پہلی اڑان ناول
روبینہ شاہین
قسط ١

ندا کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئیں جب پہلی بار ٹورنٹو ایئرپورٹ کے شیشے سے باہر جھانکا۔ ہر طرف برف ہی برف! “یا اللہ! کیا یہ پورا شہر فریج میں ہے؟” اس نے دل ہی دل میں سوچا۔ اپنی زندگی کے 24 سال لاہور کی گرمی، دھول اور گہما گہمی میں گزارنے والی ندا کو یہ سب ایک خواب جیسا لگا۔ وہ یہاں کینیڈا کی مشہور یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی کرنے آئی تھی، لیکن ماحول دیکھ کر اسے یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ پہلے کتابوں کا سامنا کرے یا برف کے ڈھیر کا؟
ندا کا پہلا مسئلہ اس کی معصومیت تھی۔ وہ ہر چیز کو سیدھے سادے انداز میں دیکھنے کی عادی تھی۔ اس نے تو پاکستان میں کبھی بارش کی تیز ہوا میں بھی چپل پہن کر باہر جانے کا سوچا تھا، اور یہاں -15 ڈگری سینٹی گریڈ میں گرم جوتوں کی ضرورت کا احساس ہوا تو بھی وہ اپنی ہوائی چپل پر بضد تھی۔ “ابے! جوتے اتنے مہنگے ہیں، پاکستان میں یہ رقم دے کر پورے چکن بریانی کا ڈبہ آ سکتا تھا!” اس نے شکایت کی، مگر پھر شدید سرد ہوا کے تھپڑ کھانے کے بعد مجبوراً برف سے بچاؤ کے جوتے خریدنے پڑے۔
ندا نے یونیورسٹی جانے کے لیے پہلی بار باہر قدم رکھا۔ گلیاں سنسان، برفانی ہوا ایسے چل رہی تھی جیسے کسی نے اے سی کو فل رفتار پر کر دیا ہو۔ ہاتھ جیب میں ڈالے، کانپتے ہوئے وہ بس اسٹاپ پہنچی۔ وہاں کھڑے لوگوں کی چپ اور خاموشی اسے بہت عجیب لگی۔ “یار، کوئی بات چیت کیوں نہیں کرتا؟ پاکستان میں تو لوگ انتظار کرتے ہوئے بس کے ڈرائیور کے آبا و اجداد تک پہنچ جاتے ہیں!”
ندا کی معصومیت کی انتہا یہ تھی کہ اس نے سمجھا کہ بس رکوانے کے لیے ہاتھ ہلانا ضروری ہے۔ جیسے ہی دور سے بس آتی دکھائی دی، اس نے دونوں ہاتھ فضا میں بلند کیے اور اشارے دینے لگی، جیسے ریسکیو ہیلی کاپٹر بلوا رہی ہو۔ ڈرائیور نے بھی اسے غور سے دیکھا، اور جب بس رکی تو لوگ اسے ایسے دیکھنے لگے جیسے وہ کسی دوسرے سیارے سے آئی ہو۔ ندا شرمندہ سی ہو کر چپ چاپ بس میں بیٹھ گئی۔
ندا اپنی پہلی کلاس میں پہنچی تو اس کے سامنے ایک بھاری بھرکم پروفیسر کھڑے تھے۔ وہ اپنی تیز رفتار انگریزی میں لیکچر دے رہے تھے، اور ندا کو ایسے لگا جیسے وہ کسی نئی زبان میں بات کر رہے ہوں۔ “یہ لوگ کیا بول رہے ہیں؟ فزکس ہے یا شاعری؟” اس نے دل ہی دل میں سوچا۔
کلاس کے بعد، جب پروفیسر نے ندا سے کوئی سوال پوچھا تو اس کی گھبراہٹ عروج پر پہنچ گئی۔ وہ بولی، “سر، میری انگریزی تھوڑی سلو ہے۔” پروفیسر مسکراتے ہوئے بولے، “سلو؟ آپ کی تو انگریزی اتنی پیاری ہے کہ مجھے لگتا ہے آپ نے فلموں سے سیکھی ہے!” ندا نے شرم سے سر جھکا لیا اور دل ہی دل میں سوچا، “شکر ہے، پاکستان میں جو انگلیش فلمیں دیکھی تھیں، وہ کام آ گئیں!”
ندا کو کینیڈین کھانے سمجھنا بھی ایک چیلنج تھا۔ پہلے ہی دن وہ کیفے میں گئی اور “پاؤٹین” آرڈر کر لیا، جو کینیڈا کا مشہور کھانا ہے۔ جب پلیٹ سامنے آئی، تو اس نے حیرانی سے کہا، “یہ کیا ہے؟ فرائز پر سالن؟ یہ لوگ سالن کو روٹی کے بغیر کیسے کھاتے ہیں؟” وہ دو دن تک فرائز کے ساتھ سالن کھانے کے طریقے پر غور کرتی رہی اور آخرکار خود ہی قریبی پاکستانی ریسٹورنٹ ڈھونڈ لیا۔
ندا کو کینیڈین لوگوں کا حد سے زیادہ شائستہ رویہ بھی حیران کرتا تھا۔ ایک دن جب وہ سپرمارکیٹ گئی، تو کسی نے اسے غلطی سے ٹکر مار دی اور فوراً کہہ دیا، “آئی ایم سوری!” ندا چونک گئی، “ارے! یہ لوگ سوری ایسے بولتے ہیں جیسے سانس لے رہے ہوں۔ پاکستان میں تو بندہ کہہ دے کہ ‘سوری’، تو دوسرے دن محلے میں افواہ پھیل جاتی ہے!”
ندا کو برف صاف کرنے کا تجربہ پہلی بار ہوا جب اسے یونیورسٹی جانے کے لیے اپنی کار نکالنی تھی۔ اس نے گلی میں اپنی گاڑی برف کے ڈھیر میں دبی ہوئی دیکھی تو آنکھوں میں آنسو آگئے۔ “یا اللہ! یہ کون سی آزمائش ہے؟ گاڑی ہے یا آئس کریم؟”
اس نے ہاتھ میں جھاڑو پکڑی اور کار سے برف صاف کرنے لگی، مگر برف اتنی ضدی تھی کہ وہ بیچاری آدھے گھنٹے تک لڑتی رہی۔ اس کے بعد تھک ہار کر اندر آ گئی اور کہا، “یہ کام صرف پاکستانی مرد ہی کر سکتے ہیں، میں تو نہیں!”
کلاس میں جب اس کی انگریزی کے تلفظ پر مذاق کیا گیا، تو اس نے مزاحیہ انداز میں جواب دیا، “آپ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ میری انگلش ایسی کیوں ہے؟ لیکن کیا کریں، ہم پاکستانی ہیں، ہماری زبان اردو ہے، اور انگریزی ہمارا شوق!” سب ہنس پڑے، اور ندا کو احساس ہوا کہ کینیڈین لوگ مزاح کو خوب سراہتے ہیں۔
کچھ دنوں کے بعد ندا نے کینیڈین موسم، ان کے کھانے، اور طرزِ زندگی کو اپنانا شروع کر دیا۔ اب وہ صبح برف صاف کرنا، گرم کپڑے پہننا، اور کیفے میں کافی پینا سیکھ چکی تھی۔ لیکن اس کے دل میں پاکستان کی گرمی اور لاہور کے کھانے کی یاد انگڑائیاں لیتی رہتی تھی۔
ایک دن جب اس نے لاہور کی گرمی یاد کی، تو اس کے دل سے ایک دعا نکلی، “یا اللہ! اس سردی کو ختم کر دے یا مجھے لاہور کی گلیوں میں واپس بھیج دے!” لیکن ساتھ ہی اسے یہ احساس ہوا کہ یہی تجربے زندگی کا اصل حسن ہیں۔
ندا اب نہ صرف فزکس میں ماہر ہو نا ہے بلکہ زندگی کے مختلف پہلوؤں کو بھی سمجھنا ہے۔ وہ جاننا چاہتی ہے کہ نئی جگہوں، حالات، اور موسموں میں خود کو ڈھالنا ہی اصل کامیابی ہے۔
ندا نے نہ صرف اپنے معصوم انداز سے لوگوں کے دل جیتے ہیں بلکہ اپنی محنت سے کینیڈا جیسے سخت ماحول میں بھی اپنی جگہ بنا نی ہے۔ لیکن وہ اس بات سے ناواقف ہے اس کی ہوا چپل اور برف کے قصے ہمیشہ کے لیے اس کے دوستوں کے قہقہوں کا سبب بن جائیں گئے۔
جاری ہے
پہلی اڑان ناول 1