“پہلی اڑان 5 ناول”
روبینہ شاہین
قسط 5
نداء کو پاکستان آئے تین ہفتے بیت چکے تھے۔ زندگی کی مصروفیات اسے بہت تیزی سے اپنے ساتھ لے کر چل رہی تھیں، اور وہ خود کو اس ماحول میں ڈھالنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی تھی۔ مگر اُس صبح جب وہ بیدار ہوئی، تو طبیعت کچھ بوجھل محسوس ہوئی۔ گلے میں خراش اور ناک بند ہونے کے ساتھ نزلہ زکام نے اُس پر اچانک حملہ کر دیا تھا۔ نداء نے اپنی عادت کے مطابق اسے نظرانداز کرنے کی کوشش کی، مگر طبیعت کی خرابی اُس کی پیشانی پر واضح تھی۔
۔۔۔۔۔۔ .
اُس دن نداء کے لیے سب سے بڑا چیلنج اُس کی پہلی پریزنٹیشن تھا، جس کا موضوع **”Future of AI”** تھا۔ یہ نہ صرف اُس کی محنت کا امتحان تھا بلکہ اُس کے پروفیشنل ازم کا بھی پہلا عملی تجربہ تھا۔ طبیعت خراب ہونے کے باوجود نداء نے خود کو تسلی دی کہ یہ موقع کسی بھی صورت ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ یونیورسٹی پہنچتے ہی اُس نے اپنی پریزنٹیشن کی سلائیڈز ترتیب دیں اور ڈائس کی طرف بڑھ گئی۔
ڈائس پر کھڑے ہوتے ہی نداء کو ایک لمحے کے لیے لگا کہ اُس کی آواز شاید نہ نکلے، مگر وہی لمحہ اُس کے اعتماد کو پرکھنے کا تھا۔ اُس نے گہری سانس لی، سلام کیا اور کہا، “Hello, everyone!”
پریزینٹیشن کا آغاز کرتے ہوئے اُس نے کہا:
> “Artificial Intelligence is redefining human potential. From healthcare to agriculture, it is a transformative force shaping the future.”
نداء کے الفاظ میں جان تھی، اور اُس نے سامعین کو اپنے دلائل سے متاثر کر دیا۔ پانچ منٹ کے یہ لمحات اُس کے لیے طویل اور مشکل ضرور تھے، مگر اُس کے اعتماد اور محنت کی بدولت وہ معرکہ سر کر گئی۔ سامعین نے داد دی، اور ٹیچر نے مسکراتے ہوئے کہا:
> “Well done, Nida! This is what excellence looks like.”
یہ جملہ نداء کے لیے کسی میڈل سے کم نہیں تھا۔ اُس کی محنت رنگ لائی تھی
۔۔ . . . . .
پریزنٹیشن کے بعد نداء لائبریری گئی تاکہ کچھ سکون حاصل کر سکے۔ وہاں اُس کی دوست حراء اُس کی منتظر تھی۔ دونوں نے ہلکے پھلکے انداز میں پریزنٹیشن پر گفتگو کی۔ حراء نے تعریف کرتے ہوئے کہا، “نداء، تم نے کمال کر دیا۔”
نداء نے سادگی سے جواب دیا، “یہ سب اللہ کا کرم ہے۔ میں نے صرف اپنی تیاری کی تھی۔”
حراء نے مسکراتے ہوئے کہا، “تمہاری یہی عاجزی تمہیں دوسروں سے مختلف بناتی ہے۔”
نداء نے مسکرا کر جواب دیا، “چلو، اب کافی پلاؤ۔ پریزنٹیشن کی ساری تھکن کافی سے ہی اُترے گی۔”
حراء نے کنٹین لے جا کر نداء کو کافی پلائی اور کہا، “آج کافی میری طرف سے۔ تم نے واقعی آج کا دن جیت لیا!”
نداء نے مسکراتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور کہا، “حراء، تمہارے ساتھ رہ کر مجھے ہمیشہ ایسا لگتا ہے جیسے سب کچھ آسان ہو جاتا ہے۔”
حراء نے مذاق کرتے ہوئے کہا، “دوست اسی لیے ہوتے ہیں، تاکہ مشکل وقت میں کافی پلائیں!”
۔۔۔ . . . . .
یونیورسٹی سے واپسی پر نداء کو گروسری کرنے کے لیے مارکیٹ جانا تھا۔ تھکن کے باوجود اُس نے خریداری کی لسٹ ہاتھ میں لی اور ضروری چیزیں باسکٹ میں ڈالنے لگی۔ مگر اچانک اُس کا سر چکرایا، اور وہ زمین پر بیٹھ گئی۔ کچھ لمحوں تک وہ وہیں بیٹھی رہی، آنکھیں بند کیں اور گہری سانس لینے کی کوشش کی۔ جب طبیعت کچھ بہتر ہوئی، تو اُس نے گھر واپسی کا فیصلہ کیا۔
گھر پہنچتے ہی نداء نے محسوس کیا کہ اُس کا جسم بخار میں تپ رہا ہے۔ اُس نے جلدی سے خود کو بستر پر گرایا اور سونے کی کوشش کی، مگر طبیعت بگڑتی جا رہی تھی۔ اُس نے دل ہی دل میں دعا کی کہ یہ آزمائش جلد ختم ہو۔
۔۔۔۔۔ . . .
اگلا دن اتوار تھا، جس کی وجہ سے نداء کو آرام کرنے کا موقع مل گیا۔ دوستوں نے اُسے ڈاکٹر سے ملنے کا مشورہ دیا۔ اتوار کی صبح وہ قریبی کلینک گئی، جہاں ڈاکٹر نے اُس کا معائنہ کرنے کے بعد کہا، “آپ کو مکمل آرام کی ضرورت ہے، اور اپنی خوراک کا خاص خیال رکھیں۔”
ڈاکٹر کی دی گئی دوائی اور ہدایات کے بعد نداء نے وعدہ کیا کہ اب وہ اپنی صحت کو نظرانداز نہیں کرے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔
شام کے وقت نداء باورچی خانے میں کھانا بنا رہی تھی کہ اچانک اُس کی امی کی کال آ گئی۔ امی کی پریشان آواز نے اُسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
“نداء، بیٹا، تم ٹھیک ہو؟ تمہاری آواز ٹھیک نہیں لگ رہی۔”
نداء نے فوراً اپنی ماں کو تسلی دی، مگر دل ہی دل میں اُسے احساس ہوا کہ اُس کی حالت واقعی خراب ہے، اور وہ اپنی فیملی کو فکر مند نہیں کرنا چاہتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اتوار کی شام نداء بخار میں مبتلا اپنے کمرے میں لیٹی ہوئی تھی۔ اچانک دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ نداء نے بمشکل خود کو سنبھالا اور دروازہ کھولا، تو سامنے ثانیہ کھڑی تھی، ہاتھ میں گرم سوپ کا ڈبہ لیے ہوئے۔
ثانیہ نداء کی یونیورسٹی کی دوست تھی اور کچھ عرصہ قبل اپنی فیملی کے ساتھ کینیڈا سے پاکستان واپس آئی تھی۔ اُس کی زندگی کا زیادہ حصہ بیرون ملک گزرا تھا، مگر اُس کی شخصیت میں سادگی اور خلوص تھا۔
“نداء! تمہیں بتانا بھی گوارا نہیں کیا کہ تمہاری طبیعت خراب ہے؟” ثانیہ نے ناراضی اور فکر کے ملے جلے لہجے میں کہا۔
نداء نے حیرت سے پوچھا، “تمہیں کیسے پتہ چلا؟”
“حراء نے مجھے بتایا۔” ثانیہ نے جواب دیا۔
نداء نے مسکراتے ہوئے کہا، “ثانیہ، تم نے زحمت کی۔”
“دوست زحمت کے لیے نہیں ہوتے، نداء۔ یہ لو، سوپ پیو اور آرام کرو۔”
۔۔۔ ۔ ۔
ثانیہ کی خلوص بھری موجودگی اور اپنی بیماری نے نداء کو گہرے غور و فکر میں ڈال دیا۔ اُس نے اپنی ڈائری نکالی اور جرنلنگ شروع کی۔ اُس نے عہد کیا کہ اپنی مصروف زندگی کے باوجود، نماز اور قرآن کو کبھی نظرانداز نہیں کرے گی۔ زندگی کی اصل کامیابی اللہ سے مضبوط تعلق میں ہے، اور یہ احساس اُس کے دل میں گہرائی تک اُتر گیا۔
نداء کی زندگی کے یہ دن اُس کے لیے نہ صرف آزمائش کا وقت تھے بلکہ ایک سبق بھی تھے۔ دوستوں کا ساتھ، اپنی صحت کا خیال، اور اللہ سے تعلق مضبوط بنانے کا عزم اُس کی زندگی میں ایک نئی روشنی لے آیا تھا۔ اُس نے جان لیا تھا کہ مشکلات کے باوجود زندگی کو بہتر طریقے سے گزارنے کا فن ہی اصل کامیابی ہے۔
—