
منڈی کی گلیوں میں دھند ہمیشہ کچھ زیادہ ہی بھاری رہتی تھی۔ ہر موڑ پر چائے کی دکانیں، کمرے کے چھوٹے چھوٹے دروازے اور گلی کے کنارے لگے چھوٹے مزار، جیسے دنیا کے سارے دھوکے اکٹھے کر کے لوگوں کے لیے بچھا دیے گئے ہوں۔ یہاں ہر شام دھمال اور نقالی کی روشنی میں چھپے ہوئے جھوٹ کی خوشبو گھلتی تھی، لیکن اسی دھند میں ایک روشنی بھی چھپی تھی—فقیر الیاس۔
الیاس اکیلا نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ایک چھوٹا مگر مستحکم نیٹ ورک تھا۔ علی فقیری، شہر کے پرانے محلے میں بچوں کو قرآن اور اخلاق سکھاتا، حسینہ بی بی عورتوں کو کوٹھوں کی دھوکہ بازی سے بچانے کے لیے تعلیم دیتی، اور رحمت اللہ صاحب گلی کے کنارے کمزور اور بیمار لوگوں کی خدمت کرتے اور ان کے ہاتھ سے زکوٰۃ وصول کر کے سیدھی ضرورت مندوں تک پہنچاتے۔ یہ نیٹ ورک صدیوں سے قائم اصولوں کے تحت چلتا تھا: قبروں اور مزاروں کی تجارت نہیں، عورت اور مرد کے حقوق کا تحفظ، اور تعلیم اور شعور کی تبلیغ، نہ کہ دھمال یا تعویذ کا بازار۔
الیاس کے ساتھ یہ لوگ ہر جگہ موجود تھے۔ منڈی کی تنگ گلیوں میں، چھتوں پر، چھوٹے دروازوں کے پیچھے، اور حتی کہ مساجد کے کنارے پر، جہاں لوگ خاموشی سے سچ سننے آتے۔ منڈی کے لوگ یہاں آتے مختلف وجوہات سے۔ وہ اکثر پیر فخر شاہ اور اس کے مجاوروں کے پاس دھمال اور قبروں کی کرامت کے لیے آتے، امید رکھتے کہ صرف دعا، تعویذ یا چند نوٹوں سے ان کے دکھ ختم ہو جائیں۔ وہ فقیر الیاس اور اس کے نیٹ ورک کی تعلیم کے لیے بھی آتے۔ بچے قرآن اور اخلاق سیکھنے آتے، عورتیں سچائی، حقوق اور خود اعتمادی سیکھنے آتی، اور بوڑھے اور بیمار لوگ علاج اور رہنمائی حاصل کرنے آتے۔ الیاس کبھی زور سے کچھ نہیں کہتا، لیکن اس کی خاموشی میں اتنی طاقت ہوتی کہ لوگ اپنی زندگی بدلنے پر مجبور ہو جاتے۔
شام کے وقت، جب کوٹھوں کی دیواریں سازوں کی طُن طُن سے لرز رہی تھیں، عالیہ—منڈی کی پڑھی لکھی لڑکی—الیاس کے پاس آئی اور بولی: “فقیر سائیں… دعا دیں، قسمت کھل جائے۔” الیاس نے نظریں اٹھائیں اور کہا: “قسمت دعا سے نہیں بنتی، فیصلوں سے بنتی ہے۔ جو اپنے فیصلے خود نہیں کرتے، ان کے لیے کوئی دعا کام نہیں آتی۔” یہ جملہ سنتے ہی طوائفیں خاموش ہو گئیں۔ پہلی بار کسی نے ان کے “روحانی محافظوں” کو آئینہ دکھایا تھا۔ وہ لمحہ بالکل فلم کی طرح تھا—Wrong Number—جب ہر دھوکہ اور جعلی کرامت ایک لمحے میں واضح ہو گئی۔
پیر فخر شاہ، جو دھمال، تعویذ، اور قبروں کے ذریعے لوگوں کا استحصال کرتے، الیاس کے سامنے بے بس تھا۔ الیاس نے کہا: “یہ قبریں روحیں نہیں دیتیں، یہ دھمال، دھوکہ اور خوف کے کھیل ہیں۔ خدا کے نام پر جو دھوکہ دیا جاتا ہے، وہ سب کا بوجھ لے کر ختم ہوگا۔” یہ بات سنتے ہی ہجوم میں سرگوشیاں ہونے لگیں۔ لوگ سمجھ گئے کہ اصل کرامت اور روحانیت سچ، خدمت اور علم میں ہے، نہ کہ دھمال اور مزار کی خرید و فروخت میں۔
الیاس کا نیٹ ورک شہر کی ہر گلی میں چھپا ہوا تھا۔ ایک فقیہ بچوں کو نماز اور اخلاق سکھا رہا تھا، ایک عورت خواتین کو سچائی اور خود مختاری کی تربیت دے رہی تھی، اور ایک بوڑھا بیماروں کی خدمت میں مصروف تھا۔ یہ سب خاموش انقلاب کی شکل میں کام کر رہے تھے، بغیر شور و غل اور دھمال کے۔ لوگ آتے، سنتے، سیکھتے، اور واپس جاتے، مگر اندر کے کچھ بدل جاتا تھا۔
کچھ دن بعد، پیر فخر شاہ منڈی چھوڑ گیا۔ دھمال، تعویذ اور قبروں کا بازار ٹوٹ گیا۔ الیاس اور اس کا نیٹ ورک سکون سے بیٹھا، اور منڈی کے لوگ پہلی بار اپنے دل میں سوال اٹھانے لگے: “کیا یہ سچ نہیں؟ کیا یہ سچ نہیں کہ خدا کو دھمال یا قبروں کی نہیں، سچ، خدمت اور علم کی ضرورت ہے؟” منڈی کی گلیوں میں خاموشی چھا گئی، لیکن اس خاموشی میں سچ کی گونج تھی۔
سچ کی گونج افسانہ