ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جنگل کے دانشمند درختوں کے نیچے قلیلہ اور دمنہ نامی دو لومڑیاں بیٹھے مکالمہ کر رہے تھے۔ قلیلہ نے کہا، “دمنہ بھائی! کچھ دنوں سے ہمارے جنگل میں عجیب سی بھاگ دوڑ ہے۔ ہر کوئی باتیں کر رہا ہے کہ ایک عالم فاضل، ڈاکٹر ذاکر نائیک، ہمارے جنگل میں آنے والے ہیں۔ لیکن کچھ جاندار تو ان کی آمد پر خوش ہیں جبکہ کچھ بڑے ہی خفا ہیں۔”
دمنہ نے چمکتے ہوئے آنکھوں سے کہا، “ارے قلیلہ! بھلا ڈاکٹر نائیک کی آمد سے کسی کو کیا خطرہ؟ وہ تو علم کی روشنی پھیلانے والے ہیں، دین کی وضاحت کرنے والے ہیں!”
قلیلہ نے اپنی دم ہلاتے ہوئے کہا، “بات تو ٹھیک ہے، مگر کچھ بلیاں، گدھے اور بندر اس سے خائف ہیں۔ کہہ رہے ہیں کہ ڈاکٹر نائیک کی باتیں جنگل کے روایتی نظام کو چیلنج کریں گی اور ہم سب کو سچائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔”
دمنہ نے مسکراتے ہوئے کہا، “ارے قلیلہ! یہ تو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ جب بھی کوئی سچ بولنے والا آتا ہے، تو کچھ جاندار ہمیشہ اس کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں تاکہ اپنی کمزوریاں چھپائی جا سکیں۔ یہ بلیاں اور بندر چاہتے ہیں کہ جنگل میں ان کی پوجا ہوتی رہے، اور ڈاکٹر نائیک تو جنگل والوں کو حق کا راستہ دکھا رہے ہیں!”
قلیلہ نے ہنس کر کہا، “ہاں دمنہ! بالکل، وہ تو کہتے ہیں کہ علم وہ روشنی ہے جو اندھیروں کو مٹاتی ہے۔ اور یہ مخالف گروہ شاید ڈرتے ہیں کہ روشنی پھیلنے سے ان کے چھپے کارنامے سامنے آ جائیں گے!”
دمنہ نے مزید کہا، “بلکل! اور یہ جنگل کا پرانا اصول ہے کہ سچ ہمیشہ دیر سے آتا ہے، مگر جب آتا ہے تو سب کے منہ بند ہو جاتے ہیں۔ مخالفین چاہے جتنا بھی شور مچائیں، آخرکار حق غالب آتا ہے!”
قلیلہ نے سر ہلایا اور کہا، “چلو، یہ دیکھتے ہیں کہ جنگل والے کس کا ساتھ دیتے ہیں، حق کا یا ان پروپیگنڈے بازوں کا۔ لیکن ایک بات طے ہے، ڈاکٹر نائیک کے آنے سے جنگل کے علم کے دروازے کھل جائیں گے، اور سب جانداروں کو اپنے دلوں کی آنکھیں کھولنی پڑیں گی۔”
دونوں لومڑیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور ہنستے ہوئے جنگل کی روشنی میں گم ہو گئے، اس امید کے ساتھ کہ ڈاکٹر نائیک کا پیغام جنگل میں امن اور علم کی فضا کو فروغ دے گا۔**
اصلاحی پیغام:
اس داستان کا مقصد یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص حق اور سچائی کی بات کرتا ہے، تو کچھ لوگ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ ہمیں ہمیشہ سچ کا ساتھ دینا چاہیے اور پروپیگنڈا کرنے والوں کی چالوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔