پہلی اڑان 3 ناول
قسط 3
روبینہ شاہین
—
ندا کو کینیڈا آئے ہوئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا، اور آج یونیورسٹی سے چھٹی تھی۔ سردی کی شدت اور تنہائی کے عالم میں وہ اپنے بستر پر لیٹی گھر والوں کو یاد کر رہی تھی۔ دل چاہ رہا تھا کہ اڑ کر پاکستان واپس چلی جائے اور اس برفانی قید سے جان چھوٹے۔ اسی دوران وہ ماضی کے ان لمحات میں کھو گئی جب وہ پہلی بار کینیڈا آئی تھی۔
***
ندا نے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اپنے والدین کو گلے لگا کر رخصت لی تھی۔ دل میں خوشی اور گھبراہٹ دونوں تھیں۔ ٹورنٹو پیئرسن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترتے ہی ہر چیز نئی اور اجنبی محسوس ہو رہی تھی۔ دل میں عجیب سا ڈر تھا کہ اب کیا ہوگا؟
ایئرپورٹ کی چمکتی روشنیوں میں وہ خود کو ایک معمولی دیے کی مانند محسوس کر رہی تھی۔ لیکن جب اس نے یونیورسٹی آف ٹورنٹو کی مخصوص وین کو دیکھا، جو اسے لینے آئی تھی، تو دل میں سکون کا ایک عجیب سا احساس ہوا۔
“رات کے ایک بجے… اور وہ مجھے لینے آئے ہیں؟ یہ لوگ تو واقعی وقت کی قدر کرتے ہیں!”
گاڑی میں بیٹھتے ہوئے ندا نے باہر برف سے ڈھکے مناظر کو دیکھا۔ یہ لمحہ اس کے لیے ناقابل یقین تھا۔ اس نے دل میں سوچا،
**”یہاں تک پہنچنا کسی خواب کے پورا ہونے جیسا ہے، اور اب پیچھے ہٹنے کا سوال ہی نہیں۔”**
یہی خیال اس کے دل میں ایک مضبوط عزم پیدا کر گیا تھا۔
***
ندا نے ماضی کے اس واقعے کو یاد کیا اور حقیقت کی دنیا میں واپس لوٹ آئی۔
**”میں یہاں اپنا خواب پورا کرنے آئی ہوں، اور وقت ضائع کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا!”**
وہ جلدی سے بستر سے اٹھی، ناشتہ کیا اور چائے پینے کا ارادہ ترک کرکے قریبی مارکیٹ گروسری لینے چلی گئی۔ مارکیٹ میں تیزی سے چیزیں ڈھونڈتے ہوئے اس نے اپنی مصروف زندگی کو دوبارہ ترتیب دینا شروع کیا۔ اسے لانڈری کرنی تھی، کھانا بنانا تھا، اور اپنے اگلے دن کے شیڈول کی تیاری کرنی تھی۔
ندا کے چہرے پر اب ایک عزم کی جھلک تھی۔ وہ جانتی تھی کہ محنت اور مستقل مزاجی ہی اسے کامیابی کے راستے پر لے جا سکتی ہیں۔
ندا نے گروسری کی فہرست جلدی سے تیار کی اور اپنی جیکٹ پہن کر گھر سے نکل گئی۔ باہر کا موسم شدید سرد تھا، لیکن ندا کو اب اس سردی کی عادت ڈالنی تھی۔ وہ ٹورنٹو کے ایک علاقے **’فِنچ ویسٹ’** میں رہتی تھی، جو زیادہ تر طلباء اور مسلم کمیونٹی سے آباد تھا۔ یہ جگہ اپنی مساجد، حلال ریسٹورنٹس، اور ثقافتی دکانوں کے لیے مشہور تھی۔
گھر کے قریب ہی ایک **”علیزہ حلال مارکیٹ”** تھی جہاں سے ندا زیادہ تر گروسری لیا کرتی تھی۔ یہ مارکیٹ ہر قسم کی تازہ سبزیوں، گوشت، اور پاکستانی مصالحوں کے لیے مشہور تھی۔ اس کے ساتھ ہی ایک چھوٹا سا کیفے **’کینیڈین کافی ہاؤس’** بھی تھا، جہاں طلبہ پڑھائی کے دوران کافی پیتے نظر آتے تھے۔ قریب ہی **’اسلامک فوڈ کورٹ’** تھا، جہاں شوارما، بریانی، اور نہاری جیسی پاکستانی ڈشز ملتی تھیں۔
ندا گروسری باسکٹ میں چیزیں ڈالتی جا رہی تھی—دودھ، انڈے، حلال گوشت، اور کچھ پاکستانی برانڈز کے اسنیکس۔ دکان میں مختلف زبانیں سنائی دے رہی تھیں—اردو، عربی، اور انگریزی۔ یہاں کی گرمجوشی اور ثقافتی تنوع نے ندا کو کچھ دیر کے لیے پاکستان کی یاد دلا دی۔
***
گروسری سے واپسی پر، ندا نے فیصلہ کیا کہ وہ گھر پہنچ کر اپنے والدین کو فون کرے گی۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی ندا نے سب سامان رکھا اور اپنی ماں کا نمبر ڈائل کیا۔ کچھ لمحوں کی گھنٹی کے بعد فون اٹھا:
ماں: “السلام علیکم، بیٹا! کیسی ہو؟”
ندا: “وعلیکم السلام، امی! میں ٹھیک ہوں، آپ کیسی ہیں؟”
ماں: (آواز میں محبت اور پریشانی) “ہم سب ٹھیک ہیں، بیٹا۔ تمہارے بھائی نے کہا تھا کہ تمہارے کالج کا پہلا دن کیسا گزرا؟”
ندا: “امی، سب ٹھیک ہے۔ یونیورسٹی بہت بڑی اور خوبصورت ہے۔ لیکن یہاں کی سردی ناقابل برداشت ہے۔”
ماں: “بیٹا، تمہارے لیے گرم کپڑے بھیجے تھے، پہننا مت بھولنا۔ اور کھانے کا بھی دھیان رکھنا۔”
ندا: (مسکراتے ہوئے) “امی، آپ کی دعاؤں کے بغیر کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ آپ سب بہت یاد آتے ہیں۔”
ندا کی آواز بھر آئی تھی، لیکن اس نے خود کو سنبھالا۔
ماں: “بیٹا، ہم تم پر فخر کرتے ہیں۔ بس دعا کرتی ہوں کہ اللہ تمہیں کامیاب کرے۔”
***
ندا نے فون رکھا تو اس کے دل میں عزم مزید مضبوط ہو گیا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ سفر آسان نہیں، لیکن وہ اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے تیار تھی۔
یہی سوچتے ہوئے ندا نے گروسری کا سامان ترتیب دیا، کھانا بنایا، اور اپنے اگلے دن کی تیاری کرنے لگی۔ باہر کا موسم برفانی تھا، لیکن اندر ندا کے دل میں محنت اور کامیابی کی ایک چمک تھی۔
جاری ہے…
پہلی اڑان 3 ناول