ناول نگار: روبینہ شاہین
ندا نے لیپ ٹاپ بند کیا تو گھڑی رات کے دو بجا چکی تھی۔ آنکھوں میں تھکن تھی مگر دل عجیب سی روشنی سے لبریز۔ آج اُس نے اپنے پی ایچ ڈی تھیسس کے لیے جو باب مکمل کیا، وہ صرف تحقیق نہیں تھا، وہ اُس کی روح کا ایک عکس تھا۔
“Artificial Intelligence and the Ethics of Empathy” — یہی اُس کا موضوع تھا۔ کمپیوٹر سائنس کی خشک دنیا میں ندا نے دل کا دروازہ کھولا تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ روبوٹ صرف کام نہ کریں، وہ انسانوں کے جذبات کو سمجھیں۔ لیکن وہ یہ بھی جانتی تھی کہ جذبات کا سب سے مضبوط مرکز — قرآن ہے۔
ندا نے آج اپنی ڈائری میں لکھا:
> “میں چاہتی ہوں کہ میری تحقیق، سائنس اور روحانیت کے بیچ کا پل بنے۔ AI اگر صرف عقل ہے، تو قرآن دل کی سمت ہے۔ مجھے دونوں کو جوڑنا ہے، تاکہ انسانیت محفوظ رہے۔”
صبح کے وقت ٹورنٹو کی فلائٹ میں ندا نے دعا مانگی تھی:
> “یا اللہ! میں اپنے علم کے ساتھ واپس جا رہی ہوں، مجھے میرے ملک کے لیے فائدہ مند بنا دے۔”
ٹورنٹو ایئرپورٹ پر ابھی لینڈنگ ہوئی ہی تھی کہ موبائل پر میسجز کی بارش ہو گئی۔
“ندا! جنگ شروع ہو گئی ہے!”
“انڈیا اور پاکستان کی سرحدوں پر حالات بہت خراب ہیں۔”
“شگرو میں پاکستانی ایئر اسپیس کے اندر ایک دشمن ڈرون آ گرا ہے، لوگ ڈرے ہوئے ہیں۔”
“ندا! تم نے AI پر کام کیا ہے — کیا کوئی طریقہ ہے کہ یہ ڈرون کیسے گھسے، یہ سمجھ سکیں؟”
“ہماری آرمی پوچھ رہی ہے: یہ بارڈر کراس کیسے ہوا؟”
ندا کا دل ایک دم تیز دھڑکنے لگا۔ اُس کی انگلیاں کانپ گئیں۔ اُس نے فوراً دعا کی:
> “یا اللہ! یہ وقت ہے جب میرا علم، صرف ڈگری نہیں، ایک خدمت بنے۔ مجھے ہمت دے۔”
وہ فوراً الرٹ ہو گئی۔ اپنے کمرے میں آ کر لیپ ٹاپ کھولا، فائلیں نکالیں اور اپنی تھیسس ٹیم کے ایک ساتھی، حمزہ کو کال کی:
“حمزہ! مجھے ہماری اُس AI detection model کی فائل بھیجو جو ہم نے نارتھ بارڈر اسکیننگ کے لیے تیار کی تھی۔ میں چاہتی ہوں اسے پاکستانی حکام تک پہنچایا جائے۔”
حمزہ نے حیرت سے پوچھا: “ندا! تم ابھی اتری ہو، اور جنگ شروع ہو چکی ہے — تم یہی کرنا چاہتی ہو؟”
ندا نے پُرعزم آواز میں کہا:
> “ہاں! یہی تو میری اُڑان کا مقصد تھا — علم جو صرف کتابوں تک محدود نہ ہو، بلکہ میدان میں اُترے۔”
چند گھنٹوں میں نیشنل سائبر کمانڈ سے ایک آفیشل میل آئی: “We need a virtual meeting with Ms. Nida Farooq. Urgent. Defense AI team.”
ندا نے سکارف درست کیا، Zoom آن کیا، اور خود کو گہری سانس کے ساتھ اس لمحے کے لیے تیار کیا — جس کا اُس نے کبھی خواب دیکھا تھا، مگر اب حقیقت بن رہا تھا۔
Zoom میٹنگ شروع ہوئی۔
آن لائن اسکرین پر فوجی وردیوں میں بیٹھے افراد، کچھ خفیہ اداروں کے ماہرین، اور ایک دو ٹیکنیکل تجزیہ نگار شامل تھے۔
ایک سنجیدہ آواز ابھری —
“Ms. Nida, we’ve studied your AI model abstract. What we want to know is — how it can help us understand this recent drone breach?”
ندا نے پروفیشنل انداز میں جواب دیا:
“سر، میرے ماڈل کے دو اہم پہلو ہیں:
1. Pattern-based Threat Anticipation — یہ کسی بھی معمول سے ہٹ کر پرواز کے راستے، رفتار، اور سابقہ ڈیٹا کی بنیاد پر خطرے کو پہچانتا ہے۔
2. Ethics-Infused Response System — جہاں ہم AI کو صرف ہدف تک پہنچنے والا آلہ نہیں، بلکہ انسانی جذبات کا لحاظ رکھنے والا مشین بنانا چاہتے ہیں۔”
جنرل وقار نے ذرا جھک کر کہا: “اور یہ ماڈل ابھی تک پاکستان میں استعمال نہیں ہوا؟”
ندا نے آہستگی سے کہا: “جی سر، کیونکہ مجھے ابھی تک موقع نہیں ملا… لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم indigenous AI solutions پر انحصار کریں — جو باہر کی dependency کے بغیر ہمارا دفاع کریں۔”
ایک لمحے کی خاموشی کے بعد نیشنل سائبر کمانڈ کے ڈائریکٹر بولے:
“ہم اسے ایک پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر فوری implement کرنا چاہتے ہیں — شگرو، گلگت اور راولاکوٹ سیکٹرز میں۔ آپ ہمیں source code، ethical parameters اور collaboration اجازت دیں گی؟”
ندا نے اثبات میں سر ہلایا:
> “یقیناً، میری تحقیق اگر صرف میرے لیے رہے تو علم نہیں، صرف ego ہے۔”
اسی لمحے ایک سینیئر تجزیہ نگار نے ندا کو بتایا:
“ہم آپ کو دشمن ڈرون کا decrypted AI feed دے رہے ہیں — تجزیہ کیجیے کہ ان کے الگوردم میں کون سا loophole ہے، اور یہ حملہ محض intrusion تھا یا کچھ اور…”
ندا کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
یہ صرف امتحان نہیں تھا — یہ اس کی “پہلی اُڑان” کی عملی منزل تھی۔
میٹنگ ختم ہوئی، تو ندا نے اپنی ڈائری کھولی:
> “میں نے قرآن پڑھا تھا: ‘فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ’
لیکن آج میرا AI کہہ رہا ہے: ‘جا، تُو کچھ کر — اللہ نے تجھے علم دیا ہے۔’
علم عبادت بنے، یہی میری پرواز ہے۔”
ندا نے ٹھنڈی سانس لی اور کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ گئی۔ رات پھر لمبی تھی، لیکن وہ تھکی نہیں — وہ جاگ رہی تھی، اپنے وطن کے لیے، اپنی تحقیق کے لیے، اور اپنے ایمان کے لیے۔
(جاری ہے…)
پہلی اُڑان قسط 48