386

کلیم صاحب کرونا والے

تحریر شئیر کریں

تحریر : لبنٰی جمشید

کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا یہی کوئی اپریل کے پہلے ہفتے کاذکر ہے جب اماں نے فون پر یہ خبر سنائی تھی۔

” کچھ سنا تم نے۔۔۔خانم کے شوہر کو مسقط میں کرونا ہو گیا ہے“

”کیا واقعی؟ کب کیسے ؟ اب کہاں ہے وہ؟“ میں نے ایک ساتھ کئی سوال کر ڈالے۔۔ خانم کے شوہر نے تو لاک ڈاؤن سے قبل اپنی سیٹ کروائی ہوئی تھی اس نے پاکستان آنا تھا مگر قسمت جس دن فلائٹ تھی اسی دن لاک ڈاؤن ہو گیا تھا۔

” اپنی دباتی رہے گی میری بات نہیں سنے گی “ اماں نے خوامخواہ ڈانتے ہوۓ اپنا پسندیدہ جملہ دہرایا۔

”سنی تو ہے, اب پوچھ رہی ہوں یہ سب ہوا کیسے؟“ میں نے بے بسی سے کہا تھا۔

” تو آہستہ بولو ناں کیا سسرال میں اشتہار لگوانے ہیں کہ میکے کے محلے والوں کو کرونا نکل آیا“ اماں کا غصہ پھر سے عود کر آیا تھا مگر اس بار مجھے ان کے انداز پر ہنسی آئی تھی۔۔ ”کرونا کے نکلنے پر“ ۔۔۔۔ اب میکے کے سامنے والی ہمسائی کے مسقط میں مقیم شوہر جن کو میں نے کبھی دیکھا بھی نہیں ہے۔ ان کی بیماری کی وجہ سے میری سسرال میں کیسے ناک کٹ سکے گی۔۔ اس بات کی مجھے سمجھ نہیں آئی تھی۔۔میں نے اماں سے بھی پوچھنا ضروری نہیں سمجھا کہ اس سے مذید عزت افزائی کا خدشہ تھا۔

ہماری اماں کی یہ عادت ہے کہ ان کی بات توجہ اور خاموشی سے نہ سنی جاۓ تو انہیں بے حد غصہ آجاتا ہے ۔ اکثر اوقات تو غصے میں وہ یہ بھی نہیں دیکھتیں کہ داماد میاں بھی سامنے بیٹھے ہیں ۔۔ ان کے سامنے ہی میرے کردہ ناکردہ گناہ دہرا دئیے جاتے ہیں۔۔اس لیے خاموشی میں ہی عافیت کے تحت دل میں اٹھتے سوالوں کو دباۓ منہ سی کر مکمل بات سننا پڑی۔

” وہ ٹیکسی چلاتا تھا وہاں پر لاک ڈاؤن کے دوران بھی چوری چوری رات کے وقت سواریاں یہ سوچ کر لے لیتا کہ پاکستان میں بیوی بچے کس طرح گزارہ کر رہے ہونگے۔ آج کما کر بھیجوں گا تو کچھ سہولت رہے گی۔ “

” ہاں بندہ خود مر جاۓ بس کما کر عیاشی کے لیے ییچھے والوں کو بھیجتا جاۓ“ میری زبان پھر سے پھسلی مگر صد شکر اماں نے نوٹس نہیں لیا۔

”جس کمرے میں رہتاتھا وہاں اور بھی سات لوگ تھے ان کو بھی قرنطینہ لے گے ہیں“ انہوں نے مذید خبر دی۔

”مگر آپ نے بتایا ہی نہیں کہ کرونا کیسے ہوا اسے؟ میں پھر نقطے پر واپس آئی.

”لو بتا تو رہی ہوں بخار تھا ایک ہفتے سے ایک سو پانچ ساتھ نزلہ ذکام اور سانس کا مسئلہ پہلے دوائی گھر ہی لیتا رہا جب بات زیادہ بگڑی اسپتال گیا وہاں انہوں نے کرونا کا ٹیسٹ لیا جو پازیٹیو آیا اب اسے سانس والی مشین لگی ہے وہاں اسپتال میں ہی۔“ اماں نے خاصی تفصیل سے بتایا مجھے انتہائی دکھ ہوا میں اسے نہیں جانتی تھی مگر میری نظر کے سامنے اس کی خوبصورت نوجوان بیوی اور معصوم بچوں کے چہرے گھوم گے۔

” کیا وینٹی لیٹر پر ہے وہ؟“ مجھے پریشانی ہوئی۔۔

”نہیں آکسیجن لگی ہے“ اماں نے بتایا اور پھر خانم کی پریشانی کا زکر کرنے لگیں۔

فون بند ہونے کے بعد میں سوچنے لگی کہ ہم پاکستانی قوم کسی بھی چیز کو اس وقت تک سنجیدہ نہیں لیتے ہیں جب تک کہ خودہم پر نہ بیت جاۓ۔ میں نے بھی اس دن سے پہلے کرونا کے وجود کو ماننے سے انکار کیا تھا۔ اب یک دم سے خوف سا محسوس ہوا جسے اگلے ہی پل جھٹکتے ہوۓ آیت الکرسی اپنے اور بچوں پر پھونک ماری اور کرونا کو بھلا کر کاموں میں مصروف ہو گئی۔

اس کے بعد اماں کا جب بھی فون آتا تو وہ خانم کے میاں کلیم کے بارے میں ضرور بتایا کرتیں کہ وہ قرنطینہ میں شفٹ ہوا ہے, پھر یکدم طبیعت خراب ہوئی اور اسپتال لے گے , آکسیجن لگ گئی, پھر دوبارہ قرنطینہ آیا۔

دوسری جانب خانم نے ڈور اللہ پر ڈال کر خود اس سے لو لگالی تھی, سوالاکھ آیت کریمہ, درود تنجینہ, کلمہ شریف , وہ خود بھی پڑھتی اور جو بھی اس کے گھر آتا دالان میں بچھی سفید چادر پر رکھے شمارے دیکھ کر اپنی پڑھائی کا حصہ اس میں شامل کر جاتا, صدقہ بلا کو ٹال دیتا ہے سو اس نے ہر اپنی ہر عزیز تر چیز صدقہ کر دی۔۔

پھر آخرکار قدرت کو اس پر رحم آ ہی گیا, تین رمضان کو کلیم کا ٹیسٹ ہوا جو نیگٹو آیا, اب اسے مذید چودہ دن قرنطینہ رہنا تھا۔ وہ مدت بھی پوری ہوئی پھر رمضان کے آخیر تک وہ آئسولیشن میں رہا۔

اب پاکستان میں اس کی فیملی میں بڑے بھائی اورسسرال والے ان کوششوں میں تھے کہ پھنسے ہوۓ افراد کو لانے والی کسی بھی فلائٹ میں اس کو سیٹ مل جاۓ اس کے لیے انہوں نے بے پناہ پیسہ اور اثر و رسوخ استعمال کیا۔

میں نے اس سال عید اماں کے ہاں منانے کا فیصلہ کیا اور کچھ دن قبل ہی جب ہم وہاں پہنچے تو اماں نے بتایا۔ مجھے یہ بات ہضم نہیں ہو رہی تھی کہ خانم اسے یہاں بلا کر پورے محلے کو کیوں کرونا ذدہ کرنا چاہ رہی ہے۔ اماں نےکافی دفعہ بتایا بھی کہ وہ ٹھیک ہو چکا ہے مگر میری عقل یہ بات تسلیم نہیں کر رہی تھی کہ کرونا کا مریض صحتیا ب ہو کر اب پاکستان آ رہاہے پانچ دن قرنطینہ میں رہ کر عید والے دن آ جاۓ گا۔۔ اس کے بعد کیا ہو گا , کرونا والے کلیم صاحب کس کس کو کرونا ذدہ کریں گے میری سوچ مجھ سے زیادہ پریشان تھی۔

دوسری جانب خانم پارلر کے چکر لگارہی تھی گھر کی سیٹینگ بدل رہی تھی۔ پینٹ ہو رہاتھا, اس کے بچوں کے مرجھاۓ چہرے کھل اٹھے تھے۔

” مگر کوئی میرے پوائنٹ آف ویو سے کیوں نہیں سوچ رہا؟“ میرے اندر کا انسان بےچینی کاشکار تھا۔

آخر وہ دن آہی گیا جب کلیم صاحب کرونا والے نے چار سال کے بعد اپنے گھر میں قدم رکھنا تھا۔ یہ اتفاق تھا کہ میں نے ابھی تک خانم کے شوہر کو نہیں دیکھا تھا کیونکہ وہ لوگ چھ سال پہلے شفٹ ہوۓ تھے اور تب کلیم مسقط تھا , چار سال قبل صرف مہینے کی چھٹی آیا اور اس دوران میں اماں ک گھر چکر نہ لگاپائی۔ یوں اب میرے اندر کرونا کے مریض کو دیکھنے کا ایک فطری تجسس بیدار ہوا تھا۔ اس تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں نے اماں کے ٹیرس پر ڈیرہ جمالیا کیونکہ یہاں سے خانم کا پورچ اور کھلے دروازے سے ٹی وی لاؤنج تک کی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ احتیاطاََ دور بین بھی ہمراہ رکھ لی کہ سوشل ڈسٹینسی قائم رہے اسی جگہ بیٹھ کر دور کا نظارہ نزدیکی آلے سے کیا جاۓ۔
وہ وقت قریب آ رہا تھا جب کروناوالے کلیم صاحب نے اپنے گھر کو رونق بخشنے کے ساتھ ساتھ ہم معصوموں کو بھی کرونا کے صحتیاب مریض دیکھنے کا شرف حاصل ہونا تھا۔

انتظار بھی عجیب کیفیت ہے جو وقت کو طویل کر دیتی ہے یا پھر یہ ہمارے احساسات ہی ہوتے ہیں جو ہجر کے لمحوں کو صدیاں سمجھ بیٹھتے ہیں , وہ لمحے چاہے طویل ہو یا مختصر وہی جانتا ہے جس پر گزرتی ہے۔ خانم کے چہرے اور آواز میں بھی میں نے وہ چیز شدت سے نوٹ کی۔ چار سال سے وہ اکیلی عورت دونوں بچوں کے ساتھ رہ رہی تھی۔ زندگی کی آسائشات کی خاطر دو سال قبل محض اس لیے کلیم کو آنے سے منع کر دیا تھا کہ جو رقم آنے جانے کےکرایہ میں خرچ ہونا تھی۔ اس سے اے سی خرید لیا جاۓ۔ یہ فیصلہ بھی اس نے اپنے لیے نہیں بلکہ شدید گرمی کی دوپہر میں پنکھے کی گرم لو سے مرجھاۓ ہوۓ بچوں کے چہرے دیکھ کر لیا تھا۔

انسان بھی کتنا عجیب ہے, وہ خود پر تو ہر ستم برداشت کر لیتا ہے مگر اپنے بچوں کی ہلکی سی کراہ بھی دل پر چبھ سی جاتی ہے۔ وہ ساری دنیا سے لڑ کر بچوں کی خوشیاں خرید کر لاسکتا ہے۔ خانم کی خواہش میں بھی خود غرضی شامل نہیں تھی , بس انتظار کے مذید دو سال تھے , کون جانتا تھا اس کا انتظار ایک وبا سے لڑ کر کس قدر نڈھال پڑا تھا۔۔

وہ اماں کے ساتھ باہر گیٹ پر کھڑی تھی اور انہیں کلیم کے آنے کے بارے میں تفصیلات بتا رہی تھی۔

” جی انٹی , بھائی ہی جائیں گے بس اپنے ڈرائیور کے ساتھ فیصل آباد سے انہیں لینے“

”فیصل آباد کی فلائیٹ تھی کیا ؟“ اماں نے خانم سے پوچھا۔۔ میں ٹیرس پر سلائی مشین رکھے بچیوں کی لون کی فراکیں سی رہی تھی, گیٹ کی ساری آوازیں مجھ تک پہنچ رہی تھیں۔ ویسے بھی خانم کی عادت تھی اونچا اونچا بولنےکی۔

اماں بتاتی ہیں کہ جب وہ بیاہ کر آئی تھی تو پہلے دن دلہن بنی سسرالی بچوں کو لڑنے پر اونچی آواز سے نہ صرف ڈانٹا بلکہ اٹھ کر دو دو چماٹ بھی لگاۓ تھے۔

”کلیم میاں تو دیکھتے رہ گے ہونگے۔۔کچھ بولے نہیں۔۔؟“ میں نے اماں سے پوچھا تھا۔

” سسرالیوں نے دانتوں میں انگلیاں دبالیں تھیں۔ اتنی تیز طرار بہو ۔۔ آتے ہی رنگ دکھا دیا وہ تو پھر آنے والے وقت نے بتایاصرف زبان کی اونچی ہے تیز نہیں اور غلط بات برداشت نہیں کرتی۔“ اماں نے بتایا تھا۔

اماں کو ٹیرس کی طرف آتے دیکھ کر میں اپنےخیالوں سے باہر آئی۔

” کیاکہہ رہی تھی خانم ؟“ میں نے سرسری پوچھا۔۔
” بتا رہی تھی زرعی یونیورسٹی فیصل آباد لے گۓ تھے کلیم میاں کو ائیر پورٹ سے ہی پانچ دنوں کے لیے۔۔۔“ اماں نے فراک اٹھا کر ناقدانہ نگاہوں سے دیکھنی شروع کی۔

” کیا اس نے پانچ دنوں میں پی ایچ ڈی کر کے آناہے وہاں سے“ میں نے اماں کا دھیان بدلانا چاہا۔۔

” پی ایچ ڈیاں تمہیں ہی مبارک ہوں, ادھر تو قرنطینہ بنا ہے اور ہاں ٹانکا چھوٹا رکھو۔“ میں جو جلدی کے چکر میں ٹانکا لمباکر کے گیرہ راؤنڈ کر رہی تھی فورا اماں نے بھانپ لیا باوجود اس کے ان کی آنکھ کی سرجری کو زیادہ ٹائم نہیں گزررا تھا۔

”اچھا کر لیا ہے, تو خانم نہیں جا رہی لینے کل اسے کیا؟“

”نہیں بس اس کا بھائی جاۓ گا ساتھ میں ڈرائيور “ اماں نے بتایا

عید کی شام سے ہی خانم کے ساتھ ساتھ مجھے بھی کلیم میاں کے آنے کا انتظار شروع ہوا۔ شام سے رات ہو گئی ۔ اس کے بچے گیٹ تک آتے اور پلٹ جاتے تھے پھر فون ملاتے اور دوبارہ گیٹ کی طرف لپکتے۔ دوسری جانب سے شاید ان سے کوئی پرینک کر رہا تھا۔ رات کے دس بجنے والے تھے تب خانم نے انہیں کہا کہ بیٹا انکل مزاق کر رہے ہیں آپکے ابو 11 بجے تک پہنچیں گے ابھی اندر چلو آپ۔۔۔

ان کے اندر چلے جانے کے بعد وقت گزارنا مشکل تھا۔ بچے سو چکے تھے۔ عید کی خوشی میں پریس کلب والوں کی طرف سے میزیو کا پیزا گفٹ ملا تھا ۔ اس کے بچے ہوۓ آخری دو پیس بھی کھا لیے۔ دوستوں سے چٹ چیٹ بھی کی, ٹویٹر پر ٹویٹ بھی کر دیا کہ چند لمحوں کے بعد میرا سامنا کرونا کے سابقہ مریض سے ہونے جا رہا ہے۔آدھے سے زیادہ فالورز کو یہ صرف مزاق ہی لگ رہا تھا۔ میں نے کسی کو بھی صفائی دینے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ یہ سب کر کے پھر بھی گیارہ بج کے نہ دے رہے تھے ۔ اماں سکون سے سو چکیں تھیں مگر میری متجسس طبیعت نے مجھے ٹیرس کی گرل سے جیسے باندھ ہی لیا تھا۔

آخرکار وہ وقت آ پہنچا گاڑی کی ہیڈ لائیٹس نے آنکھوں میں روشنی سی بھر دی۔گلی کے آخری سرے پر صرف یہی دونوں گھر آمنے سامنے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ایک دوسرے کی سرگرمیاں فوراََ نوٹس ہو جاتیں تھیں۔

میں نے موبائل کا کیمرہ فلیش بند کر کے آن کیا تا کہ میری اس سرگرمی پر پردہ رہے کیونکہ سب سے پہلے تو کلیم میاں کی فوٹو ٹویٹ کر کے فخر کا ٹیگ لگانا تھا آخر دوستوں کے ایک بڑے گروپ میں قسمت پائی تھی کہ کرونا کامریض دیکھنے کا شرف حاصل ہونے جا رہا تھا۔

گاڑی گلی کے کونے پر رکی اور پچھلی سیٹ کا دروازہ فوراََ ہی کھل گیا۔ دوسری جانب خانم اپنے بچوں کے ہمراہ گیٹ پر آ کھڑی ہوئی۔ گاڑی سے جو شخصیت برآمد ہوئی اس کو دیکھ کر مجھے انڈیا کے اداکار اکشے کمار کا گمان ہوا۔ لائٹ پنک ڈریس شرٹ اور بلیو جینز میں ملبوس وہ اونچا لمبا خوبصورت نوجوان اب نیچے اتر کر ڈرائيور کو احتياط سے گاڑی آگے گھر کے گیٹ کے پاس لے کر جانے کو کہہ رہا تھا ۔

” خانم کا بھائی ہی ہو گا“۔ اکشے کی شکل والے کو دیکھ کر سوچا…

فرنٹ سیٹ پر سیٹ کو تھوڑا پیچھے کیے گود میں اسٹک لیے شاید کلیم میاں تھے۔ ان کے بیٹھنے کے انداز سے ہی لگ رہا تھا کہ بیمار ہیں.

اکشے کمار نے اب ان بچوں کی طرف دیکھا جو اپنے والد سے ملنے کے لیے بے تاب ہو کر گاڑی کے پاس پہنچنے والے تھے۔

” بچوں تمہارے ابو نے گھر ہی آنا ہے ایسے نہیں ملنا ابھی ابو سے , چلو اندر جاؤ “ وہ تیز آواز میں انہیں اندر جانے کو کہہ رہا تھا۔

” آؤ ماما نے بولا ہے سینیٹائزر لگا کر ابو سے ملنا ہے وہ لگا کر آئیں“ ایک نے دوسرے کو کہا اور دونوں اندر کو ہو لیے۔

گلی کے اندر اماں نے نئی کیاریاں بنوانے کے لیے کچھ سامان منگوایا تھا وہ سائیڈز کی دیوار کے ساتھ تھا عید کے بعد اس پر کام ہونا تھا اس کے ساتھ ساتھ واٹر فلٹر لگوانے کے لیے کچھ کھدائی کروائی تھی اس لیے گاڑی کا آسانی سے آنا محال تھا۔۔اکشے کمار کا بھلا ہو جس نے ڈرائيور کو باہر نکالا اور مہارت سےگاڑی کو خود چلا کر گیٹ تک لایا۔

گاڑی سے اتر کر پچھلی سیٹ سے ڈرائيور کو سامان نکال کر دیا جو اسے اندر لے کر جانا تھا۔ اس کے بعد پھر ٹھوڑی سے نیچے ٹکا ماسک ٹھیک طرح سے پہن کر فرنٹ سیٹ کی جانب آیا۔

میری گرفت اب کیمرے پر مضبوط ہو گئی۔ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھلا اور اکشے کمار نے ہاتھ پکڑ کر اس مریض کو باہر نکالا۔ سفید شلوار قمیض میں ملبوس عمر رسیدہ بوڑھا چہرے پر جھریوں کے ساتھ ساتھ گرے اور سفید داڑھی ہاتھ میں اسٹک سانولا رنگ اور عام سے خدوخال۔… ان کا ماسک بھی ٹھوڑی کے نیچے ہی تھا۔۔۔ افف اتنی بے احتياطی۔۔ یکدم ہی خانم کا سراپا میری آنکھوں کے سامنے لہرایا۔ سرخ و سفید رنگت اونچا لمبا قد سلیقے سے کٹے بال بے حد ماڈرن مگر ہر انداز میں ایک سلیقہ تھا اس کے۔۔ مجھے زندگی میں پہلی بار اس بے جوڑ رشتے پر انتہائی غصہ آیا۔ خانم پر اس قدر ترس آ رھا تھا کہ کیا بتاؤں ۔۔ وہ پینسٹھ سالہ نظر آتا بوڑھا کسی طرح بھی اس کے قابل نہیں تھا اور وہ اس بوڑھے کے لیے پارلر کے چکر لگاتی رہی۔۔۔۔۔ان کے لیے تو سادی لپ اسٹک بھی لگا دیتی تو خوشی سے پھڑک کر جان دے دیتے۔

”افف کتنی بڑی زیادتی کر دی خانم کے والدین نے “ میرا افسوس کم ہونے میں ہی نہیں آرہا تھا۔

”خانم, بھائی جی کو خود ہاتھ پکڑ کر اندر لے جاؤ “ اکشے کمار نے اونچی آواز میں گیٹ کے درمیان کھڑی خانم کو تحکم بھرے انداز میں کہا اور پچھلی سیٹ سے باقی سامان اٹھانے لگا۔

خانم نے شاید اس کی بات سنی ہی نہیں تھی۔ وہ بس خلا میں دیکھے جا رہی تھی۔ سفید داڑھی والے بابا جی آہستہ آہستہ قدم اٹھا کر اندر جانے لگے۔ جیسے ہی وہ گیٹ کے پاس پہنچے , خانم کے آنسو بہنے لگے, انہوں نے اس کے سر پر زرا ہاتھ ٹکایا اور اندر کی جانب ہو لیے , دونوں بچے بھی بھاگ کر آۓ اسٹک ہاتھ سے لی اور ان کا ہاتھ تھام کر اندر ٹی وی لاؤنج کی طرف بڑھے۔

سامان پورچ میں رکھا جا چکا تھا۔ ڈرائيور گاڑی واپس موڑ رہا تھا۔ اکشے کمار نے اسے کچھ ہدایات دیں اور واپس گھر کی جانب پلٹا جہاں خانم گیٹ پر برف کی طرح جمی تھی۔

اب وہ اس کے سامنے رک کر آہستہ آواز میں کچھ کہہ رہا تھا جو میں سن نہ پائی تھی۔ ٹیرس کی گرل کے ساتھ جامن کے پتوں سے چھپ کر دیکھتے ہوۓ اچانک مجھے کسی تھرلنگ سٹوری کا احساس ہوا۔

خانم پلٹ کر اندر پورچ میں جا کھڑی ہوئی , اکشے کمار پورچ کے ساتھ بنے واش روم کے سامنے رکے , اپنی شرٹ اتاری اور سلمان خان کے پوز میں سینیٹائزر لگاتے ہوۓ خانم کی جانب پلٹا, میرے دل کی دھڑکن یکدم تیز ہوئی اور کچھ انہونی مگر غلط ہونے کا احساس ہوا۔۔ میں پلٹی اور فورا اندر بھاگی اور بسترمیں خواب و خرگوش کے مزے لیتی اماں کو اٹھانے لگی۔

” کیا مسئلہ ہے تمہارا آدھی رات کو“ وہ نیند خراب کیے جانے پر خاصی کوفت کا شکار ہوئیں۔۔
” صرف مجھے اتنا بتا دیں کہ خانم کا بھائی کیسا ہے بوڑھا یا جوان پھر سو جانا بے شک ۔۔ پلیز اماں” میں نے منت کی۔
انہوں نے میری طرف کچھ اس طرح دیکھا جیسے میری زہنی حالت پر شبہ ہو۔۔ اور افسوس سے سر ہلا کر کچھ بولا اور واپس سونے کے لیے لیٹ گئیں۔۔

” خانم تو ہے ہی اکلوتی اولاد“ میں نے ان کے الفاظ دہراۓ۔۔
میرے سر پر پہاڑ گرا تھا۔۔۔یکدم مجھے کلیم میاں پر ترس آنے لگا۔۔۔۔۔پھر ایک اور خیال آتے ہی میں فوراََ سے ٹیرس کی جانب لپکی۔۔۔

کبھی کبھی آنکھوں دیکھے کو جٹھلاتے ہوۓ انتہائی تکلیف سہنی پڑتی ہے مگر اس سے نہ تو حقیقت بدلتی ہے اور نہ ہی تکلیف کا احساس کم ہوتا ہے۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا معاملہ ہو رہا تھا۔ اس سے قبل کہ میں اپنی سوچوں میں مذید الجھتی , مجھے اس کہانی کو سلجھانا تھا۔

اب سامنے والے پورچ میں کوئی ذی نفس موجود نہیں تھا مگر ٹی وی لاؤنج سے روشنی اورساۓ لہراتے نظر آ رہے تھے۔ میں نے تپائی پر دھری دوربین اٹھائی اور آنکھوں سے لگالی۔

لاؤنج کا منظر واضح ہوا سامنے والے بڑے صوفے پر خانم پاؤں اوپر کیے بیٹھی تھی۔ سائیڈ والے سنگل صوفے پر کلیم میاں دونوں بچوں کو اپنے ارد گرد پھنساۓ بیٹھے تھے۔

اکشے کمار کا کہیں پتہ نہ تھا ….شاید وہ جا چکا تھا۔ لیکن وہ تھا کون؟۔۔۔ ایسے کیسے چلا گیا…؟۔ اس کے اور خانم کے درمیان کیسا رشتہ تھا۔ میرادماغ ان سوالوں کے چکر سے نکل نہیں پا رہا تھا۔ مجھے وہ خانم کی اکشے کو دیکھتی نظریں بھول نہیں پا رہیں تھیں مگر دماغ کسی غلط بات کو سوچنے سے بھی انکاری ہو رہا تھا۔ میں نے دوربین ہٹائی اور باہر گلی میں جھانکا, وہاں بھی کوئی نہیں تھا۔

میں مایوس ہو کر پلٹنے ہی لگی کہ پورچ سے کھٹاک کی آواز آئی۔

” گڑیا, احمد آؤ ابو سے مل لو اب“ میں نے مڑ کر دیکھا واش روم سے نہاۓ ہوۓ اکشے کمار باہر نکل کر میرا معمہ حل کر چکے تھے۔ مریم اور دونوں بچے دوڑ کر آۓ اور کلیم میاں سے لپٹ گے۔۔۔

” مبارک ہو خانم آپا کلیم بھائی خریت سے پہنچ گۓ۔۔“ کلیم میاں بچوں کو لیے اندر گے تو میں نے ٹیرس کی لائٹ آن کرکے ان کو آواز دی۔ وہ مین گیٹ کو تالا لگانے لگی تھی۔

”شکریہ تم ابھی تک اٹھی ہوئی ہو؟“ انہوں نے پوچھا۔۔
”جی بس طبیعت ٹھیک نہیں تھی چاۓ بنانے اٹھی ہوں“ معصومیت میرے لہجے پر ختم تھی۔
” تو آؤ میں چاۓ ہی بنانے لگی ہوں ساتھ اپنے بھائی سے بھی مل لینا“ انہوں نے پھر سے گیٹ کھولا۔
” اچھا نہیں لگتا اتنی رات کو صبح آؤ گی ملنے“ میں نے فارمیلٹی نبھائی تھی۔
”ارے اس میں ایسا کیا …. آؤ تم یہ بھی میکہ ہی ہے تمہارا“ انہوں نے اتنی اپنائیت سے کہا کہ مجھ سے رسماََ بھی انکار نہ ہو سکا۔

کلیم اور خانم دونوں ایک دوسرے کے لیے بنے تھے ۔ ان کی باتیں سن کر اندازہ ہو رہا تھا مجھے اس بات کا, دونوں کا تیز تیز بولنا ,اپنائیت,گرم جوشی, مہمان نوازی ایک سی عادتیں۔۔۔

” کلیم بھائی, یہ کرونا والا چکر کیا تھا؟ میں سینڈوچ اٹھاتے ہوۓ اصل مدعے پر آئی۔۔

”جی بتايے ان کو محترمہ رائیٹر ہوتی ہیں“ خانم نے خوش دلی سے ان کو بتایا۔۔

” جی آپ کو کون نہیں جانتا, ہماری خوش نصیبی ہے آپ اس وقت ہمارے غریب خانے پر تشریف لائیں“ کلیم بھائی کی بات سن کر مجھے کچھ غلط ہونے کا حساس ہوا تھا۔

” آپ کو تھوڑی سی غلط فہمی ہوئی ہے میں وہ نہیں جسے آپ سمجھ رہے ہو۔۔۔ انکا گھر سامنے والا ہے۔۔ ہمارے ساتھ والا۔۔۔ میں تو صرف کبھی کبھار شوق میں کچھ لکھ لیتی ہوں۔۔میں نے فورا صفائی دی.

” اوہ تو خاندانی اثرات ہیں آپ پر پھر“ کلیم بھائی مسکراۓ میں نے کندھے اچکادیے ۔

” آپ نے بتایا نہیں پھر؟“ میں نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا۔

” میں نہیں جانتا کہ یہ کرونا تھا یا پھر کسی وبا کا وہم ۔۔بس کچھ دن بخار رہا جو 105 کی شدت اختیار کر گیا دوستوں نے مشورہ دیاکہ اسپتال چلا جاؤں وہاں جا کر انہوں نے ٹیسٹوں کے چکر میں باندھ لیا خون کے بلاجواز نمونے لیے جاتے رہے دو دن ایک کمرے میں بند کر کے صرف دووقت کاکھانا مہیا ہوا۔“ وہ سانس لینے کو رکے

” پھر کیا ہوا“

” دو دن بعدرپورٹ میں کرونا پازیٹو آیامگر مجھے محض بخار ہی لگ رہا تھا۔اس دن مجھے پینا ڈول کی گولی کے ساتھ گہرے پیلے رنگ کا بدنما سا شربت دیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ پانی کی کمی کو پراپر پورا کرے گا۔ اس کو پینےکی دیر تھی کہ میرے اندر سانس رک رک کر آنے لگی۔۔ مجھے یوں لگاجیسے میرا دم گھٹ رہا ہے میرے پھیپڑوں تک آکسیجن نہیں پہنچ پا رہی پھر میں چند لمحوں میں ہی اتنانڈھال ہو گیاکہ آکسیجن لگانا پڑی ۔“

” لیکن کلیم بھائی وہ شربت کس چیز سےبناتھا آپ نے ڈاکٹرز کو بتایا نہیں کہ آپکو اس کاسائیڈ ایفیکٹ ہوا ہے؟“

” نہیں یہ بات میں نے تیسری یا چوتھی بار پینے پر محسوس کی اس کے بعد میں نے اس کو پینے کے بجاۓ کمرے سے ملحق واش روم میں بہایا … میری حس مجھے خاموش رہنے کا اشارہ دے رہی تھی۔ میں وہاں پر شوگر اور دل کے امراض میں مبتلا افراد کو متعلقہ دوا کے بغیر تڑپتے دیکھا تھا۔۔۔میں نے خاموش رہ کر بس اللہ پر بھروسہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا شاید اسی لیے یہاں بیٹھا ہوں ورنہ میرے قرنطینہ کے آدھے سے زیادہ ساتھی اسپتال سے واپس پلاسٹک بیگز میں لاۓ گے تھے۔میں نے اپنی تمام تر ہمت اور طاقت کو جوڑے رکھا , اور پھر میرے لیے دعاؤں کی کمی بھی نہیں تھی“ وہ خانم کی طرف دیکھ کر مسکراۓ۔

” جی انہوں نےبھی اللہ پر معاملہ چھوڑا تھا بے شک اللہ بہتر کارساز ہے“ میں نے چاۓ کاخالی مگ رکھا۔

”جی اس میں کوئی شک نہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ کرونا کا وجود نہیں لیکن اس کو ہوا دے کر رائی کا پہاڑ بنایاجا رہاہے۔ میں الزام بھی نہیں لگانا چاہتا کیونکہ دشمنی مول لینا ہم جیسے ترقی پزیر ملکوں کا کام نہیں ہے۔ ہمیں صرف حکمت عملی سے خود کو حتی الامکان محفوظ رکھنا ہو گا“ وہ خاصے نپے تلے الفاظ میں بول رہے تھے۔

”آپ کے خیال میں اچھی حکمت عملی کیسے اپنائی جاۓ۔؟“ میں نے پوچھا

” خوراک کی بیرونی مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے, ملکی کمپنیوں کی پراڈکٹس کو فروغ دے کر“ ان کی بات میرے دل کو لگی اور دل نے سمجھی بھی۔۔۔ پھر میں کلیم صاحب کرونا والے اور ان کی فیملی کو ہنستا مسکراتاچھوڑ کر دل میں ان کی خوشیوں کی دعا کرتے اماں کے گھر کے بیرونی دروازے پر کھڑی بیل بجانے لگی کیونکہ اندرونی لاک کی چابی لے کر جانا ایکسائٹمنٹ میں بھول گئی تھی اب رات کے ڈیڑھ بجے اماں نے جو نیند خراب کرنے, اٹھ کر دروازے کھولنے پر بے بھاؤ کی سنانا تھیں اس کی ایک الگ کہانی ہے۔۔

اور ہاں آپ ٹھیک سمجھے وہ سفید شلوار قمیض میں ملبوس بڈھا …..نہیں سوری بزرگ خانم کے جیٹھ ہی تھے۔

ا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں