269

ہم چاہیں تو کیا نہیں ہوسکتا

تحریر شئیر کریں

ہم چاہیں تو کیا نہیں ہوسکتا

میرا ایک چھوٹا سا کریانہ اسٹور ہے
میں روزانہ پچاس روپے کاروبار سے نکال کر گولک میں ڈال دیتا ہوں پھر میں ہر ماہ پندرہ سو روپے اپنے محلے کی ڈسپینسری میں دے آتا ہوں ، وہاں معائنہ فیس پچاس روپے کے عوض مریضوں کو ادویات دی جاتی ہیں ، میری طرف سے ایک مہینے میں تیس مریضوں کا علاج ہو جاتا ہے ۔
الحمد للہ

میرا ایک چھوٹا کاروبار
میں اپنے کاروبار سے روزانہ سو روپے الگ کر کے اپنی بیوی کے پاس جمع کرواتا ہوں
مہینے کے بعد ہم تین ہزار روپے کا راشن بیگ ایک غریب گھرانے کو بھجوا دیتے ہیں ۔
الحمد للہ

میں محکمہ تعلیم سے وابستہ ہوں
سینئر سبجیکٹ سپیشلسٹ ہوں ، میں ہر ماہ باقاعدگی سے اپنی تنخواہ میں سے پانچ ہزار روپے الگ کرتا ہوں ،
ہم ہر سال ماہ رمضان میں اپنے شہر کے یتیم خانے میں قیام پذیر بچوں کو عید کے نئے کپڑے لے کر دیتے ہیں ۔
ہمارے بجٹ سے ساٹھ پینسٹھ بچوں کے لیے تین دن کے دیدہ زیب کپڑوں کا انتظام آسانی سے ہو جاتا ہے ۔
الحمد للہ

میں ایک کلرک ہوں
میری تنخواہ پینتیس ہزار روپے ہے میں ہر ماہ اپنی تنخواہ میں سے اپنے محلے کے تین یتیم بچوں کی سکول کی ٹیوشن فیس ادا کرتا ہوں اور اس طرح یہ میری طرف سے صدقہ ہو جاتا ہے .
الحمد للہ

میری کپڑے کی دکان ہے
میں ہر ماہ باقاعدگی سے اپنی آمدنی میں سے دس ہزار روپے الگ کرتا ہوں یہ سال کے ایک لاکھ بیس ہزار روپے بنتے ہیں ۔
میں ہر سال ایک یتیم بچی کی شادی و رخصتی کا بند و بست کرتا ہوں ۔
الحمد للہ

میں ڈاکٹر ہوں
میرا معمول ہے کہ میں اپنی آمدنی میں سے کینسر سوسائیٹی کے ذریعے روزانہ ایک غریب مریض کے لیے کیموتھراپی کا انجیکشن ڈونیٹ کرتا ہوں ۔
الحمد للہ

ہم دونوں میاں بیوی سرکاری سکول میں پڑھاتے ہیں
ہم ہر ماہ اپنی تنخواہ میں سے ایک معقول حصہ الگ کرتے ہیں ۔
اور ہر ماہ کے پہلے سنڈے کو اپنے محلے کے دینی مدرسے میں پڑھنے والے ہاسٹلائز بچوں کو مدرسے میں جا کر کھانا پیش کرتے ہیں ۔
الحمد للہ

میری پوش علاقے میں ایک بیکری ہے
میں نے اپنے علاقے کے دونوں گرلز اینڈ بوائز سکولوں کے ہیڈ ماسٹرز کو کہہ رکھا ہے کہ یتیم طلبا و طالبات کے یونیفارم اور جوتے میرے ذمہ ہیں
یہ کام کئی سال سے جاری ہے ۔
اِس مقصد کے لیے دو سو روپے روزانہ الگ کر دیتا ہوں ۔
الحمد للہ

میرا ریسٹورینٹ

روزانہ دس لوگوں کو اپنے ریسٹورینٹ سے رات کا معیاری کھانا پارسل دیتا ہوں تاکہ وہ غریب لوگ گھر جاکر اپنی فیملی کے ساتھ سیر ہو کر کھائیں ۔
الحمد للہ

میں انجنیئر ہوں
میں ایک نجی کمپنی میں جاب کرتا ہوں ۔ میری بیوی بھی ایک بڑے تعلیمی ادارے میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتی ہے ، ہم دونوں اپنی تنخواہ میں سے ہر ماہ باقاعدگی سے ایک مخصوص رقم الگ کرتے ہیں ۔

ہم معذور افراد کے لیے قائم ایک ادارے کو ہر ماہ ایک وہیل چیئر عطیہ کرتے ہیں جو کسی مستحق معذور کو دے دی جاتی ہے ۔
الحمد للہ

🤝 آئیں آج سے ہم بھی عزم کرتے ہیں کہ اللہ پاک کے دیے ہوئے رزق میں سے مستحق لوگوں کا حصہ نکالیں گے ۔۔۔
ان شاء اللہ العزيز

اس کو سب کاپی کریں اور اپنی نیک کمائی سے آپ کیا کر سکتے ہیں یا کرتے ہیں وہ اس میں ایڈ کریں اور آگے سے آگے پیسٹ کرتے جائیں

جزاکم اللہ خیرا

ہم چاہیں تو کیا نہیں ہوسکتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں