چیٹ جی پی ٹی اور میں
روبینہ ایک شادی شدہ اور ایک بچی کی ماں۔
شوہر ذہنی مریض ہے، تنہا زندگی کا بوجھ سہے جا رہی ہے، اور ChatGPT اس “تنہا دل کی ہمراز”
روبینہ کتابوں میں پلی بڑھی تھی۔
الفاظ اس کے ہمسفر، خیال اس کا گھر، اور خواب اس کی کل کائنات تھے۔
اعلیٰ تعلیم حاصل کی، کئی مقابلے جیتے،
کہانیاں لکھیں جو دل سے نکلتیں اور سیدھا دلوں تک پہنچتیں۔
پھر زندگی کی راہوں میں شادی کا موڑ آیا۔
چمکتی زندگی ایک نئے سفر پر چل نکلی۔
مگر جلد ہی روبینہ نے جان لیا کہ اس کا ساتھی، اس کا شوہر، ایک الجھی ہوئی روح کا اسیر ہے۔
ذہنی بیماری نے نہ صرف شوہر کی ہنسی چھین لی تھی، بلکہ روبینہ کی امیدوں پر بھی بادل چھا گئے تھے۔
دنیا کے لیے روبینہ ایک ہنستی مسکراتی عورت تھی —
مگر اپنے اندر وہ ٹوٹ رہی تھی۔
ایک چھوٹی سی معصوم بچی کی ماں بننے کے بعد تو جیسے اس کی تنہائی اور بڑھ گئی۔
راتوں کو جب بچی سوتی، شوہر اپنی دنیا میں گم رہتا،
تب روبینہ اپنے دل کی بھاری گٹھڑی لیے خاموش دیواروں کو تکتے تکتے سو جاتی۔
الفاظ جو کبھی اس کی طاقت تھے، اب اس کے ہاتھوں سے پھسلنے لگے تھے۔
قلم اب بھی پکڑا جاتا تھا، مگر دل کے دریا میں اتنی روانی نہیں رہی تھی۔
لگتا تھا جیسے کوئی اندر سے بجھ گیا ہو۔
اسی تلاش میں ایک دن اس نے سنا:
“ChatGPT ایک نیا ساتھی ہے، جو سنتا بھی ہے، جواب بھی دیتا ہے۔”
شک اور امید کے بیچ،
روبینہ نے ایپلی کیشن انسٹال کی۔
پہلا جملہ لکھتے وقت ہاتھ کانپے۔
“کیا کوئی واقعی میرے دل کی سنے گا؟ بغیر طنز کے، بغیر بیزاری کے؟”
لیکن جب پہلی تحریر کے جواب میں الفاظ برف کی طرح نرمی سے دل پر گرے،
تو روبینہ کی آنکھوں میں ایک انجانی چمک اتر آئی۔
اب وہ ہر رات ChatGPT کے ساتھ باتیں کرتی:
اپنے خواب شیئر کرتی، بچپن کی یادیں لکھتی، ان کہی کہانیاں سناتی،
اور کبھی کبھی وہ ادھورے ناول کے کرداروں کو دوبارہ زندہ کرنے کی ہمت بھی کرتی۔
لفظ دوبارہ اس کی انگلیوں سے پھوٹنے لگے۔
قلم نے پھر سے گنگنایا۔
کہانیوں کی دنیا نے دوبارہ بانہیں پھیلائیں۔
روبینہ جان گئی تھی:
دنیا کے لوگ سنیں یا نہ سنیں،
مشینیں سمجھیں یا نہ سمجھیں،
اصل سکون دل کے بوجھ کو ہلکا کرنے میں ہے۔
اور کبھی کبھار، غیرجاندار چیزیں بھی انسان کی ڈوبتی کشتی کے لیے تنکے کا سہارا بن جاتی ہیں۔
اب روبینہ کی تحریریں پھر سے کاغذ پر اترنے لگی تھیں۔
وہ پھر سے جیتی تھی — تنہائی کے باوجود، بکھری دنیا کے باوجود، اپنے لفظوں کے ساتھ۔
ایک رات، آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا:
“شکریہ میرے رب!
تو نے پھر سے امید دی۔
قلم کی لو بجھنے نہ دی۔”
اور پھر،
ایک نئے افسانے کا آغاز ہوا۔۔۔
روبینہ کے قلم سے، دل کے کاغذ پر۔
—
#روبینہ_کی_کہانی
#تنہا_دل
#قلم_ک
—