"ندا کی قرآن جرنلنگ روشنی بن گئی۔ قسط 45 میں وہ ایک آن لائن کورس کا آغاز کرتی ہے جو دلوں کو جگاتا ہے — قلم کی نوک پر روشنی 226

 پہلی اُڑان — قسط 47

تحریر شئیر کریں

 پہلی اُڑان — قسط 47

ناول نگار: روبینہ شاہین

ندا نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔ اُس کے چہرے پر وہی سکون تھا جو کل صبح پہلی بار محسوس ہوا تھا۔ چھوٹے چھوٹے قدم اور فیصلے، انسان کے اندر کتنی بڑی تبدیلی لے آتے ہیں، یہ اُس نے اب جانا تھا۔

موبائل کی بیپ پر اُس کی توجہ بھٹکی۔ حراء کا ایک اور میسج تھا:
“ندا! یونیورسٹی کے طلبہ کل تمہارے آن لائن سیشن کے لیے بےتاب ہیں۔ کیا ممکن ہو سکے گا؟”

ندا نے مسکرا کے جواب دیا:
“ان شاء اللہ، کل شام 6 بجے۔ لیکن بس ایک شرط ہے — سب اپنے دل کی نیت درست کر کے آئیں۔ یہ سیشن علم سے زیادہ دل کی بات ہو گی۔”

حراء نے ہنستی شکل بھیجی اور لکھا:
“ہم سب انتظار کریں گے!”

ندا نے موبائل سائیڈ پر رکھا، وضو کیا اور جائے نماز بچھا لی۔ سورۃ یٰسین کھولی اور آہستہ آہستہ پڑھنے لگی۔ ہر آیت پر دل میں کچھ کچھ اترتا گیا۔

“سَلامٌ قَولًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ”
(سلام ہے اُس رب کی طرف سے جو بڑا مہربان ہے)

ندا نے سوچا — کتنا سکون ہے اس ایک جملے میں۔ کتنی محبت، کتنی رحمت! آنکھوں میں نمی آ گئی۔

نماز کے بعد اُس نے جرنل کھولا اور آج کی آیت لکھی:
“وَعَسٰى أَن تَكْرَهُوا شَيْـًۭٔا وَهُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ”
(ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہی تمہارے لیے بہتر ہو)

ندا نے لکھا:
“اے اللہ! تُو جانتا ہے، میں نہیں جانتی۔ تُو بہتر کرنے والا ہے۔ مجھے راضی رکھ اپنے ہر فیصلے پر۔”

اب وہ تیار ہو کر کچن میں آ گئی۔ آج ناشتہ میں چائے اور اُبلے انڈے۔ ماما نے کہا:
“ندا! تم نے پراٹھے کیوں چھوڑ دیے؟”

ندا نے مسکرا کے کہا:
“ماما! دل چاہتا ہے جسم بھی عبادت کے قابل بنے۔ یہ چھوٹا سا قدم ہے۔”

بابا نے سر ہلایا:
“بیٹا! بڑے کام ایسے ہی چھوٹے قدموں سے ہوتے ہیں۔”

ندا نے فوراً ماما بابا کو اپنے کل کے سیشن کا بتایا۔
“بابا! میں چاہتی ہوں کہ کل آپ لوگ بھی میرے سیشن میں آن لائن آئیں۔ میں چاہتی ہوں کہ ہماری چھوٹی سی فیملی، بڑے مقصد کی سپورٹ بنے۔”

بابا ہنس پڑے:
“ضرور بیٹا، ہم ہوں گے تمہارے ساتھ۔”

ندا کے دل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

دوپہر کا وقت آیا، ندا نے اپنی اسٹڈی ڈائری کھولی۔ آج کا ٹارگٹ تھا “قربانی کے مفہوم” پر نوٹس بنانا۔ اُس نے کتابیں کھولیں، یوٹیوب پر مستند علماء کی باتیں سنیں اور لکھتی گئی:

“قربانی کا مطلب صرف جانور ذبح کرنا نہیں، اپنی خواہشات، وقت، آرام، اور نفس کی ضد کو اللہ کے لیے چھوڑ دینا بھی قربانی ہے۔”

ندا نے دل ہی دل میں عہد کیا:
“اے اللہ! میں اپنی ضدوں کی قربانی دوں گی۔ اپنی انا کو تیرے آگے رکھ دوں گی۔”

شام کا وقت
ندا کے کمرے کی کھڑکی سے ڈھلتی روشنی اندر آ رہی تھی۔ اُس نے ٹیرس پر جا کر آسمان کو دیکھا۔ دل کیا کہ کاش اُس کی آواز ابھی سب تک پہنچ جائے۔

اُس نے موبائل نکالا اور ایک ویڈیو ریکارڈ کی:
“السلام علیکم! میں ندا، آپ سے بس یہ کہنا چاہتی ہوں کہ زندگی کا ہر لمحہ عبادت کا موقع ہے۔ اگر ہم ہر کام اللہ کی رضا کے لیے کریں تو ہماری ہر سانس بھی ذکر بن جاتی ہے۔ کل میرا قرآن سیشن ہے، آپ بھی شامل ہوں، چراغ جلاتے ہیں، اندھیرے ختم کرتے ہیں۔”

ویڈیو پوسٹ کرتے ہی دوستوں کے میسج آنا شروع ہو گئے:
“ندا! تم واقعی ایک روشنی ہو۔”
“کاش ہر لڑکی تم جیسی سوچ رکھے۔”

ندا مسکرا دی۔

رات کا وقت
ندا کے کمرے میں ماما آئیں۔
“بیٹا! تم واقعی بدل رہی ہو۔ ہم بہت خوش ہیں۔”

ندا نے ماما کا ہاتھ تھاما:
“ماما! دعا کریں، میرا دل مضبوط رہے۔ بڑے فیصلے کرنے ہیں۔”

ماما نے دعا دی، ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا:
“اللہ تمہاری ہر راہ آسان کرے۔”

ندا نے آج کی ڈائری لکھی:
“بڑا بننے کے لیے بڑی قربانی دینی پڑتی ہے۔ میں تیار ہوں — کیونکہ جب نیت اللہ کے لیے ہو، راستے خود بن جاتے ہیں۔”

اگلی صبح
ندا نے جلدی اٹھ کر فجر پڑھی۔ پھر کالج کی تیاری کی۔ راستے میں اُس نے اپنی دوست مہرین کو میسج کیا:
“مہرین! آج شام سیشن میں آنا نہ بھولنا۔ تمہارا ہونا بہت ضروری ہے۔”

مہرین نے جواب دیا:
“ندا! تیرے ساتھ ہوں، تیرے مقصد کے ساتھ بھی۔”

کلاس میں پروفیسر نے سوال کیا:
“زندگی کا سب سے بڑا مقصد کیا ہو سکتا ہے؟”

ندا نے ہاتھ اٹھایا:
“سر! اللہ کی رضا اور اُس کا پیغام دنیا تک پہنچانا۔”

پروفیسر نے مسکرا کے کہا:
“شاباش بیٹا! یہی سوچ ہی اصل علم ہے۔”

ندا نے دل میں کہا:
“شکر ہے اللہ! تُو نے زبان پر سچ رکھا۔”

شام چھے بجے
آن لائن سیشن شروع ہوا۔ دنیا بھر سے طلبہ آن لائن تھے۔ ندا نے سیشن کا آغاز تلاوت سے کیا:
“فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًۭا”

ندا نے کہا:
“دیکھیں دوستو! اللہ وعدہ کرتا ہے کہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ ہم جو بھی امتحان جھیل رہے ہیں، اُس کا ایک مقصد، ایک خیر ہے۔ بس ہم نے اپنے اندر دیکھنا ہے، کہ کہاں اللہ آسانی دے رہا ہے۔”

طلبہ نے سوالات کیے۔ ندا نے تفصیل سے جواب دیے۔ ہر دل کو لگ رہا تھا جیسے کوئی اپنائیت بھری آواز ان کی الجھنوں کو سلجھا رہی ہو۔

آخر میں ندا نے دعا کی:
“یا اللہ! جو بھی یہاں موجود ہے، اُس کے دل کی روشنی بڑھا دے۔ ہماری ہر مشکل کو آسانی میں بدل دے۔ ہمیں اپنے قرآن سے جوڑ دے۔ آمین”

سب کی آنکھیں نم تھیں۔

حراء نے کہا:
“ندا! تم واقعی ہماری روشنی ہو۔ اللہ تمہیں سلامت رکھے۔”

ندا نے کہا:
“نہیں حراء! میں کچھ نہیں، یہ سب اللہ کا کرم ہے۔ ہم سب چراغ ہیں، بس جلنے کی دیر ہے۔”

اختتام
ندا نے آج کی آخری لائن لکھی:
“جب ہم اپنے حصے کا چراغ جلاتے ہیں، تو اندھیرا خود پیچھے ہٹ جاتا ہے۔”

جاری ہے…

—

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

“ پہلی اُڑان — قسط 47” ایک تبصرہ

تبصرے بند ہیں