کم خرچ بالا نشیں
*ام محمد سلمان*
پتا نہیں وہ کون خوش قسمت مائیں ہوتی ہیں جن کے بچے ٹنڈے، توری، لوکی اور بھنڈی کھا لیتے ہیں… ہم تو جب پکائیں ایک مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ بچے اور ان کے آبا حضور یک زبان ہو کر پوچھتے ہیں:
”یہ کیا پکا لیا؟ کیوں پکا لیا؟ اسے کون کھائے گا؟“
”تو کیا روز مرغ مسلّم پکا کر کھلائیں؟“
نہیں جی! بھلا ایسے کیسے ہو سکتا ہے!
بجٹ اجازت دے بھی دے تو یہ صحت کے اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے کھانے پینے کے لیے ہزاروں رنگا رنگ چیزیں پیدا کی ہیں تو سب ہی کھانی چاہئیں۔
اب یہ نہ سمجھیے گا کہ ہم نے بچوں کو شروع سے عادت ہی نہیں ڈالی سبزیاں کھانے کی! خوب عادت ڈالی تھی اور بچپن سے ساری سبزیاں شوق سے کھاتے چلے آئے ہیں ۔۔۔ مگر جب سے بڑے ہوئے ہیں، ایک ایک چیز میں مین میخ نکالنے لگے ہیں۔ اللّٰہ جانے دماغ میں کون سا کیڑا ہے جو سبزی دیکھتے ہی کلبلانے لگتا ہے۔ لیکن خیر ہم بھی بہلا پھسلا کے کھلا ہی دیتے ہیں۔
بچوں کا کیا ہے! یہ تو ہیں ہی اپنی صحت اور ہمارے بجٹ کے دشمن! آئے دن نئی نئی فرمائشیں ۔۔۔
”اماں! بریانی پکا لیں،
اماں! نہاری بنا لیں،
اماں! دم چکن بنا لیں،
اماں قورمہ، کڑاہی ۔۔۔ کچھ تو بنا لیں!!“
ویسے آج کل تو قورمہ اور کڑاہی بنانے کا تصور ہی محال ہے۔ قورمے کے لیے پیاز اور کڑاہی کے لیے ٹماٹر ناگزیر ہیں۔ اور دونوں کی قیمتیں اس وقت آسمان کو چھو رہی ہیں۔
سو ہم نے سوچا کڑھی بنا لیتے ہیں۔ اس مہنگائی کے دور میں نہایت لذیذ اور کم بجٹ میں تیار ہونے والی چیز ہے۔ پیاز ٹماٹر کا تو اس میں کام ہی نہیں۔ چاہیں تو تھوڑی بہت پیاز کتر کر پکوڑوں میں ڈال لیں، نہیں تو ویسے بھی گزارا ہو جائے گا۔ کڑھی میں کڑی پتا ضرور ڈالنا چاہیے۔ ذائقہ اور خوشبو لا جواب ہو جاتے ہیں۔ ہاں مگر دھیان رکھیے کڑھی کے لیے پکوڑے بناتے ہوئے ذرا سا میٹھا سوڈا ضرور شامل کیجیے اور پکوڑے دھیمی آنچ پر تلیے۔ تیز آنچ پر تلے ہوئے پکوڑے اندر سے کچے رہ جاتے ہیں اور کھاتے ہوئے کڑھی کا سارا مزہ خراب کر دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
جتنا ہو سکے دیسی طریقوں سے پکائیے ۔۔۔ یوٹیوب والوں نے نت نئے طریقے ایجاد کر کے کڑھی کا سارا سواد، غارت کر دیا۔ وہی دیسی طریقہ اپنائیے جس میں پہلے بیسن چھانیے۔۔ پھر دہی میں بیسن، ہلدی، لال مرچ، نمک اور تھوڑا سا پانی ڈال کر مدھانی سے خوب کھیلیے۔ ہاتھوں کی اچھی طرح ورزش ہو جائے تو حسب منشا پانی شامل کر کے چولہے پر چڑھا دیجیے۔ جب تک ابال نہ آ جائے برابر چمچہ چلاتے رہیے۔ ادھ پکی ہوجائے تو کڑی پتے کے چند پتے شامل کر دیجیے۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد جا کر ہانڈی میں چمچہ گھماتے رہیے۔ یاد رہے، آنچ دھیمی رکھنی ہے۔ جب دو گھنٹے پکنے کے بعد سوندھی سوندھی خوشبو آنے لگے تو پکوڑے بناتے جائیے اور ساتھ ساتھ کڑھی میں ڈالتے جائیے۔ آخر میں سفید زیرہ، کڑی پتا اور لال ثابت مرچ کا بگھار لگا دیجیے۔ انتہائی ذائقے دار کڑھی تیار ہوتی ہے۔ کھاتے جائیے انگلیاں چاٹتے جائیے۔ اوہو ۔۔ ہماری نہیں بھئی، اپنی انگلیاں!
ہم تو اپنے بچوں کو ایسے ہی بہلا لیتے ہیں۔۔۔ پھر بھی زیادہ نخرے کریں تو روٹی کی بجائے تہ دار خستہ پراٹھے بنا دیتے ہیں۔ سب شوق سے کھا لیتے ہیں!
لیجیے گوشت کی بھی بچت اور پیاز ٹماٹر کی بھی!
کیا کہا؟
”پراٹھوں میں گھی جو خرچ ہوگا ۔۔۔!“
ارے بس بھی کرو اللّٰہ کے بندو! بچوں کو بھوکا ماروگے کیا ۔۔؟ تھوڑی بہت تو عیاشی کرنے دو بے چاروں کو۔ ابھی کل بھی دال چاول پکا کر کھلانے ہیں اور پرسوں پھر ٹنڈے ۔۔۔۔
ویسے اب تو ٹنڈے کھانا بھی جوئے شیر لانے کے برابر ہوتا جا رہا ہے۔
کیوں بھئی ؟
وہ ایسے کہ اس دن ہم نے گوشت میں ٹنڈے شریف ڈالنے کا ارادہ کیا۔ جب خریدنے پہنچے تو پتا چلا ٹنڈے تو واقعی شریف فیملی سے جا ملے۔۔۔ تین سو بیس روپے کلو ٹنڈے! یعنی آدھا کلو بھی خریدیں تو ایک سو ساٹھ روپے کے۔ اس پہ سبزی فروش کا فراخ دلانہ رویہ دیکھیں… کہتا ہے ۔۔۔ :
”باجی! چلیں آپ کے لیے بیس روپے چھوڑ دیے، تین سو روپے لگا دیے۔“
ہم نے بروقت انتہائی عاقلانہ فیصلہ کیا اور ٹنڈے لیے بغیر ہی دکان سے باہر تشریف لے آئے۔ آلو گوشت بنایا اور شکر ادا کیا کہ آلو اپنی دسترس میں ہیں۔ یعنی اس مہنگائی کا اثر ابھی تک آلوؤں پر نہیں پڑا ۔
کل کسی کے اسٹیٹس پر ایک جملہ پڑھا: ”پہلے پیاز کاٹتے ہوئے آنکھوں سے آنسو آیا کرتے تھے اب تو پیاز خریدتے ہوئے بھی آنسو آتے ہیں۔“
جملہ دل چسپ بھی تھا اور حقیقت کا غماز بھی۔ ظاہر سی بات ہے حالیہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے زمینی راستے، فصلیں اور گودام ۔۔ سب ہی کچھ متاثر ہوا ہے۔ کتنی ہی کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ کچھ دن تو اس حقیقی یا مصنوعی مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لیے بہتر طریقہ یہی ہے کہ جو کچھ مل رہا ہے چاہے مہنگا ہی سہی! اس پر رب تعالٰی کا شکر ادا کریں۔ ورنہ اس سے کہیں زیادہ تباہی آ سکتی تھی۔ رب کا شکر احسان ہے معیشت ڈوبی نہیں، تیر رہی ہے اگرچہ طوفان میں پھنسی کسی پرانی کشتی کی طرح ہچکولے کھا رہی ہے۔
ہمیں چاہیے یہ دن میانہ روی کے ساتھ گزاریں۔ جو چیزیں مہنگی اور کم یاب ہو رہی ہیں انھیں صرف ضرورتاً ہی استعمال کریں۔ مقدار کم کر لیں۔ حدیث میں آتا ہے ”جس نے میانہ روی اختیار کی وہ کبھی مفلس نہیں ہوا۔“ (مسند احمد)
خرچ میں اعتدال کی راہ اپنائیں۔ غیر ضروری چیزیں نہ خریدیں۔ اپنے آس پاس کے غریب لوگوں کا بھی خیال کریں اور اپنے سیلاب زدہ ضرورت مند بہن بھائیوں کی بھی مدد کریں۔ اور اللّٰہ تعالیٰ سے ان کی بحالی کے لیے خوب خوب دعائیں کریں۔ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے لیے اس کی غیر موجودگی میں دعائیں کرنے کا عمل اللّٰہ تعالٰی کو بہت پسند ہے۔
حدیث میں آتا ہے:
”جو بھی مسلمان اپنے بھائی کے پس پشت اس کے لیے دعا مانگتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے ”ولک مثل ذالک“ (اللّٰہ کے بندے!) یہی چیز اللّٰہ تعالٰی تجھے بھی عطا فرما دے۔“
یعنی جو خیر و بھلائی اپنے بھائی کے لیے مانگی ہو اسے بھی عطا کی جاتی ہے۔ پس ہر مسلمان کے لیے کسی بہتری کی دعا کرنا، در حقیقت فرشتوں سے اپنے لیے دعا کرانے کی تدبیر ہے۔
کم خرچ بالا نشیں