند، نا پسند، سکرین پر رکنے کا وقت — سب کچھ نوٹ کر رہا ہوتا ہے۔”

ندا نے ڈرتے ہوئے پوچھا:
“کیوں؟”

بابا نے کہا:
“تمہاری سوچ کو قابو میں رکھنے کے لیے۔ وہی اشتہار، وہی نظریات، وہی کردار… جو وہ چاہیں۔”

**چھپی آنکھیں اور جدید آلات**

بابا نے آہستہ سے کہا:
“یہ صرف ٹی وی پر نہیں، تمہارے موبائل، لیپ ٹاپ، اسمارٹ واچ، حتیٰ کہ فرج میں بھی یہ سنسر آ چکے ہیں۔ تمہیں لگتا ہے تم آذاد ہو، مگر حقیقت میں تم ڈیجیٹل غلامی کی زنجیروں میں جکڑی جا چکی ہو۔”

ندا کے ہاتھ کانپنے لگے۔
“تو کیا ہم کچھ نہیں کر سکتے؟”

بابا بولے:
“کر سکتے ہیں بیٹا۔ اپنی سکرینز کا کنٹرول خود سنبھالو۔ اپنی پسند خود طے کرو۔ شعور کو بیدار کرو۔ ورنہ یہ باندر دماغ کے اندر کود پڑیں گے۔”

**ندا کا فیصلہ**

ندا نے دل میں پکا ارادہ کیا:
“جیسے ایک ٹوتھ پیسٹ بدلنے سے سکون ملا، ایسے ہی اب سکرین، سوشل میڈیا، گفتگو اور سوچ کو بھی بدلنا ہو گا۔”

اس نے اپنے موبائل کی غیر ضروری ایپس ڈیلیٹ کیں۔
ٹی وی کا کیمرہ ٹیپ کیا۔
اور دل میں کہا:
“اب بس قرآن، حق، اور اپنی ذات کی حفاظت۔ باقی دنیا جو چاہے دیکھتی رہے۔”

ندا نے آئینے میں دیکھا —
ایک نئی ندا!
جو اب صرف دنیا کی نہیں، اپنی دنیا کی بھی نگہبان تھی۔

**کہانی رکی نہیں — اب اگلی قسط**

آگے ندا “ڈیجیٹل غلامی” کے خلاف ایک چھوٹا آن لائن گروپ بناتی ہے۔
“بصیرت” کے نام سے۔
جہاں وہ نوجوانوں کو سکھاتی ہے:
– سکرین ٹائم کنٹرول کیسے کریں؟
– فالتو ایپس اور مشتبہ سافٹ ویئر کیسے پہچانیں؟
– اپنی ذاتی پرائیویسی اور ڈیٹا کا خیال کیسے رکھیں؟
– قرآن، شعور اور دلیل کی بنیاد پر سوچنا کیسے سیکھیں؟

اور ندا ہر قسط میں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ہے، جو ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔

جاری ہے…

—

چ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں