
شہر کا اصل نام کاغذوں میں موجود تھا، مگر فائلوں میں اسے زون زیرو کہا جاتا تھا۔ زون زیرو وہ جگہ تھی جہاں سچ ہمیشہ عارضی ہوتا اور خاموشی مستقل۔ کنٹینر، بیریئر، خاردار تاریں اور ہر کھمبے پر آنکھ کی مانند لٹکتے کیمرے اس شہر کی پہچان بن چکے تھے۔ کہا جاتا تھا کہ یہ سب قومی سلامتی کے لیے ہے، مگر عوام جانتے تھے کہ اصل خطرہ سوال ہوتے ہیں، جواب نہیں۔
اسی شہر میں ایک شخص رہتا تھا جس کا اصل نام بہت کم لوگ جانتے تھے۔ فائلوں میں وہ Subject N-17 تھا، مگر عوام میں وہ صرف ایک علامت کے طور پر پہچانا جاتا تھا:
نکتہ نہ سیاست دان تھا، نہ صحافی، نہ کسی جماعت کا کارکن۔ وہ ایک ڈیٹا اینالسٹ تھا، جو سرکاری نظام کے اندر بیٹھ کر اعداد و شمار پڑھتا اور ان کے درمیان چھپے جھوٹ کو پہچان لیتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اصل سازش تقریروں میں نہیں، بلکہ رپورٹس کے حاشیوں میں لکھی جاتی ہے۔
اس کا طریقہ عجیب تھا۔
وہ نہ لیک کرتا تھا،
نہ ویڈیوز وائرل کرتا تھا۔
وہ بس سوال چھوڑ دیتا تھا۔
غلط جگہ،
غلط وقت پر۔
اور یہی بات خطرناک تھی۔
زون زیرو کی ایک عمارت میں، جسے مرکزی رابطہ مرکز کہا جاتا تھا، نکتہ کی فائل کھولی گئی۔ فائل موٹی نہیں تھی، مگر سرخ نشانوں سے بھری ہوئی تھی۔ ایک سینیئر افسر نے فائل بند کرتے ہوئے کہا:
“یہ شخص بات نہیں کرتا، سوچ پھیلاتا ہے۔
یہ زیادہ خطرناک ہے۔”
فیصلہ ہو گیا۔
ایک رات، جب شہر میں اچانک انٹرنیٹ بند ہوا، نکتہ اپنے فلیٹ سے غائب ہو گیا۔ نہ گرفتاری دکھائی گئی، نہ وارنٹ۔ بس ایک سفید گاڑی، اور پھر خاموشی۔
اگلی صبح سرکاری چینلز پر ایک مختصر خبر چلی:
“ریاست مخالف نیٹ ورک بے نقاب۔ ایک اہم سہولت کار تحویل میں۔”
نام نہیں لیا گیا،
مگر شہر سمجھ گیا۔
لوگ خوف زدہ تھے، مگر اس بار ردعمل مختلف تھا۔ نہ احتجاج، نہ جلاؤ گھیراؤ۔ بازار کھلے رہے، دفاتر بھی، مگر ایک عجیب بے دلی ہر جگہ پھیل گئی۔ جیسے سب کچھ چل رہا ہو، مگر اندر سے رک چکا ہو۔
ادھر نکتہ ایک ایسی جگہ آنکھ کھول رہا تھا جہاں وقت کا کوئی پیمانہ نہیں ہوتا۔ ایک کمرہ، سفید روشنی، اور سامنے بیٹھا شخص جسے وہ انکوائری آفیسر سمجھ رہا تھا، مگر دراصل وہ ایک ذہن تھا، عہدہ نہیں۔
“تم کس کے لیے کام کرتے ہو؟”
سوال آیا۔
نکتہ مسکرایا۔
“اعداد و شمار کے لیے۔”
یہ جواب فائل میں سرخ ہو گیا۔
دن گزرتے گئے۔ سوال بدلتے گئے، مگر نکتہ کا جواب ایک ہی رہا۔ وہ کسی راز کو چھپا نہیں رہا تھا، کیونکہ اصل راز تو وہ نظام تھا جو خود کو بے داغ سمجھتا تھا۔
اسی دوران زون زیرو میں ایک اور مسئلہ کھڑا ہو گیا۔ ایک خفیہ دستاویز، جسے کنٹینر فائل کہا جاتا تھا، لیک ہونے لگی۔ یہ فائل کسی ایک شخص کے پاس نہیں تھی، بلکہ ٹکڑوں میں بٹی ہوئی تھی۔ ہر ٹکڑا ایک سوال کی صورت میں شہر میں پھیل رہا تھا۔
“یہ فیصلہ کس نے کیا؟”
“یہ فنڈ کہاں گیا؟”
“یہ حکم کس قانون کے تحت جاری ہوا؟”
ریاست گھبرا گئی۔
کیونکہ یہ لیک نہیں تھا،
یہ شعور تھا۔
ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ نکتہ کو مردہ ظاہر کر دیا جائے۔ خبر چلی:
“Subject N-17 دورانِ حراست دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک۔”
یہ خبر شہر میں پھیلتے ہی عجیب ردعمل سامنے آیا۔ نہ آنسو، نہ ہجوم۔ بس لوگوں نے سوال پوچھنا شروع کر دیا۔ کھلے عام نہیں، آہستہ آہستہ۔
ریاست نے کنٹینر لگا دیے۔
شہر بند ہو گیا۔
لیکن کنٹینر جسم روکتے ہیں،
سوچ نہیں۔
تین دن بعد ایک اور موڑ آیا۔ مرکزی رابطہ مرکز کے ایک جونیئر افسر نے خفیہ طور پر ایک پیغام پھیلایا:
“نکتہ زندہ ہے۔
اور کنٹینر فائل اس کے ذہن میں تھی، کاغذ پر نہیں۔”
اسی رات زون زیرو کے نقشے بدلے گئے۔ کنٹینر ہٹائے گئے، کچھ نئے لگا دیے گئے۔ مگر نقصان ہو چکا تھا۔
چوتھے دن نکتہ کو ایک سنسان راستے پر چھوڑ دیا گیا۔ کمزور، خاموش، مگر زندہ۔ اس کے پاس نہ فون تھا، نہ شناخت۔ مگر اس کے پاس وہی چیز تھی جو شروع میں تھی:
سوال۔
وہ شہر میں واپس نہیں گیا۔
اسے ضرورت بھی نہیں تھی۔
کیونکہ اب شہر خود سوال بن چکا تھا۔
لوگ جان گئے تھے کہ اصل جاسوسی سرحدوں کے پار نہیں ہوتی،
بلکہ اپنے ہی نظام کے اندر سچ تلاش کرنے کا نام ہے۔
اور یوں
کنٹینر فائل بند کر دی گئی،
مگر نکتہ
ہمیشہ کے لیے کھل گیا۔
اختتام
مصنف کا نوٹ:
کنٹینر فائل جاسوسی افسانہ