416

2 اکتوبرعدم تشدد ڈے

تحریر شئیر کریں

2 اکتوبرعدم تشدد ڈے

آج دنیا بھر میں” عدم تشدد ڈے ” منایا جایا رہا ہے.یہ دن یاد دلاتا ہے کہ انسان ہی انسان کا دارو( علاج) ہے۔انسان وہی جو دوسرے انسان کے دکھ درد میں شریک ہو،اس کے کام آۓ،اس کی ڈھارس بندھاۓ۔اسلام کی رو سے تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان آپس میں ایک جسم کی طرح ہیں۔ایک کو تکلیف ہو تو دوسرا بھی محسوس کرے۔یہی انسانیت ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں۔

سلام کا جواب دینا،عیادت کرنا۔دعوت قبول کرنا۔مر جاۓ تو جنازے میں شریک ہونا۔ضرورت کے وقت مدد کرنا۔

اسلام کا تصور فلاح بہت وسیع ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔اس حدیث پہ غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ غیبت چغلی کسی کی بدخوہی کرنا،کسی کو طنز کرنا ،گالی گلوچ کرنا سب حرام ہیں۔کیونکہ یہ زبان سے کسی کو تکلیف دینا ہیں۔

ہمارے معاشرے میں زبان سے لیکر جان لینے تک جیسے بڑے گناہ کو بھی بہت معمولی سمجھا جاتا ہے۔۔جس کی وجہ سے تشدد عام ہوگیا ہے۔جس معاشرے میں تشدد عام ہوجاۓ وہاں سکون نام کی چیز نہیں رہتی۔ڈپریشن عام ہو جاتا یوں پورا معاشرہ بیمار ہو جاتا۔اور بیمار انسان کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتا۔

عدم تشدد کے فلسفے کی جتنی تلقین اسلام کرتا ہے کوئی اور مذہب نہیں کرتا۔جبکہ آج مسلمان سب سے پرتشدد قوم کے طور پر مشہور ہو چکی ہے۔کیوں؟؟؟؟؟

عدم برداشت کی وجہ سے،اپنے اندرصبرو برداشت جیسی کوبیاں پیدا کر کے ان بیماریو ں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔مسلمان نام ہی خیرخواہی کا ہے۔عدم تشدد کا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں