رمضان المبارک 2025 کی آخری رات تھی۔ شہر ساکت تھا، مگر مسجد میں عبادت گزاروں کی سرگوشیاں رات کی خاموشی میں گھل رہی تھیں۔ چاندنی فرش پر سفید چادر کی طرح بچھی تھی۔ ہر طرف روحانی سکون تھا، لیکن ایک نوجوان کا دل بےچین تھا۔ وہ مسجد کے ایک کونے میں بیٹھا، بار بار اپنی انگلیاں مروڑ رہا تھا، جیسے کوئی بڑا فیصلہ کرنے جا رہا ہو۔
اس کا نام حماد تھا۔ اس کی پرورش ایک عظیم استاد نے کی تھی، جس نے اسے زندگی کے ہر موڑ پر سہارا دیا تھا۔ مگر اب وہی استاد اس کے دل میں نفرت کا ہدف بن چکا تھا۔ حماد کو یقین تھا کہ اس کے استاد نے اس کے ساتھ ناانصافی کی ہے، اور آج وہ بدلہ لینے کا ارادہ کر چکا تھا۔
رات کا آخری پہر قریب تھا۔ حماد نے گہری سانس لی اور مسجد سے باہر نکلنے لگا، مگر جیسے ہی وہ دروازے تک پہنچا، ایک سایہ اس کے سامنے آ گیا۔ وہ ایک عمر رسیدہ شخص تھا، جن کی آنکھوں میں گہری چمک تھی۔ انہوں نے حماد کو دیکھ کر مسکرا کر کہا، “بیٹا، اتنی رات گئے کہاں جا رہے ہو؟”
حماد نے نظریں چرائیں، مگر وہ بزرگ اسے ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے رہے۔ آخرکار، وہ بولے، “کیا تمہیں لگتا ہے کہ رات کے اندھیرے میں کیے گئے فیصلے روشنی میں نہیں کھلیں گے؟”
یہ جملہ حماد کے دل میں تیر کی طرح لگا۔ اس نے ایک لمحے کے لیے سوچا کہ وہ کیا کرنے جا رہا ہے۔ اس کا استاد تو ہمیشہ اس کا خیرخواہ رہا تھا۔ اگر کوئی غلطی ہوئی بھی تھی، تو کیا انتقام لینا درست تھا؟
حماد کے دل میں ایک جنگ چھڑ گئی۔ پھر اچانک اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے زمین پر سجدہ کیا اور گڑگڑا کر کہا، “اے اللہ! میں اپنے ارادے سے باز آتا ہوں، مجھے معاف کر دے۔”
*رمضان 2025 کی فجر کی اذان بلند ہوئی۔ مسجد کے دروازے کھلے اور عبادت گزار باہر آنے لگے۔ مگر حماد وہیں سجدے میں پڑا رہا۔ جب وہی بزرگ اس کے قریب آئے اور اسے کندھے سے ہلایا، تو اس کا جسم ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ اس نے اپنی نیت تو بدل لی تھی، مگر شاید تقدیر نے پہلے ہی فیصلہ کر رکھا تھا۔
مسجد کے دروازے پر ہلچل ہوئی۔ ایک شخص گھبراتے ہوئے اندر آیا، “حماد کہاں ہے؟ اس کے استاد اسے بلاتے رہے، کہہ رہے تھے کہ انہوں نے اسے معاف کر دیا ہے!”
بزرگ نے خاموشی سے سجدے میں گرے حماد کے بےجان جسم کو دیکھا، پھر اس شخص کی طرف نظر اٹھائی۔ ایک پل کو سب کچھ رک سا گیا۔ باہر سورج نکل رہا تھا، روشنی ہر طرف پھیل رہی تھی… مگر حماد کے لیے *رمضان 2025 کی رات کبھی ختم نہ ہوئی
گہری سیاہ رات