===============
کچھ بچوں کی مصروفیات کے بارے میں وہ سب جو آپ کو جاننا چاہیے
✒️: ماورا زیب
آج کل کی ماؤں کی خواہش ہے کہ بچے ہمہ وقت مصروف رہیں۔ کسی مثبت سرگرمی میں یا پڑھائی سے متعلق کسی کام میں۔ موجودہ دور کے فتنوں پر اگر نظر دوڑائی جائے تو والدین کی یہ خواہش بےجا معلوم نہیں ہوتی اگر ان کی نیت بچے کی تربیت اسلامی خطوط پر کرنا ہو تو۔
اگر دنیاوی لحاظ سے بچے کی تربیت کرنا مقصود ہے تو بچے کو ہمہ وقت مصروف رکھنا بچے پر بوجھ ڈالنا ہے کیونکہ ایسے ہم والدین بچے سے اس کا حق چھین لیتے ہیں وہ حق جو پیدائش کے ساتھ ہی اسے مل جاتا ہے کہ والدین اس کی تربیت اس طرح کریں کہ بچہ اپنی موت کے فوراً بعد منکر نکیر کے سوالات کے درست جوابات ادا کر سکے۔ اگر بچہ اپنی دنیاوی مدت میں قبر کے سوالات کے جوابات تیار نہیں کرسکا تو بہت حد تک اس کی ذمہ داری ہم والدین پر بھی عائد ہوگی۔ ہم آخرت میں کچھ بھی کہہ کر یا کوئی بھی بہانہ بنا کر اس سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔
جو مائیں بچوں کو موجودہ اور آنے والے دور کے فتنوں سے بچانا چاہتی ہیں وہ بھی اپنے بچوں کو ہمہ وقت مصروف رکھنا چاہتی ہیں تاکہ شیطان ان کے فارغ دماغ میں اپنا گھر نہ بنا سکے۔
اب مصروفیت دونوں کاموں میں ہے۔ دینی تربیت میں بھی اور دنیاوی تربیت میں بھی مگر فرق صرف نیت کا ہے۔ جب مقصود آخرت ہو تو اللہ عزوجل کی مدد خودبخود شاملِ حال ہوجاتی ہے۔
اب بات کی جائے بچے کی مصروفیت کے بارے میں۔ آج کل کے دور میں بچوں کے اردگرد فتنے بکھرے ہوئے ہیں۔ ہر فتنے سے مزید فتنے ابھر کر آتے ہیں۔ عموماً فتنوں کی جڑ تو موبائل ہے جو چھوٹے بچوں کا پسندیدہ کھلونا ہے۔ بہت سے والدین اپنے بچوں کو موبائل سے بچانے میں کامیاب ہیں، کچھ کوشش کر رہے ہیں اور عموماً والدین نے اپنے بچوں کا وقت مقرر کر رکھا ہے۔ یہ تینوں حالتیں بہترین ہیں اگر والدین اس کے ساتھ تربیت کو بھی منظم کرلیں۔
اس وقت دو مختلف نظریات چل رہے ہیں۔
Schooling at home اور
Home Schooling
اگر ان نظریات کو مختصراً دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ دو مختلف نظریات ہیں۔ اول الذکر میں تربیت کا مطلب کتاب، کاپی، پینسل، ربر، لیکچر یا اسی قسم کی دوسری چیزوں سے متعلق بات ہوتی ہے لیکن مؤخرالذکر میں کوئی حد نہیں۔ آپ کسی بھی طرح اپنے بچے کی تربیت کرسکتے ہیں۔ اگر آپ کا بچہ لکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتا تو کوئی بات نہیں آپ اسے پرسکون ماحول دیں اس کے سامنے خود لکھا کریں۔ پینسل کاپی کا استعمال کریں وہ ان شاءاللہ ایک نہ ایک دن سیکھ جائے گا لیکن صرف یہی کرنا مقصود نہیں بلکہ آپ ہمہ وقت اپنے بچوں کو مختلف سرگرمیوں میں مصروف رکھ سکتے ہیں۔
ہوم سکولنگ میں بچوں پر بوجھ نہیں ڈالا جاتا۔ انہیں نئے نئے کاموں کی طرف دھکیلا نہیں جاتا بلکہ ان کے لیے ماحول بنایا جاتا ہے۔ ہوم سکولنگ کا مطلب ماں کی جدوجہد ہے جو 24 گھنٹے جاری رہتی ہے۔ سکول کا ایک مقررہ وقت ہوتا ہے لیکن اگر سکول جانے والے بچوں کی مائیں چاہیں تو وہ بھی اپنے بچوں کو اسی طرح مصروف رکھ سکتی ہیں جیسے ہوم سکولنگ مائیں۔
بچوں کو قرآن سے متعارف کروانا ہے تو روز پڑھائیں۔ اگر بچہ بیٹھ کر نہیں پڑھتا تو اس کے سامنے تلاوت کریں۔ قرآن کی باتیں کریں۔ اپنی باتوں کے ذریعے اسے جنت کی سیر کروائیں۔ اسے جنت کا ایسا تصور دیں کہ وہ خواہش کریں وہاں جانے کی اور پھر وہاں جانے کی شرائط بتائیں۔
اسے تعلیم کی اہمیت بتائیں۔ اسلامی لحاظ سے تعلیم کی اہمیت سمجھائیں۔ موسم بدل رہا ہو تو موسم کی باتیں کریں۔ دھوپ، بارش، آندھی اور طوفان کے متعلق اس سے باتیں کریں۔ اس کا نظریہ جانیں اسے بولنے پر ابھاریں۔ اگر سبزی کاٹ رہی ہیں تو اسے اس سبزی کے حدودِ اربعہ کو جانچنے میں لگا دیں۔ روٹی بیل رہی ہیں تو روٹی کی اشکال بنائیے۔ تمام روٹیوں پر تجربے نہ کریں جو آپ نے اور آپ کے بچے نے کھانی ہو صرف اسی پر کر لیں۔ اس طرح سے بچے کو چاند کی مختلف اشکال سکھائی جا سکتی ہیں۔ یہ سب سائنس سکھانے کے طریقے ہیں۔
کائنات پر غوروفکر کرنا سکھائیں۔ اس طرح بچہ اللہ کی وحدانیت کو جلد سمجھتا ہے۔ صرف کتاب سے پڑھنا اور کاپی پر لکھنا آپ کے بچے کو بہت جلد تعلیم سے دور کردے گا۔ بچے بہت جلدی اکتاہٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ اتنی جلدی دن ختم نہیں ہوتا جتنی جلدی بچوں کی پسند بدل جاتی ہے۔ بچے یکسانیت کو پسند نہیں کرتے۔ انہیں ہر وقت متحرک رکھنے کے لیے جمود کو توڑیں۔ میتھ تو سبزیوں کے ذریعے، گھر کے افراد کے ذریعے اور چاولوں کے دانوں کے ذریعے بھی سکھائی جاسکتی ہے۔
سائنس کا طریقہ تو کافی حد تک اوپر واضح کردیا ہے۔ قرآن سکھانے کا طریقہ بھی لکھ دیا ہے۔ رہے معاشرتی علوم اور ارضیات سے متعلق مضامین تو وہ بھی اسی طرح مختلف طریقوں سے سکھائے جاسکتے ہیں۔ کبھی بچوں کی سنیں کبھی اپنی سنائیں، کبھی لکھوائیں تو کبھی پڑھائیں، کبھی ان کے ساتھ کھیلیں کبھی ان کو کھیلنے دیں، کبھی ان کے ساتھ گند پھیلائیں اور کبھی صفائی کرتے ہوئے انہیں اپنے ساتھ شامل کریں۔ وہ کون سا مضمون ہے جو آپ بچوں کو کھیل میں نہیں سکھا سکتیں۔ آپ سب سکھا سکتی ہیں اور انہیں مصروف رکھ سکتی ہیں۔ ان کی سوچوں پر بآسانی قابو پاسکتی ہیں بشرطیکہ مستقل مزاجی ہو۔ مسئلہ عموماً اس وقت ہوتا ہے جب ہمیں لگتا ہے کہ صرف حروفِ تہجی کا لکھنا اور پڑھنا ہی تعلیم کی ابتداء ہے۔ ایسا نہیں ہے اگر بچہ ابھی رسمی تعلیم میں دلچسپی نہیں لے رہا تو رک جائیں، بچے کو وقت دیں۔اسے اللہ عزوجل سے پیار کرنا سکھائیں اور ہر مثبت علم کو اللہ سے تعلق کے ساتھ جوڑ دیں۔
بچے کو لکھنے کی طرف مائل کرنا چاہتے ہیں تو اسے قلم کی اہمیت بتائیں۔ سورہ القلم کی تفسیر پڑھیں اور بچے کو بھی سمجھائیں۔ اسے بتائیں کہ اگر لکھنا ضروری نہ ہوتا تو بھلا صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کیوں لکھنا سیکھتے۔ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جب قرآن نازل ہوتا تھا تو وہ اسے کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی چیز پر لکھوا لیا کرتے تھے۔ اس کام کے لیے باقاعدہ کاتب مقرر تھے۔ بعد میں بھی قرآن کو ایک جگہ جمع کر کے لکھا گیا تاکہ وہ ایک جگہ ہی مکمل حالت میں محفوظ ہوجائے۔
ایک دن میں یہ سب باتیں بچے کو نہیں سمجھ آسکتیں۔ آپ روز اسے سمجھائیں ۔روزانہ اس سے باتیں کریں۔ اسے علم دینے کی کوشش کریں۔ تعلیم سے باندھیں۔ بچے کے لیے علم اور تعلیم میں وہ کشش پیدا کریں کہ بچہ اس سے بھاگ نہ پائے۔
ایک آخری بات ہر تحریر ہر کسی کے لیے نہیں ہوتی۔ اگر آپ کے مسائل الگ ہیں تو کسی ایسے شخص سے مشورہ کریں جو آپ کے حالات کو سامنے رکھ کر آپ کو درست مشورہ دے سکے۔ اللہ عزوجل آپ کے حامی وناصر ہوں۔ آمــــــــین
======================