ہاجرہ نے آسمان کی طرف دیکھا۔ دبیز بادلوں میں چاند چھپنے اور نکلنے کا کھیل کھیل رہا تھا۔ گلی میں ہلچل مچی ہوئی تھی۔ بچے نئے کپڑوں میں ملبوس ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دے رہے تھے۔ عورتیں گھروں کے دروازوں پر کھڑی، چوڑیوں کی کھنک اور مہندی کی خوشبو میں بسی ہوئی خوش گپیوں میں مصروف تھیں۔ مگر ہاجرہ کا دل ایک عجیب اداسی میں گھرا ہوا تھا۔
“امی، چاند نظر آ گیا؟” اس نے دھیرے سے پوچھا۔
امی نے مسکراتے ہوئے اسے سینے سے لگا لیا، “ہاں بیٹی، عید کا چاند ہے، مبارک ہو!”
عید مبارک! یہ دو لفظ کتنے خوش کن تھے، مگر ہاجرہ کے دل میں ایک ادھوری سی کسک تھی۔ اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ ابو کی جدائی کا پہلا سال تھا۔ وہ جو ہر چاند رات اسے چاندی کے کڑے لے کر دیا کرتے، آج کہیں نہیں تھے۔ ان کی نرم مسکراہٹ، محبت بھری آواز اور وہ لمحہ جب وہ ہاجرہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتے، “میری بیٹی کے ہاتھ ہمیشہ خوشیوں سے بھرے رہیں”، سب یاد آ رہا تھا۔
گھر کے آنگن میں بڑی بہنیں چوڑیاں پہنے، قہقہے لگا رہی تھیں۔ ماں کھانے کی تیاری میں مصروف تھیں۔ باہر گلی میں بچوں کی خوشی بھری آوازیں تھیں، آتش بازی کا شور، اور پڑوسی ایک دوسرے کو گلے لگا کر عید کی خوشخبری دے رہے تھے۔ مگر ہاجرہ کے دل میں خاموشی تھی، ایک گہری خاموشی، جو اندر ہی اندر اسے کھا رہی تھی۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا، چاند پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ اس کے دل میں ایک خواہش جاگی، ایک دعا جو آنکھوں سے اشکوں کی صورت بہہ نکلی۔ اس نے ہاتھ اٹھائے، “یا اللہ! سب کو خوشیاں نصیب فرما، جو اداس ہیں، انہیں بھی خوشیوں کا چاند دکھا دے۔ جو محروم ہیں، انہیں اپنی رحمت سے نواز دے۔ میرے ابو جہاں بھی ہوں، انہیں جنت کی راحتیں عطا فرما۔”
ہوا میں ایک سکون سا در آیا۔ چاند کی روشنی جیسے اور چمکنے لگی تھی۔ اچانک اس کی ماں نے اسے پکارا، “ہاجرہ بیٹی، آؤ چوڑیاں پہن لو، تمہیں ابو کے پسندیدہ رنگ کی نیلی چوڑیاں لائی ہوں۔”
ہاجرہ نے اپنے آنسو پونچھے اور آنگن میں آ گئی۔ چوڑیاں پہننے لگی تو دل میں ایک گرم جوشی کا احساس ابھرا۔ شاید ابو کی محبت اسی لمحے اس کے قریب تھی، کسی روشنی کی کرن میں، کسی ہوا کے جھونکے میں، یا شاید اس چاند کی چمک میں جو آج بھی پہلے کی طرح روشن تھا۔
چاند رات کی اس مقدس گھڑی میں، ہاجرہ کا دل ہلکا ہو گیا۔ اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔ ابو کے بغیر عید کا پہلا لمحہ کٹھن تھا، مگر دعا نے اس کے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا تھا۔
عید مبارک!