پہلی اُڑان قسط 42
“فاطمہ پھر پیدا ہوتی ہے”
ناول نگار: روبینہ شاہین
ندا آج لاہور کی ایک پُرسکون صبح میں اپنے نانا ابا کے صحن میں بیٹھی تھی۔
یہ صحن…
جہاں کئی سال پہلے وہ گڑیا کھیلتی تھی،
آج قرآن مجید کھول کر بیٹھی تھی،
کینیڈا کی تیز رفتار زندگی سے دور،
ایک الگ خاموشی میں۔
ندا نے تین ماہ کی چھٹیاں لی تھیں۔ دل چاہتا تھا کہ وہ اپنے وطن کی ہوا، اپنی زمین کی مٹی اور پرانے در و دیوار کو جی بھر کے محسوس کرے۔
لیکن دل کے کسی کونے میں ایک ادھورا سا خلا تھا…
*غزہ، فلسطین، امت…*
ندا کو یاد آیا کہ کل رات اس نے ابتہال ابی سعد کی ویڈیو دیکھی تھی۔
ایک نوجوان لڑکی،
جس نے گوگل اور مائیکروسافٹ کی منافقت کو بے نقاب کیا تھا۔
ویڈیو میں وہ واضح انداز میں کہہ رہی تھی:
> “جس دن ہم مسلمان یہ سمجھ لیں گے کہ سچائی اور استقامت صرف کتابوں میں نہیں،
> بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کے انتخاب میں چھپی ہے —
> اُس دن ہم واقعی ایک زندہ امت ہوں گے!”
ندا نے وہ ویڈیو بار بار دیکھی،
اور اس کی آنکھیں بار بار بھیگتی گئیں۔
“یہ لڑکی… یہ صرف ابتہال نہیں،
یہ آج کی فاطمہ بنتِ عبداللہ ہے…”
ندا نے دل میں کہا۔
ندا کی نانی جان نماز پڑھ کر نوافل میں مشغول تھیں۔
ندا نے ان کے قریب جا کر بیٹھتے ہوئے پوچھا:
“نانی جان، آپ کو اقبال کی نظم یاد ہے؟ وہ فاطمہ والی؟”
نانی جان کے لبوں پر مسکراہٹ آئی، جیسے دل کے کسی گہرے کمرے میں یادوں کا در کھل گیا ہو۔
“یاد ہے بیٹا، وہ نظم تو جیسے میری جوانی کی چیخ تھی۔
میں نے جب وہ پڑھی تھی،
تو مجھے لگا تھا… اقبال نے میرے لیے لکھی ہے۔
وہ فاطمہ… صرف طرابلس کی نہیں تھی،
وہ ہر زمانے کی بیٹی ہے…
جو امت کے درد سے جلتی ہے، لڑتی ہے،
اور آخر میں قربانی دے جاتی ہے۔”
ندا نے نانی جان کا ہاتھ تھام لیا:
“نانی جان… ابتہال کو دیکھ کر وہی نظم یاد آئی۔”
نانی جان نے آہستہ سے پڑھنا شروع کیا:
*شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت، نہ کشور کشائی
ندا کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
“کیا فاطمہ کو واقعی گولی لگی تھی؟”
ندا نے دھیمی آواز میں پوچھا۔
“ہاں بیٹا… وہ ایک بارود کا گولہ تھا…
جو اُمت کے زخموں پر گرا تھا،
اور اس بچی نے اپنی جان دے کر
اقبال کو رُلا دیا تھا۔”
ندا نے اپنی ڈائری کھولی۔
آج کا صفحہ کچھ الگ تھا۔
اوپر لکھا تھا:
“فاطمہ 1912ء — ابتہال 2025ء”

اس کے نیچے اس نے دو تصویریں چپکائیں:
1. ایک پرانی سیاہ و سفید تصویر — بارود میں لپٹی ہوئی ایک معصوم بچی کی، جس پر اقبال نے نظم لکھی تھی۔
2. اور دوسری — ابتہال کی سکرین شاٹ، ہاتھ میں قلم، لب پر درد، اور پس منظر میں قنوتِ نازلہ کی تلاوت۔
ندا نے لکھا:
> “سو سال گزر گئے —
> امت کے زخم اب بھی تازہ ہیں۔
> فاطمہ کی طرح، ابتہال بھی چیخ رہی ہے…
> لیکن آج وہ بارود نہیں، علم سے مقابلہ کر رہی ہے۔”
ندا کو یاد آیا، جب وہ کینیڈا میں کام کرتی تھی،
تب ایک دن Google Docs میں ایک پرانی رپورٹ ایڈٹ کر رہی تھی —
اسی دوران اس نے نیت فلیکس کھولا، جہاں اسرائیلی فوج کے حق میں ایک سیریز کی پروموشن چل رہی تھی۔
“اُسی دن دل میں ایک چنگاری سی لگی تھی،”
ندا نے سوچا،
“لیکن اُس وقت آواز نہ نکلی…
آج… ابتہال کی آواز میرے ضمیر تک جا پہنچی ہے!”
ندا نے اپنی خالہ کو فون کیا، جو سکول میں پڑھاتی تھیں:
“خالہ، آپ بچوں کو قنوتِ نازلہ یاد کروائیں۔
انہیں بتائیں کہ یہ دعا صرف جنگ کے لیے نہیں،
امت کی فریاد کے لیے ہے۔”
خالہ کی آواز کانپ گئی:
“بیٹا، مجھے تم پر فخر ہے…
ہمیں تم جیسے نوجوانوں کی ضرورت ہے،
جو صرف کینیڈا جا کر خواب نہ دیکھیں —
بلکہ وہاں سے امت کے خواب بچا کر واپس لائیں!”
ندا نے فون بند کر دیا۔
چھت پر آئی،
مشرق کی طرف دیکھا،
جہاں سورج طلوع ہو رہا تھا۔
آسمان کے کنارے پر ایک نئی روشنی پھیل رہی تھی…
ندا نے دل میں ایک اور دعا مانگی:
> “یا اللہ… میری واپسی،
> صرف چھٹیاں نہیں —
> ایک نئی ابتدا ہو۔
> میری سوچ، میری پوسٹس، میری دعائیں…
> ہر چیز تیرے دین کی بیداری بن جائے۔”
ندا نے ابتہال کو میسج کیا:
“میں تمہاری بہن ہوں،
تم تنہا نہیں ہو۔
جس جنگ میں تم ہو —
میں بھی اس کا سپاہی ہوں،
قلم کے ساتھ، دعا کے ساتھ،
اور اس یقین کے ساتھ کہ…
فاطمہ پھر پیدا ہوئی ہے!”
—
جاری ہے…