232

پہلی اڑان 2 ناول

تحریر شئیر کریں

پہلی اڑان ناول
_روبینہ شاہین_
قسط ٢
۔……
یونیفارم کے مطابق اپنا لباس منتخب کیا۔ اپنی دیہاتی عادتوں کی وجہ سے ندا نے ایک خوبصورت مگر سردی سے غیر محفوظ لباس پہن لیا۔ ماں کے بار بار کہنے کے باوجود موٹے کوٹ اور دستانے ساتھ نہ لانا اس کے لیے جلد ہی مسئلہ بن گیا۔

یونیورسٹی کی بس میں بیٹھتے وقت اسے اندازہ ہوا کہ کینیڈین سردی واقعی کسی کو بھی تھکا سکتی ہے۔ برف کے وسیع میدان اور ہر طرف سفید چادر اسے خوبصورت ضرور لگ رہی تھی، لیکن ساتھ ہی جسم کو یخ کر دینے والی ہوائیں اس کی برداشت کا امتحان لے رہی تھیں۔

یونیورسٹی پہنچتے ہی ندا کے نئے چیلنجز شروع ہو گئے۔ کلاس میں پروفیسر کے انگریزی لہجے نے اسے الجھا دیا۔ اسے انگریزی اچھی طرح آتی تھی، لیکن یہ کینیڈین لہجہ اس کے لیے اجنبی تھا۔ پروفیسر نے ایک پیچیدہ موضوع پر لیکچر دینا شروع کیا، اور ندا نے بھرپور کوشش کے باوجود بہت کچھ سمجھنے سے قاصر رہی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ شاید یہ وقت کے ساتھ آسان ہو جائے گا۔

ندا کو دیسی ناشتے کا عادی ہونے کی وجہ سے خالی پیٹ یونیورسٹی جانے کا نقصان جلد ہی محسوس ہوا۔ کلاس کے درمیان ہی اسے معدے کی گرماہٹ اور چکر آنے لگے۔ اس نے اپنے دل میں ماں کو کوسا، “کاش ناشتہ کرنے کی بات مان لی ہوتی۔”

کلاس ختم ہوتے ہی ندا کینٹین پہنچی۔ وہاں کا منظر دیکھ کر اسے ہلکا سا جھٹکا لگا۔ ہر کوئی اپنے کھانے کی ٹرے لے کر الگ الگ بیٹھا ہوا تھا۔ پاکستانی یونیورسٹیوں کی رونق، دوستوں کے ہجوم، اور بانٹ کر کھانے کی عادت کے برعکس یہاں ہر کوئی اپنی دنیا میں مصروف تھا۔ ندا نے اپنی پلیٹ اٹھائی اور سوچا کہ شاید وقت کے ساتھ وہ اس تنہائی کی عادت ڈال لے گی۔

یونیورسٹی سے واپسی پر ندا نے کال کر کے اپنی دوست فاطمہ سے اپنے دن کے بارے میں بات کی۔
ندا: “فاطمہ، یہ جگہ عجیب ہے۔ نہ کوئی بات کرنے والا، نہ کوئی ہنسنے والا۔ اور یہ ان کا انگریزی لہجہ… میرا تو سر چکرا رہا ہے!”
فاطمہ: “ندا، صبر کرو۔ وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اور ناشتے کے بغیر نہ نکلا کرو، یہ تمہاری اپنی غلطی ہے۔”

ندا نے خود کو تسلی دی اور واپس اپنے اپارٹمنٹ چلی گئی۔ گھر پہنچ کر اس نے جلدی سے اپنی چھوٹی سی ڈائری نکالی اور دن کے واقعات لکھنے لگی:
“نئے راستے، نئے لوگ، اور نئے لہجے۔ سب کچھ مختلف ہے۔ یہ سفر آسان نہیں ہوگا، لیکن شاید یہی میرا خواب تھا۔ وقت اور محنت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔”

ندا کی زندگی کا یہ پہلا دن ایک سبق تھا کہ خوابوں کی تعبیر کے لیے راستہ ہمیشہ ہموار نہیں ہوتا۔ اس نے خود سے وعدہ کیا کہ وہ ہار نہیں مانے گی اور اس نئے ماحول کو اپنا گھر بنا کر رہے گی۔

—
**اگلی قسط میں:**
ندا کو کینیڈین معاشرے میں خود کو ڈھالنے کے لیے کیا جدوجہد کرنی پڑی؟ کیا وہ اپنے مسائل کا حل تلاش کر سکے گی؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں