تجریر؛روبینہ شاہین
صابرہ کے لیے ہر دن ایک نیا چیلنج ہوتا تھا۔ وہ گھر کا کچن سنبھالتی، برتن دھوتی، کپڑے دھوتی اور ہر کام کو ایک عبادت کی طرح انجام دیتی تھی۔ صبا کو جب بھی ماں کو ان چھوٹے کاموں میں مشغول دیکھتی، تو ہمیشہ کہتی، ’’امی، یہ سب کام کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ کسی کو پیسے دے دیا کریں نا، خود کو کیوں تھکاتی ہیں؟‘‘
صابرہ مسکرا کر کہتی، ’’بیٹی، کام تو بخت ہوتے ہیں۔‘‘
یہ جملہ صبا کے لیے ہمیشہ ایک معما رہا۔ اس نے کبھی بھی اس بات کی گہرائی کو نہیں سمجھا۔ وہ کام کو ہمیشہ ایک بوجھ سمجھتی تھی، ایک غیر ضروری مصیبت جو صرف وقت ضائع کرتی ہے۔ اس نے سوچا تھا کہ جب اس کے پاس پیسے ہوں گے، تو وہ کبھی بھی ان چھوٹے کاموں میں خود کو مصروف نہیں کرے گی۔
لیکن وقت نے ایک اور رخ لیا۔ ایک دن، صابرہ کو دل کا شدید دورہ پڑا اور وہ ہمیشہ کے لیے صبا کو چھوڑ کر چلی گئیں۔ صبا کے لیے یہ صدمہ برداشت سے باہر تھا۔ ماں کی کمی ہر طرف محسوس ہونے لگی۔ وہ دیکھتی تھی کہ کچن میں برتنوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے، کپڑوں کا انبار بےترتیب پڑا ہے، اور گھر کا ماحول ویسا خوشبودار اور صاف ستھرا نہیں رہا جیسا کہ صابرہ کی موجودگی میں ہوا کرتا تھا۔
ایک شام صبا کو ماں کی وہ بات یاد آئی، ’’کام تو بخت ہوتے ہیں۔‘‘ اب، اس جملے کی حقیقت اس پر ظاہر ہونے لگی۔ اس نے محسوس کیا کہ صابرہ نے ان چھوٹے چھوٹے کاموں کو صرف ایک کام کے طور پر نہیں بلکہ اپنی محبت، اپنے خلوص اور اپنے رشتوں کے اظہار کے طور پر کیا تھا۔ برتن دھونا، کچن صاف کرنا، کپڑے دھونا، یہ سب اس بات کی علامت تھے کہ وہ اپنے گھر کو اپنے دل کی طرح صاف رکھتی تھی اور اپنے اہل خانہ کے لیے ہر دم بہتری چاہتی تھی۔
پہلی بار، صبا نے برتن دھونا شروع کیے۔ ہر برتن کو دھوتے ہوئے، اسے ماں کا چہرہ یاد آتا رہا۔ اس نے محسوس کیا کہ یہ کام کتنی محبت اور عزم کا تقاضا کرتے ہیں۔ اسے سمجھ آیا کہ صابرہ نے اپنے ہاتھوں سے بنائے کھانے میں کتنا پیار شامل کیا تھا۔ کچن کی صفائی کرتے ہوئے، اسے لگا کہ وہ اپنے دل کو بھی صاف کر رہی ہے۔ ماں کے نقشِ قدم پر چلنے سے صبا کو وہ سکون مل رہا تھا جو اس نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔
جب اس نے کپڑوں کا انبار دھونا شروع کیا تو اسے محسوس ہوا کہ ماں کے لیے یہ کپڑے محض کپڑے نہیں تھے، بلکہ ان میں ایک خاندان کی خوشبو بستی تھی۔ صبا نے کپڑے دھو کر ہینگر پر لگائے اور جیسے ہی وہ خشک ہونے لگے، اسے لگا کہ ماں کا ہاتھ اس کے سر پر ہے۔
رفتہ رفتہ، صبا نے گھر کے تمام کام سنبھال لیے۔ اب وہ صفائی، کپڑے دھونا، کھانا پکانا، سب کام کرتی تھی۔ لیکن اب ان کاموں کو بوجھ نہیں سمجھتی تھی۔ بلکہ اسے احساس ہوا کہ یہ سب کام اس کی زندگی کو خوبصورت بناتے ہیں۔
صبا نے ہر کام کو خوشی اور شکرگزاری کے ساتھ انجام دینا سیکھ لیا۔ اسے اندازہ ہوا کہ جب ہم اپنے ہاتھوں سے کام کرتے ہیں تو ان میں ہماری محنت، محبت اور خلوص شامل ہوتا ہے۔ یہ سب کام ہماری زندگی میں معنی اور مقصد کا احساس لاتے ہیں۔
ایک دن، اس نے آئینے میں خود کو دیکھا اور اسے لگا کہ وہ اپنی ماں کی طرح بن گئی ہے۔ اس نے ماں کی محبت اور قربانی کو نئے سرے سے جانا اور اپنی زندگی میں اپنانا شروع کیا۔ ماں کے الفاظ اس کی روح میں جاگزیں ہو چکے تھے۔
’’کام تو بخت ہوتے ہیں،‘‘ اس نے خود سے کہا، اور پہلی بار، اس نے اس جملے کی گہرائی کو پوری طرح سمجھ لیا تھا۔
—
اس کہانی میں صابرہ کی زندگی نے صبا کو بتایا کہ کام محض کام نہیں ہوتے، بلکہ یہ ہماری زندگی کا حصہ ہیں۔ اپنے ہاتھوں سے کچھ بنانا، کسی ٹوٹے کو جوڑنا، یہ سب ایک طرح کی محبت کا اظہار ہیں۔ یہ محبت ایک ورثہ ہے جو صابرہ نے صبا کو چھوڑا تھا۔ اب صبا اس ورثے کو اپنی زندگی میں اپنانے لگی تھی۔