172

کبوتر, ہنس اورجال

تحریر شئیر کریں

صبح کی دھند چھائی تھی، اور کبوتر اپنے پر پھڑکاتے ہوئے ہنس کے قریب آیا۔ دونوں اپنے درد دل لے کر بیٹھے تھے۔
کبوتر:
ہنس بھائی، تم نے سنا کیا؟ ہمارا بھایئ ملک ایران اور افغانستان جنہیں ہم اپنا حصہ سمجھتے ہیں، آج دشمن کی سازش میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہم سب کا خون ایک ہے، مگر دشمن نے ہمیں ایسے لڑا رکھا ہے جیسے دشمن۔
ہنس:
ہاں، کبوتر بھائی، امریکہ نے پاکستان کے ہوائی اڈوں کو استعمال کیا، ایران اور افغانستان پر حملے کیے، مگر سب الزام پاکستان پر آتا ہے۔ ہم پر تنقید ہوتی ہے، جب کہ اصل سازش کار وہ ہیں جو چھپ کر اپنی مہم چلاتے ہیں۔
کبوتر:
میں سوچتا ہوں کہ ہمیں کب تک یہ زنجیریں باندھے رہیں گی؟ کب تک ہم اپنے بھائیوں سے لڑتے رہیں گے، اور دشمن ہمارے حالات کا فائدہ اٹھاتا رہے گا؟ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار بھی اس جال میں پھنسے ہوئے ہیں، مگر ہمیں سمجھ نہیں آتی۔
ہنس:
کبوتر بھائی، یہی تو دشمن کی چالاکی ہے۔ وہ ہمیں آپس میں لڑا کر، تقسیم کرکے اپنی حکمت عملی چلاتے ہیں۔ ایران، افغانستان اور پاکستان کو آپس میں دست و گریبان کرنا، تاکہ ہم سب کمزور پڑ جائیں۔
کبوتر:
ہنس بھائی، اگر ہم ایک نہ ہوئے، تو یہ جال ہمیں ہمیشہ کے لیے قابو میں رکھے گا۔ ہمارے ہوائی اڈے دشمنوں کے ہاتھ میں ہوں گے، اور ہم الزام کے گِیرے میں پھنسے رہیں گے۔
ہنس:
کبوتر بھائی، یہ وقت ہے کہ ہم اپنے اختلافات کو بھول جائیں، اپنے بھائیوں کے ساتھ ہاتھ ملائیں۔ ہمیں جان لینا ہوگا کہ دشمن ہمارا دشمن ہے، اور ہم سب کی طاقت اسی میں ہے کہ ہم متحد ہوں۔
کبوتر نے آنکھوں میں آنسو لیے، اور کہا:
کبوتر:
ہاں ہنس بھائی! آج سے میں اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر اُڑوں گا، اپنی طاقت کو جگاؤں گا، اور دشمن کے جال کو توڑنے کی کوشش کروں گا۔
اخلاقی سبق:
“جب بھائی بھائی سے لڑیں گے، تب دشمن اپنی چالاکی پر خوش ہوگا، لیکن جب ہم متحد ہوں گے، تو کوئی جال ہمیں قابو نہیں کر سکے گا۔”

کبوتر, ہنس اورجال

پہلی کہانی

قلیلہ و دمنہ جدید حکایات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں