پہلی اڑان (ناول)
روبینہ شاہین
قسط نمبر :5
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
ندا کی صبح روٹین کے مطابق تھی، مگر یونیورسٹی میں آج کا دن کچھ خاص ہونے والا تھا۔ برف کے گرتے سفید گالے اس کی چادر پر گرتے اور وہ دل ہی دل میں اللہ کی خوبصورتی کی تعریف کرتی۔ اپنی چھوٹی سی گاڑی سے اتر کر وہ جلدی سے یونیورسٹی کی عمارت میں داخل ہوئی کہ شدید سردی سے بچ سکے
پہلی اڑان 4 (ناول)
کلاس میں داخل ہونے پر اس نے دیکھا کہ پروفیسر پہلے ہی بورڈ پر کچھ لکھ رہے تھے، اور تمام طلباء خاموشی سے بیٹھے نوٹس لے رہے تھے۔ ندا اپنی مخصوص سیٹ پر بیٹھی ہی تھی کہ ایک زور دار قہقہہ کلاس کے سکون کو توڑ گیا۔ ندا نے حیرت سے دیکھا تو پچھلی صف میں بیٹھے دو لڑکے مذاق کرتے ہوئے ہنس رہے تھے۔ پروفیسر نے غصے سے پلٹ کر انہیں گھورا، مگر لڑکوں کو کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔
یہ سب ندا کے لیے نیا تھا۔ پاکستان میں وہ اساتذہ کی بے حد عزت کرتی تھی، اور یہاں کے طلباء کا یہ رویہ اسے ناگوار لگا۔ دل ہی دل میں اس نے سوچا، “یہ لوگ استاد کی عزت کرنا کیوں نہیں سیکھتے؟ تعلیم تو ادب کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔
آج ایک نئی لڑکی سے ملاقات ہوئی، جس کا نام ثانیہ تھا۔ وہ بھی نداء کی طرح پاکستانی تھی مگر اس کی کلاس فیلو نا تھی، اور اس کا انداز بہت دوستانہ تھا۔ لیکچر کے بعد، جب لائبریری جا رہی تھی تو ا سے راستے میں ملی تو ثانیہ نے مسکراتے ہوئے اسے روکا:
“نداء، تم بھی پاکستانی ہو؟
نداء کی آنکھوں میں خوشی جھلکنے لگی۔
“جی، میں بھی پاکستان سے ہوں۔”
ثانیہ کی باتوں میں سچائی اور اخلاص سے بھر پور تھی، اور جلد ہی دونوں کے درمیان دوستی کا آغاز ہو گیا۔
ثانیہ نے یونیورسٹی کی زندگی کے بارے میں کئی قیمتی مشورے دیے۔ اس نے نداء کو بتایا کہ یہاں کے پروفیسرز سے سوالات کرنا بالکل عام بات ہے اور شرم کرنے کی ضرورت نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یونیورسٹی کے علاوہ، کینیڈا کی ثقافت بھی نداء کے لیے کسی حیرانی سے کم نہ تھی۔ سرد موسم اور برف کے تودے، گرم کافی کی خوشبو، اور ہر جگہ لوگوں کی جلد بازی، سب کچھ نداء کے لیے نیا اور منفرد تھا۔
یونیورسٹی کی کینٹین کا کھانا وہ کبھی نہیں کھاتی تھی، کیوں کہ اسے ہمیشہ حلال اور حرام کا فرق بچپن سے سکھایا گیا تھا۔ وہ خود ہی گھر سے انڈہ اور بریڈ لے آتی اور یہ اس کا معمول بن گیا تھا۔ وہ اکثر سوچتی کہ یہاں کے لوگ اتنے بے پرواہ کیسے ہیں، انہیں حلال اور حرام کی کوئی فکر ہی نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹورنٹو یونیورسٹی کی وسیع لائبریری کی کھڑکیوں سے سنہری دھوپ کی روشنی اندر آ رہی تھی۔آج موسم بہتر تھا سورج نے بہت دنوں کے بعد اپنی چھب دکھائی تھی ۔اندرکتابوں کی الماریاں قطار در قطار کھڑی تھیں اور ماحول میں خاموشی کی چادر تنی ہوئی تھی، بس کہیں کہیں ہلکی سرگوشیاں سنائی دے رہی تھیں۔ نداء اور حراء ایک لکڑی کی میز پر بیٹھیں اپنی اسائنمنٹ پر کام کر رہی تھیں۔
“نداء، یہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا حصہ کتنا پیچیدہ ہے!” حراء نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا اور اپنے لیپ ٹاپ کی اسکرین کو گھورا۔
“ہاں، لیکن یہ بھی تو دیکھو کہ یہ کتنا دلچسپ ہے۔ جیسے یہ ‘نیورل نیٹ ورک’ کا کانسیپٹ… یہ تو بالکل انسانی دماغ کے نظام کی نقل لگتا ہے!” نداء نے ایک کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
حراء نے اپنی کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا، “لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ ہم اسائنمنٹ میں اس کانسیپٹ کو آسان الفاظ میں کیسے بیان کریں؟ پروفیسر جیسن نے کہا تھا کہ زیادہ تکنیکی زبان سے گریز کریں۔”
نداء مسکراتے ہوئے بولی، “حراء، میں نے ایک مثال لکھی ہے، سنو۔ ہم نیورل نیٹ ورک کو ایسے بیان کر سکتے ہیں جیسے ایک بچے کو چیزوں کی پہچان سکھانا۔ جیسے جب تم بچے کو مختلف رنگوں کی گیندیں دکھاتی ہو، تو وہ کچھ وقت بعد خود پہچاننے لگتا ہے کہ یہ سرخ ہے اور یہ نیلا۔”
حراء کی آنکھیں چمک اٹھیں، “واہ، یہ تو کمال کی مثال ہے! یہ واقعی آسان اور سمجھنے میں دلچسپ لگتی ہے۔”
“شکر ہے، تمہیں پسند آئی۔ اب یہ بتاؤ، کیا ہم اگلے حصے پر کام شروع کریں؟” نداء نے ایک مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا۔
اسی دوران، قریب سے ایک لڑکا گزرتے ہوئے رک گیا اور ان دونوں کی میز کی طرف دیکھا، “ایکسکیوز می، کیا آپ لوگ آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر کام کر رہی ہیں؟”
نداء نے چونک کر اس کی طرف دیکھا، “جی ہاں، کیوں؟”
“میں نے اسی موضوع پر ایک پریزنٹیشن دی تھی پچھلے ہفتے۔ اگر آپ کو مدد چاہیے ہو تو مجھے بتائیں۔”
حراء نے نداء کی طرف دیکھتے ہوئے آنکھوں ہی آنکھوں میں مشورہ کیا اور پھر مسکراتے ہوئے کہا، “شکریہ، ہم شاید آپ سے بعد میں رابطہ کریں گے!”
لڑکا مسکرا کر آگے بڑھ گیا، اور نداء نے سرگوشی میں کہا، “حراء، لگتا ہے یہ ہماری اسائنمنٹ کے لیے ایک اور نیورل نیٹ ورک بننے والا ہے!”
دونوں ہنس پڑیں، اور لائبریری کی خاموشی میں ان کی ہنسی کا مدھم سرور شامل ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوپہر کے وقت حراء نے نداء کو کینٹین چلنے کی دعوت دی۔
“حراء، تمہیں پتہ ہے کہ میں وہاں کچھ نہیں کھاتی۔”
“تو کیا ہوا؟ تم میرے ساتھ بیٹھ جاؤ، ہم بات کریں گے۔”
کینٹین میں داخل ہوتے ہی نداء کی نظریں فوراً کھانے کی اشیاء اور ان کے اردگرد موجود لوگوں پر گئیں۔ وہاں ہر کوئی بے فکری سے کھانے میں مشغول تھا۔ ندا دل ہی دل میں دعا کر رہی تھی کہ وہ جلدی سے یہاں سے نکل جائے۔
حراء نے چپس اور کافی کا آرڈر دیا، اور ندا نے اپنی جیب سے ایک چھوٹا سا لنچ باکس نکال کر بریڈ اور انڈے کا سینڈوچ کھانے لگی۔ حراء نے اس کی طرف دیکھ کر مذاقاً کہا، “ندا، تم نے پوری کینیڈا کی کینٹینز پر شک کر رکھا ہے!”
ندا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، “حراء، یہ شک نہیں، یہ یقین ہے۔ امی کہتی تھیں کہ حرام کا لقمہ انسان کی روح کو آلودہ کر دیتا ہے، اور میں اپنی روح کو پاک رکھنا چاہتی ہوں۔”
۔۔۔۔۔
کینٹین سے نکلتے ہی دونوں نے برف سے ڈھکے ہوئے گراؤنڈ کی طرف دیکھا۔ چاروں طرف سفیدی چھائی ہوئی تھی، اور طلباء برف میں کھیل رہے تھے۔ نداء کے قدم بے اختیار رکے، اور اس نے سوچا، “کیا یہ سب لوگ زندگی کو انجوائے کرنا زیادہ بہتر جانتے ہیں؟”
حراء نے برف کا ایک گولا بنایا اور نداء کی طرف اچھال دیا۔
“ندا! یہ برف تمہارے لیے ہے!”
ندا گھبرا کر پیچھے ہٹی اور ہنستے ہوئے کہا، “حراء! تم تو بالکل بچوں کی طرح ہو!”
حراء نے قہقہہ لگایا، “زندگی کو کبھی کبھار بچوں کی طرح جینا ضروری ہے، ورنہ یہ بور ہونے لگتی ہے۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دن کے اختتام پر، نداء اپنے کمرے میں بیٹھی جرنلنگ کر رہی تھی۔ وہ ہر رات اپنے خیالات لکھنے کی عادی تھی، اور آج کے دن کے تجربات نے اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔
ندا نے لکھا:
“آج اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس نے مجھے دو اچھی دوستیں، حراء اور ثانیہ، دی ہیں۔اللہ کا شکر ہے کہ اس اجنبی دنیا میں کوئی اپنا محسوس ہوا۔ ثانیہ کا انداز بہت مخلص ہے، اور اس کے بات کرنے کے انداز سے سکون ملتا ہے۔اور حرا بہت سپورتو ہے اگرچہ تھوڑی موڈی ہے
کینیڈا کا یہ سفر میرے لیے آسان نہیں تھا، لیکن اللہ ہمیشہ میرے لیے آسانی پیدا کرتا ہے۔ یہاں کے انگریزی لہجے کو سمجھنے میں ابھی بھی مشکل ہو رہی ہے، لیکن میں دعا کرتی ہوں کہ اللہ مجھے سمجھنے اور محنت کرنے کی توفیق دے۔ حلال اور حرام کے معاملے میں محتاط رہنا میرے لیے چیلنج ہے، لیکن الحمدللہ، یہ میری تربیت کا حصہ ہے۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ندا کی زندگی کینیڈا میں آہستہ آہستہ رنگ پکڑ رہی تھی، لیکن اس کے اصول، ایمان، اور حلال و حرام کی حساسیت اس کی شخصیت کی بنیاد بنے ہوئے تھے۔ اگلی قسط میں، نداء کو یونیورسٹی کے مزید چیلنجز اور اپنی دوستیوں کو بہتر طریقے سے سمجھنے کا موقع ملے گا۔