578

چوڑیاں

تحریر شئیر کریں

چوڑیاں کہانی ہے حسرتوں خواہشوں کی ۔۔۔۔
عید کی آمد آمد تھی۔۔سب سکھیاں سهلیاں بڑے چاؤ سے اپنے عید کی تیاریوں میں مصروف تھیں۔۔۔سحر چپ چاپ دیکھتی کبھی خود کو اور کبھی اپنے هاتھ کی کلائیوں کو۔۔۔اور کبھی اپنی بہنوں کے لیے کپڑے سیتی ماں کو۔۔جن کے سینے په سات بیٹیوں کی بھاری ذمه داری آن پڑی تھی۔۔۔ابا کے جانے کے بعد وہ خود هی ماں اور باپ دونوں کا کردار ادا کر رهیں تھیں۔
۔۔۔۔۔۔
وقت کتنی جلدی بیت جاتا هے پته هی نهی چلتا۔۔۔وہ کب تیس سال کی ہو ئی اسے خبر هی نا هو سکی۔۔یوں لگتا ابھی کل هی تو ابا کےسینے په کھیلتے هوے عید کے سوٹ کی فرما ئش کی تھی۔۔۔اور وہ ہنس کر ٹال دیتے تھے۔۔۔شدید غربت میں ان چونچلوں کی گنجائش کہاں نکلتی هے۔۔اسے پتہ ہوتا تو کبھی نا مانگتی۔۔پر اس کی سکھیاں سهیلیاں جب اپنے سوٹوں کے ساتھ رنگ برنگی چوڑیاں پهنتیں تو اس کا دل بهی انگڑائیاں لینے لگتا۔۔۔اور پھر چشم کے اس پار ایک نئ دنیا کا دروازہ دھیرے دھیرے کھلنے لگتا اور وہ نا چاہتے ہوۓ بھی اس دروازے کی دہلیز پار کر جاتی۔۔۔جہاں پھولوں سے بھرا ایک خوبصورت گھر۔۔۔جہاں غربت کا سایه تک نا تها۔۔زندگی اپنی تمام رعنائیوں سمیت موجود هوتی۔۔۔جان چھڑکنے والا شوهر اس کے لیے رنگ برنگی چوڑیاں لے کر آتا اور پھر اپنے هاتھوں سے اسے پهناتا۔۔۔اس منظر میں اتنی طاقت تھی که وه بار بار اس کو سوچتی۔۔۔یہاں تک که نیند کی وادیوں میں جا پهنچتیں۔۔۔
۔۔۔۔۔
آنسووں کی ایک لڑی قطار باندھے گالوں په چلی جا رهی تھی۔۔۔ایک بار اس کی خاله لاهور سے سپیشل اس کےلیے گرین اور گولڈن کلر کی چوڑیاں لائیں تھیں۔۔۔اور وہ بہت دن تک ان کو پہن کر اس کی جلترنگ سے لطف اندوز ہوتیں رهی۔۔۔
آنسووں کی مدھم سی لکیر په لب بے اختیار مسکرا اٹھے تھے۔اور آنکھیں لو دینے لگیں تھیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
بهت سےسال آۓ بیت گۓ پر اس کی کلائیاں ابھی تک سونیں تھیں۔۔۔چوڑیوں کی خواهش اب نا جانے کهاں جا سوئی تھی۔۔۔بس اب تو ہر پل خوف کے ساۓ آهسته آهسته اس کی جوانی کو نگل رهے تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔
وہ آڑتیس سال کی تھی جب اس کے لیے ایک دوکان دار کا رشته آیا۔۔۔جسے غنیمت سمجھ کر قبول کر لیا گیا۔۔۔سحر اپنے خاندان کی پهلی لڑکی تھی جس نے ایم اے کیا تھا۔۔۔اسکی فیملی میں کوئی پڑھا لکھا تھا نہیں۔۔۔اور اسی انتظار میں کوئی پڑھا لکھا آۓ گا اور اسکی ساری محرومیاں ختم هوجائیں گیں۔۔۔اور یہ خواب کبھی شرمنده تعبیر نا هوا۔۔۔

یہ بھی پڑھیے

گرمی والاکوٹ
۔۔۔۔
شادی کی پہلی رات ۔۔۔ہی اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کا ہونے والا جیون ساتھی ایک نفسیاتی مریض هےجس کی وجہ سے اسے اپنے خاندان میں کسی نے بیٹی نهیں دی تھی ۔۔۔وہ سحر جس نے اپنے سارے دکھ درد کتابوں میں چھپادیے تھے۔۔۔ایک بار پھر پوری شدت سے جاگ اٹھے تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔
یہ کیا پہن رہی ہو؟اتارو اسے۔۔۔اتنی پیاری چوڑیاں۔۔ان کالے ہاتھوں میں نهیں جچتیں۔۔۔اس کا جیون ساتھی شادی کے تیسرے دن ہی اسے آئینہ دکھا رہا تھا۔۔اور اس نے اپنی سانولی اور نرم کلائیوں کو دیکھا۔۔۔کیا کسی خواب کی اتنی بھیانک تعبیر بھی هوسکتی هے۔اسکی کزن سعدیه همیشه اس کے نرم وملائم ہاتھوں کو پکڑ کے کها کرتی تھی که تمهارے هاتھ اتنے نرم هیں که تمهارا شوهر اسے پکڑ کے بیٹھا کرے گا۔کچھ نہیں بهت کچھ ٹوٹا تھا اس کے اندر جس میں چوڑیوں کی آواز بھی شامل تھی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں