چاند رات کا چاند نکلا نہیں کہ بازار میں ایسی ہلچل مچ گئی جیسے کسی نے اعلان کر دیا ہو کہ “اب جو لینا ہے، آج ہی لے لو، کل موقع نہیں ملے گا!” بازار میں رونق کا یہ عالم تھا کہ دکانوں پر تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔
بچے چوڑیوں کی کھنک اور مہندی کی خوشبو میں مگن تھے، تو خواتین آخری لمحے پر نیا جوڑا، میچنگ دوپٹہ، جوتے اور لپ اسٹک کے بہترین شیڈ کی تلاش میں ادھر ادھر بھاگ رہی تھیں۔ دوسری طرف مرد حضرات کے چہروں پر فکر کے گہرے سائے تھے، جیسے امتحان میں پرچہ ختم ہونے سے پہلے ہی وقت نکلنے والا ہو۔
“بھائی! جلدی سے وہ نیلی چپل نکال دو، ہاں، وہی جو اندر رکھی ہے!” ایک خاتون نے دکاندار کو تقریباً حکم دیا۔
“باجی، وہ تو دو دن پہلے بک گئی تھی!” دکاندار نے معصومیت سے جواب دیا۔
یہ سب رونق، خوشبو اور چہل پہل کی دنیا تھی، لیکن دوسری طرف فلسطین میں ایک اور بازار تھا۔ وہاں بھی دوڑ لگی تھی، مگر چوڑیوں، مہندی اور جوتوں کے لیے نہیں بلکہ روٹی، پانی اور پناہ کے لیے۔ وہاں کی عورتیں بھی ادھر ادھر بھاگ رہی تھیں، لیکن نئے جوڑے کی تلاش میں نہیں بلکہ اپنے بچوں کو بمباری سے بچانے کے لیے۔
وہاں کے مردوں کے چہرے بھی فکر مند تھے، مگر اس لیے نہیں کہ لپ اسٹک کا کون سا رنگ لینا ہے، بلکہ اس لیے کہ شام ہونے سے پہلے کہیں ان کے گھروں کا ملبہ نہ بڑھ جائے۔
ایک بچی ضد کر رہی تھی، “اماں! مجھے بھی چاند اور ستارہ چاہیے!” مگر اس کی ماں آنسو چھپاتے ہوئے بولی، “بیٹا، یہاں چاند پر دھوئیں کی چادر ہے اور ستارے ملبے کے نیچے دب چکے ہیں۔”
دوسری طرف نوجوان لڑکوں کی تیاری بھی ہو رہی تھی، مگر پرفیوم اور جیل کے بجائے وہ آخری سلام کے لیے تیار ہو رہے تھے، کیونکہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ اگلی صبح دیکھ پائیں گے یا نہیں۔
چاند رات کے اس ہنگامے اور فلسطین کے اس سناٹے میں صرف ایک چیز مشترک تھی—دعائیں۔
بازار میں لوگ دعائیں کر رہے تھے کہ کپڑے میچنگ کے ہوں، مہندی کا رنگ اچھا آئے، اور صبح عید خوشیوں بھری ہو۔ جبکہ فلسطین میں دعائیں ہو رہی تھیں کہ کوئی گھر سلامت رہے، کوئی بچہ یتیم ہونے سے بچ جائے، اور کوئی صبح ایسی ہو جو قیامت کی صبح نہ ہو۔