
بارش رات بھر شہر پر گرتی رہی تھی، جیسے یروشلم سے کچھ پوچھ رہی ہو۔ صبح میں جب نکلا تو گلیاں بھیگی ہوئی تھیں اور پتھر ایسے چمک رہے تھے جیسے ابھی ابھی جاگے ہوں۔ ہوا میں مٹی اور تاریخ کی ملی جلی خوشبو تھی۔
میں فصیل کی طرف بڑھ رہا تھا۔ راستہ جانا پہچانا تھا، مگر ہر قدم کے ساتھ دل میں ایک انجانا سا بوجھ بڑھتا جا رہا تھا۔ یہ شہر ایسا ہے—جتنا قریب جاؤ، اتنا ہی اپنے اندر کھینچ لیتا ہے۔
فصیل کے پاس پہنچ کر میں رکا۔ سامنے سلوان پھیلا ہوا تھا، گھروں کی چھتیں، زیتون کے درخت، اور دور پہاڑیوں کا خاموش وقار۔ منظر بے حد خوبصورت تھا، مگر اس خوبصورتی میں ایک اداسی چھپی ہوئی تھی، جیسے کوئی بات کہہ کر رک گیا ہو۔
پیچھے قدموں کی آواز آئی۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو ایک نوجوان فلسطینی کھڑا تھا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی تھکن تھی، مگر لہجہ پرسکون۔ “یہاں پہلی بار آئے ہیں؟” اس نے پوچھا۔ میں نے سر ہلایا۔ وہ مسکرایا، “پہلی بار ہمیشہ آخری بار جیسی لگتی ہے۔”
ہم دونوں خاموشی سے فصیل کے سائے میں کھڑے رہے۔ اچانک اس نے نیچے کی طرف اشارہ کیا۔ “وہ جو گھر نظر آ رہا ہے نا… وہاں میرے دادا رہتے تھے۔” میں نے کہا، “اب؟” وہ بولا، “اب یاد رہتے ہیں۔”
دور کہیں فوجی گاڑی کا شور ابھرا اور پھر گم ہو گیا۔ شہر نے جیسے سانس روک لی ہو۔ میں نے محسوس کیا کہ یہاں خاموشی بھی بولتی ہے، اور بولنا بھی خطرہ بن جاتا ہے۔
کچھ دیر بعد وہ نوجوان چل دیا۔ جاتے جاتے اس نے بس اتنا کہا: “اگر آپ اس شہر کو سمجھنا چاہتے ہیں تو نقشہ مت دیکھئے، لوگوں کی آنکھیں دیکھئے۔”
میں دیر تک وہیں کھڑا رہا۔ بارش کے قطرے فصیل سے ٹپک رہے تھے۔ مجھے یوں لگا جیسے یہ دیواریں صرف پتھر کی نہیں، صدیوں کے سوالوں کی بنی ہیں۔
واپسی پر گلیاں وہی تھیں، مگر میں بدل چکا تھا۔ یروشلم اب صرف ایک شہر نہیں رہا تھا، یہ ایک احساس بن گیا تھا—خوبصورت، زخمی، اور ناقابلِ فراموش۔
کچھ شہر دیکھے نہیں جاتے۔ وہ انسان کے اندر اتر جاتے ہیں۔