بسم الله الرحمن الرحيم
عنوان: ہائے رے بھائی
میں تمھارا سر پھاڑدوں گی!
میں تمھارا منہ توڑ دوں گا!
تم مجھ سے کوئ کام تو کرواکر دکھاؤ !
ہاں اور تم مجھ سے کچھ منگواکر دکھاؤ !
بڑی ہوں تم سے تمیز سے بات کرو ۔۔۔جنگل انسان !
ہاں تو کس نے کہا ہیکہ چھوٹوں سے ایسے بات کرو ۔۔۔پاگل!
ارے ارے ! گھبرائے نھیں ۔۔یہ بہن بھائی کے آپس میں محبت بھرے مکالمے ہیں جو صبح و شام بلا ناغہ ایک دوسرے کے گوش گزارتے ہیں ۔۔۔دن بھر کے چوبیس گھنٹوں میں کوئی نا کوئی ایسی بات ہو ہی جاتی ہے جس کے نتیجے میں یہ محبت بھرے جملے ادا ہونے شروع ہوجاتے ہیں ۔۔
آئیں ہم آپ کو وہ خوبصورت لمحات بتاتے ہیں جس میں یہ صورت حال پیش آجاتی ہے ۔۔
ایک دفعہ کا ذکر! نہیں بلکہ چند دن پہلے کا ذکر ہے ہم اللّٰہ کے حضور کھڑے عشاء کی نماز ادا کر رہے تھے کہ بھائی صاحب اپنی ڈاڑھی مونچھوں سمیت تشریف لے آئے۔۔اور ان کی مونچھیں شرارت سے پھڑک رہیں تھی ہمیں پتہ نہ تھا ورنہ۔۔۔ہم فوراً سے بیشتر بچاؤ کا سامان کرلیتے ۔۔
اب ہم قیام میں ہیں اور وہ پاس ہی کھڑے ہیں ہم سمجھے نہیں ( ہائے رے ہماری معصومیت ) پھر جیسے ہی ہم رکوع کے بعد سجدے میں گئے وہ ہمارے اوپر بیٹھ گئے گویا کہ کسی آرام دہ کرسی پر بیٹھ گئے ہوں ۔۔
اب
ب ہمارا سانس لینا مشکل ۔۔تسبیح نہ پڑھیں جائے ہم نے پورا زور لگا کر تسبیح پڑھنی شروع کردی اور ترجمہ پر غور ۔۔
کہ تو ہی اعلیٰ ہے
تو ہی ہمیں بچا سکتا ہے اور کسی کی مجال نھیں ۔۔کیونکہ ہمیں لگا ہمارا آخری وقت آ پہنچا ہے
اور اسی طرح کا ایک اور واقعہ ہے کہ ہم معمول کے مطابق نماز پڑھ رہے تھے کہ بھائی صاحب( مونچھوں والے) تشریف لائے اور ہماری ناک پکڑلی ہم چونکہ قیام میں تھے ۔۔ہم سے قیام کرنا مشکل ہوگیا کیونکہ انہوں نے ناک پکڑنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی پوری طاقت لگا کر ہماری ناک دبا بھی دی جس سے ہمارا سانس لینا دوبھر ہوگیا ۔۔۔اس کے بعد تو ہمیں پکا یقین ہی ہوگیا کہ یہ ہمارے سوتیلے بھائی ہیں اور ان کا مقصد ہمیں دنیا سے رخصت کرنا ہے
ابھی ہماری غمگین داستان باقی ہے ۔۔بلکل آپ گھبرائے نہیں ہم آپ کو تھوڑے دن اور پہلے لے چلتے ہیں ۔۔
جب ہم نے مدرسہ میں داخلہ لیا تو ہم ان ہی بھائی صاحب ( مونچھوں والے) کے ساتھ آیا کرتے تھے بلکہ اکثر جانا بھی ان کے ساتھ ہی ہوتا تھا ۔۔تو آپ یقین کریں ہم تقریباً روزانہ موٹر سائیکل پر ہی جایا کرتے تھے تو وہ ایسے موٹر سائیکل چلایا کرتے تھے کہ جیسا پورا شہر ان کا ہے اور سڑک تو ان کے ابا جان نے بنوا کر دی ہے ۔۔اگر ساری دنیا 60 کی رفتار پر گاڑی چلا رہی ہے تو یہ انکل 120 کی رفتار پر چلائیں گے چاہے کتنا ہی رش ہو اور چاہے پیچھے بیٹھنے والے کے گھٹنے لہولہان ہوجائیں یا پھر ٹخنے ٹوٹ کر گر جائیں جگہ تنگ ہونے کی وجہ سے یہ تو بس چلائیں گے۔۔۔
ایک دفعہ ہم ان کے ساتھ مدرسہ جارہے تھے کہنے لگے : گھر جاکر مجھے پیسے دے دینا وہ بھی اپنے ۔۔
ہم نے سینہ تان کر کہا : کس خوشی میں؟؟
تو جواب آیا : یہ جو گٹر کا پانی دیکھ رہی ہو نا ۔۔۔تمہیں لینے آؤ پھر چھوڑو بھی ۔۔ساری میری بائیک کا ستیاناس ہوگیا ہے پیسے دے دینا سروس کرواؤنگا ۔۔
ہاں تو جیسے ہم نے بالٹی بھر بھر پھینکا ہے یہ پانی ۔۔۔آیا بڑا ہم نے بھی چٹخ کر جواب دیا
تو پیاری بہنوں!! دیکھی آپ نے ہماری مظلومیت ۔۔ہم بہنوں پر کتنا کتناااااااا ظلم ہوتا ہے ان بھائیوں کی طرف سے ( یقیناً آپ ہماری بات سے مکمل اتفاق کرتی ہیں نا ) ہمرا ارادہ بلکل بھی آپ سے ہمدردی بٹورنا نھیں ہے ۔۔۔لیکن پھر بھی آپ کو ہماری مظلومیت جمع معصومیت کا احساس تو ہورہا ہوگا نا۔۔
✍️ بنت عمران
ہائےرے بھائی