281

“چمک دار لوٹے”

تحریر شئیر کریں

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل میں جانوروں کی ایک مسجد تھی، جہاں ہمیشہ چندے کے ذریعے اس کا انتظام چلایا جاتا تھا۔ اس مسجد کی دیکھ بھال کے لیے جانوروں کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس کا سربراہ ایک چالاک بندر تھا۔ بندر کی شہرت یہ تھی کہ وہ بڑے میٹھے بول بولتا اور ہمیشہ نئے بہانے بنا کر لوگوں سے چندہ جمع کرتا۔

ایک دن، بندر امریکہ سے واپس آیا اور تمام جنگل والوں کو بلا کر کہا، “اے جنگل کے باشندو! ہماری مسجد کی حالت ابتر ہے، ہمیں اسے بہتر کرنے کے لیے رقم کی اشد ضرورت ہے۔” وہ اپنے روایتی انداز میں لاؤڈ اسپیکر پر ترلے کرتا اور ہاتھ پھیلائے ہر طرف گھومتا رہا۔

لوگوں نے دل کھول کر چندہ دیا، کچھ ہرنوں نے اپنی جمع پونجی دی، پرندوں نے اپنے دانے دانے جوڑے، یہاں تک کہ غریب گلہری نے بھی اپنے حصے کا چھوٹا سا چندہ دیا۔ بندر نے سب کو خوش خبری سنائی کہ “ہمیں مسجد کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی رقم مل چکی ہے، اب ہم اس کا انتظام خود چلا سکتے ہیں!”

ایک دن ایک دانا ہاتھی، جو ہمیشہ گہرائی سے سوچتا تھا، کمیٹی کو مشورہ دینے آیا۔ اس نے کہا، “اے بھائیو! تمہارے پاس اب کافی دولت ہے، اس سے ایسی چیزیں بنا لو جو مسجد کی مستقل آمدن کا ذریعہ بنیں، جیسے کہ دوکانیں، تاکہ آئندہ چندے کی ضرورت نہ پڑے۔” جنگل کے جانور اس بات سے متفق ہو گئے اور سوچا کہ یہ اچھا مشورہ ہے۔

لیکن چالاک بندر اور اس کے ساتھیوں کا ارادہ کچھ اور تھا۔ بندر نے امام بلی کے ساتھ مل کر ایک اور منصوبہ بنایا۔ انہوں نے کہا، “ہماری مسجد کو سب سے زیادہ ضرورت ہے وضو کے لوٹوں کی۔ اگر ہم مہنگے اور چمکدار لوٹے خرید لیں، تو لوگ کہیں گے کہ یہ ایک عظیم اور امیر مسجد ہے۔”

یہ سن کر کمیٹی کے سارے ممبران ہاں میں ہاں ملانے لگے اور بڑی رقم سے نہایت قیمتی لوٹے خرید لیے۔ جب جنگل کے جانوروں کو معلوم ہوا کہ چندے کی رقم سے صرف لوٹے خریدے گئے ہیں اور دوکانوں کا منصوبہ دھرا کا دھرا رہ گیا ہے، تو وہ حیران رہ گئے۔ ایک بوڑھے لومڑی نے غصے میں آ کر کہا، “کیا تمہارا یہی عقل مندی کا ثبوت تھا؟ چندے کی دولت ضائع کر دی اور مستقل آمدن کا کوئی ذریعہ نہ بنایا!”

بندر اور امام بلی نے اسے سنی ان سنی کر دی اور بولے، “یہ چمکدار لوٹے ہماری شان و شوکت کے لیے ہیں، لوگ دور دور سے آئیں گے اور دیکھیں گے کہ ہماری مسجد کتنی امیر ہے۔”

نتیجہ یہ ہوا کہ جلد ہی جنگل کے جانوروں کو پھر چندے کی ضرورت پیش آئی اور وہی کھیل دوبارہ شروع ہو گیا۔ یوں چالاک بندر اور نالائق کمیٹی نے چندے کی رقم کو غیر ضروری چیزوں پر خرچ کیا، اور مسجد کی حالت وہی رہی جیسی پہلے تھی۔

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ جب لیڈر اور منتظمین اپنی ذاتی مفادات کے لیے کام کریں اور قوم کے وسائل کو غیر ضروری کاموں میں ضائع کریں، تو ان کے منصوبے کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں