245

پہلی اڑان 11 ناول

تحریر شئیر کریں

قسط 11
روبینہ شاہین

ندا کو ٹورنٹو یونیورسٹی میں آئے تین ماہ ہو چکے تھے۔ یہ تین ماہ اس کے لیے ایک خواب کی تعبیر کی مانند تھے، لیکن اس تعبیر کے ساتھ کئی چیلنجز بھی وابستہ تھے۔ وہ پاکستان سے اسکالرشپ پر یہاں آئی تھی اور کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی کر رہی تھی۔ اپنے پہلے سمیسٹر میں ہی اسے محسوس ہوا کہ یہ سفر آسان نہیں ہوگا، مگر اس کی سادگی اور معصومیت نے اسے دوسروں سے ممتاز بنا دیا تھا۔

ندا ہوسٹل میں رہنے کے بجائے ایک پرسکون علاقے میں الگ رہائش پذیر تھی۔ اسے اپنی آزادی بہت عزیز تھی، اور وہ اپنے فیصلوں میں خود مختار رہنا چاہتی تھی۔ اپنی چھوٹی سی گاڑی کے ذریعے وہ روزانہ یونیورسٹی آتی جاتی، اور راستے میں اسے ٹورنٹو کی سرد ہوائیں اور برف پوش درخت ہمیشہ اپنی طرف متوجہ کرتے۔

اس کی زندگی میں ثانیہ اور حراء کی موجودگی کسی نعمت سے کم نہ تھی۔ ثانیہ، جو ندا کی یونیورسٹی کے دنوں کی دوست تھی، ہمیشہ اس کے لیے ایک مضبوط سہارا بنی رہی تھی۔ حراء، ایک پاکستانی-کینیڈین لڑکی، نے ندا کو ٹورنٹو کی زندگی میں ڈھلنے میں بہت مدد دی تھی۔ وہ دونوں اس کی مشکلات سمجھتیں اور ہر قدم پر اس کے ساتھ کھڑی ہوتیں۔

۔…..
ندا کا دن عام طور پر یونیورسٹی کی مصروفیت میں گزرتا۔ وہ صبح جلدی اٹھتی، ناشتہ کرتی اور قرآن کی تلاوت کے ساتھ دن کا آغاز کرتی۔ اس کے بعد یونیورسٹی جاتی، جہاں دن بھر لیکچرز اور تحقیق میں مصروف رہتی۔ شام کو وہ گھر آ کر کچھ دیر آرام کرتی اور پھر اپنا کھانا خود بناتی۔

اس کا ہفتہ وار معمول بھی طے تھا۔ ہفتے کی شام ندا اکثر ثانیہ اور حراء کے ساتھ گزارتی۔ وہ کبھی کیفے جاتے، کبھی کسی کتابوں کی دکان پر، تو کبھی ٹورنٹو کے مشہور مقامات دیکھنے نکل جاتے۔
۔…..
ایک دن یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس کے کلاس روم میں ایک نیا مباحثہ شروع ہوا۔ پروفیسر لینچ نے سب کو جمع کیا اور ایک کتاب کے حوالے سے سوال پوچھا۔ “کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کمپیوٹر سسٹمز کیسے کام کرتے ہیں؟ اور یہ کیوں ضروری ہے کہ ہم کمپیوٹر کی بنیادی مشین لینگویج کو سمجھیں؟”

ندا نے فوراً ہاتھ اٹھایا اور کہا، “یہ بنیادی سوالات ہیں جنہیں سمجھنا ضروری ہے۔ کمپیوٹر سسٹم کی جڑیں وہ مشین لینگویج ہیں جو انسانوں کے ذریعے نہیں بلکہ کمپیوٹر کے ذریعے ہی سمجھی جا سکتی ہیں۔ اس کے بغیر ہمیں پروگرامنگ کی سطح پر مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔”

پروفیسر نے ندا کی بات پر سر ہلا کر کہا، “بہت اچھا! کمپیوٹر سائنس میں یہ بنیادی باتیں ہمیں سسٹمز کے اندرونی کاموں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ آج ہم اس پر بات کریں گے کہ مشین لینگویج اور ہائی لیول پروگرامنگ لینگویج کے درمیان کیا فرق ہے۔”

پروفیسر نے پھر ایک مثال دی: “فرض کریں آپ کے پاس ایک کتاب ہے جو آپ پڑھنا چاہتے ہیں، لیکن اس کتاب میں صرف آپ کی زبان میں ایک لفظ ہے، باقی سب کچھ انگریزی یا کسی دوسری زبان میں ہے۔ آپ کو اس کتاب کے مواد کو سمجھنے کے لیے پہلے اس زبان کو سمجھنا پڑے گا۔ کمپیوٹر بھی اسی طرح کام کرتے ہیں۔ جب آپ ہائی لیول پروگرامنگ زبان میں کوڈ لکھتے ہیں، تو اس کو مشین لینگویج میں تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ کمپیوٹر اسے سمجھ سکے۔”

ندا اور اس کے ساتھی طالب علم اس بحث میں شامل ہو گئے اور کمپیوٹر سائنس کی اہمیت اور پیچیدگی پر گفتگو کرنے لگے۔ ندا نے اس موقع پر اپنی تحقیق سے ایک دلچسپ نکتہ پیش کیا۔ “ہمیں ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مشینیں صرف انسانوں کی تخلیق ہیں، لیکن جب ہم ان سے زیادہ تر توقعات رکھتے ہیں تو ہمیں ان کی صلاحیتوں کو بہتر سمجھنے کی ضرورت ہے۔”

رات کو ندا نے کھڑکی کے باہر برف باری کا منظر دیکھا۔ سفید برف نے ہر چیز کو ڈھانپ لیا تھا، اور سردی کی شدت میں اضافہ ہو رہا تھا۔ وہ سوچ میں گم ہو گئی۔ اسے اپنے والدین اور پاکستان کے وہ دن یاد آئے جب وہ اپنی ماں کے ساتھ چائے پیا کرتی تھی اور والد کے مشورے سنتی تھی۔
۔…..
اگلے دن ندا نے کمپیوٹر سائنس کے اپنے ایک ساتھی سے بات کی، “آج کا لیکچر بہت اچھا تھا، مگر میں چاہتی ہوں کہ ہم مشین لینگویج کے بارے میں مزید گہرائی میں بات کریں۔ کیا تمہیں لگتا ہے کہ کمپیوٹر کی ذہانت کا مستقبل وہی ہو سکتا ہے جو ہم انسانوں کا ہے؟”

اس کے ساتھی نے جواب دیا، “یہ سوال بہت اہم ہے، اور اس پر مزید تحقیق کرنا ضروری ہے۔ ٹیکنالوجی اس قدر ترقی کر رہی ہے کہ ہم جس مرحلے پر ہیں، وہ صرف آغاز ہے۔”
۔……..

رات کا وقت تھا، اور ندا نے اپنی معمول کی طرح قرآن پڑھنے کے بعد جرنلنگ کی۔ وہ آج سورہ صف کی تلاوت کر رہی تھی۔ “صف” کا مطلب ہے صف بندی کرنا یا لائن بنانا۔ جب ندا نے اس سورہ پر غور کیا، تو اسے بہت عجیب محسوس ہوا کہ یہ وہی چیز تھی جو کینیڈا میں اس نے سب سے زیادہ دیکھی تھی—ہر جگہ نظم و ضبط، صف بندی، اور صحیح لائنوں میں بیٹھنا۔ اور یہ سب کچھ اتنا اہم تھا، لیکن یہ ہمارے قرآن کا ایک موضوع ہے جس پر ایک سورت موجود ہے۔ سورہ صف میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ کس طرح جماعتی نظم و ضبط اور صف بندی کو ترجیح دی گئی ہے۔

ندا نے اپنی سوچ میں غمگینی محسوس کی۔ اس نے اپنی ذہن میں پاکستان کا تجزیہ کیا، جہاں کئی سالوں سے لائن سیدھی کرنے کا تصور ہی نہیں آیا۔ اکثر جگہوں پر لوگ کھڑے ہو کر اپنی صفیں بناتے ہیں، پھر بے ترتیب طریقے سے چلتے ہیں، گویا ان کی زندگیوں میں بھی نظم و ضبط کی کمی ہے۔ اگر ہم اپنے معاشرتی اور مذہبی زندگی کے اصولوں پر نظر ڈالیں تو ہمیں ان صفوں کی اہمیت سمجھ آتی ہے، جیسے پیارے نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ “اپنی صفیں سیدھی کرو، ورنہ اللہ تمہارے دل ٹیڑھے کر دے گا۔”

سورہ صف میں اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کو صف بندی کی اہمیت سکھائی ہے، جس کا مقصد صرف ایک جسمانی صف نہیں، بلکہ ایک اجتماعی نظم و ضبط کی تعلیم دینا ہے۔ جب صفیں سیدھی ہوتی ہیں تو ایک جماعت میں اتحاد اور اتفاق پیدا ہوتا ہے۔ صفوں کا سیدھا ہونا دراصل دلوں کی صفائی اور مضبوطی کی طرف اشارہ ہے۔ اس پر عمل کرنے سے نہ صرف عبادات میں بہتری آتی ہے، بلکہ ہماری روزمرہ زندگی میں بھی سکون اور ترتیب آتی ہے۔

ندا کو یاد آیا کہ اس نے جب بھی کینیڈا میں نظم و ضبط دیکھا، وہ اللہ کے فرمان کی حقیقت کو سمجھ پائی تھی۔ کینیڈا میں ہر چھوٹا بڑا ادارہ اپنے نظم و ضوابط پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ لوگ لائن میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں، اور یہ سب کچھ بغیر کسی جھگڑے یا بے ترتیبی کے ہوتا ہے۔ جب ندا نے یہ سب دیکھا، تو اس کے دل میں ایک سوال آیا: “اگر یہ تنظیم اور صف بندی یہاں اہمیت رکھتی ہے، تو ہم کیوں اپنے ملک پاکستان میں اس اصول کو پورا نہیں کر پاتے؟”

پاکستان میں اکثر عوامی مقامات پر لائن کی سیدھ اور نظم و ضبط کی کمی دیکھنے کو ملتی ہے۔ جب کسی عوامی جگہ پر لوگوں کو لائن بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، تو اکثر شور شرابہ اور بے ترتیبی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ہماری ثقافت میں جڑ پکڑ چکا ہے کہ ہم دوسروں کی باری کا احترام نہیں کرتے، اور یہ اس بات کا عکاس ہے کہ ہمارے معاشرتی دلوں میں بھی صفوں کی طرح بے ترتیبی ہے۔

ندا نے پاکستان کی معاشرتی حالت کا تجزیہ کیا۔ ہمارے معاشرے میں صفوں کی سیدھی لائن کے علاوہ بہت سی اور چیزیں بھی بکھری ہوئی ہیں۔ یہاں کے لوگ اکثر “میرے بعد پھر تم” کے نظریے میں جیتے ہیں، اور کسی دوسرے کی ضرورت کا خیال کم ہی رکھتے ہیں۔ اس کا اثر ہمارے اداروں، سڑکوں، اور سماجی تعلقات پر بھی پڑتا ہے۔

ندا نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس کو یہ موقع ملا کہ وہ قرآن کے ذریعے ان باتوں کو سمجھے اور ان پر غور کرے۔ اس کے دل میں ایک شکرگزاری کا جذبہ پیدا ہوا۔ اسے احساس ہوا کہ اللہ نے اسے یہ فکر دینے کے لیے اس سورہ کی تلاوت کرائی تاکہ وہ نہ صرف اپنے ملک کی حالت پر غور کرے، بلکہ اپنے آپ کو بھی بہتر بنانے کی کوشش کرے۔

ندا نے اپنے رب کا شکر ادا کیا کہ اس نے اسے یہ ہدایت دی کہ وہ اپنی زندگی میں نظم و ضبط اور صف بندی کی اہمیت کو سمجھے۔ اس نے اپنے جذبات میں اعتراف کیا کہ جتنا پیار اور محبت کینیڈا کی زندگی میں تھی، ویسا پاکستان میں نہیں تھا، اور اسے یہ سب کچھ اپنے وطن میں لانے کی ضرورت تھی۔

ندا نے اپنی جرنل میں لکھا:
“اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے قرآن کی یہ ہدایت دی، تاکہ میں صفوں کی سیدھی لائن کی اہمیت کو سمجھ سکوں اور اسے اپنی زندگی میں لا سکوں۔ اب میرا عزم ہے کہ میں نہ صرف اپنے دل کی صف بندی کروں گی، بلکہ اپنے معاشرتی تعلقات میں بھی نظم و ضبط کو اہمیت دوں گی۔”

**جاری ہے…**

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں