ہمارے معیارات
ریاض دہر میں نا آشنائے بزمِ عشرت ہوں
خوشی روتی ہے جس کو ،میں وہ محروم مسرت ہوں
مری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائی
میں حرفِ زیر لب ، شرمندۂ گوش سماعت ہوں
گذرے وقتوں میں جب کوئی نوجوان لڑکا یا لڑکی شادی کی عمر کو پہنچتا تو خاندان کے بزرگوں کا سارا زور اس بات پر ہوا کرتا تھا کہ شادی کرتے وقت شرافت اور تہذیب یافتہ خاندان کو اہمیت دی جائے تاکہ نئی بہو یا داماد کی تربیت بہترین خطوط پر کی گئی ہو ۔
والدین کو بھی اپنے بچوں کو صدقۂ جاریہ بنانے کی فکر ہمہ وقت دامن گیر رہا کرتی تھی۔
سیلفی کلچر کی آندھی ہماری زندگی میں موجود بہت سی مفید روایات بہا کر لے گئی۔ شہرت اور مقبولیت کی دوڑ میں اپنی تہذیب و معاشرت کو روندتے ہوئے شاید اس بات کا احساس بھی ختم ہوگیا کہ نیک نامی اور سستی شہرت میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔
خاندانی نظام اور اقدار کی پاسداری میں سب سے نمایاں کردار عورت کا ہے جو ہر روپ میں تہذیب کی بقاء اور رشتوں کی خوبصورتی کا باعث ہوتی ہے ۔
اپنی حدود پر قائم رہتے ہوئے ہر دور میں مسلمان عورت نے بحیثیت ماں، بہن اور بیٹی کو بہترین حالت میں برقرار رکھا ۔
مگر فتنوں کے اس دور میں جب عزت و آبرو کے پیمانے دولت اور شہرت سے گزر کر ذاتی زندگی کی نمائش تک پہنچ گئے ہیں ۔ میڈیا کے ذریعے بیرونی حملوں کی رسائی ہماری نجی تقریبات اور بیڈرومز تک ہوچکی ہے ۔
چند ہزار لائکس اور فالوورز کی بڑھتی تعداد شرافت اور تہذیب کی چولیں ہلا چکی ہے ۔
این جی اوز اور سول سوسائٹیز کے ذریعے جو ایجنڈا ہمارے لیے تیار کیا گیا تھا اسے چند سوشل ایپس اور مارننگ ، ٹیلنٹ شوز کے راستے قطرہ قطرہ معاشرے کی نسوں میں اتار دیا گیا ہے ۔
اب ہمیں تھرکتے ، ٹھمکتے نوجوان ترقی یافتہ لگتے ہیں ۔
یہاں یہ بات بھی یاد رہےپاکستان میں پہلی الیکٹرک گاڑی کا پروٹوٹائپ پچھلی یوم آزادی پر لانچ ہوا تھا۔ اس کو کوئی سپانسر نہیں ملا اب تک۔ نہ ہی کسی مارننگ شو، ٹیلنٹ شو وغیرہ میں ان باصلاحیت نوجوانوں کو بلانے کی زحمت کی گئی۔۔
ٹیکنالوجی ، تعلیم ، پیشہ ورانہ تربیت، میڈیکل اور سرجیکل ایڈوانسمینٹ، ٹیکنیکل ڈیولپمنٹ ہمارے لیئے ترقی کے معیار نہیں رہے ۔۔۔ نہ ہماری ترجیحات ۔۔۔
نہ معلوم یہ حالات ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہیں بھی یا نہیں۔
مگر صورتحال افسوسناک ضرور ہے ۔
تھا جو نا خوب بتدریج وہی خوب ہوا !!