25 دسمبر اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام: قرآن کی روشنی میں 228

25 دسمبر اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام: قرآن کی روشنی میں

تحریر شئیر کریں

25 دسمبر اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام: قرآن کی روشنی میں

دنیا بھر میں 25 دسمبر کا دن ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ جہاں مغربی دنیا اور مسیحی برادری اسے کرسمس کے طور پر مناتی ہے، وہیں ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمارے لیے یہ دن اس عظیم المرتبت شخصیت، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سیرت اور قرآن مجید میں ان کے ذکرِ خیر پر غور کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ اسلام صرف ایک مذہب نہیں بلکہ تمام انبیاء کی تعلیمات کا تسلسل ہے، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس سلسلے کی ایک نہایت اہم کڑی ہیں۔
قلم کتاب کے اس خصوصی مضمون میں ہم قرآن و سنت کی روشنی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقام، ان کے معجزات اور ان کی ان تعلیمات کا احاطہ کریں گے جو آج کے دور میں بھی ہماری دنیاوی اور اخروی کامیابی کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام: قرآن کا بیانیہ

قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کسی ایک مقام پر نہیں، بلکہ 15 سورتوں کی 93 آیات میں نہایت تفصیل اور احترام کے ساتھ آیا ہے۔ قرآن انہیں “عیسیٰ بن مریم” کے نام سے پکارتا ہے تاکہ ان کی بشریت اور ان کی پاکدامن والدہ کی عظمت دونوں واضح رہیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:
> “بے شک اللہ نے آدم اور نوح اور آلِ ابراہیم اور آلِ عمران کو تمام جہان والوں پر منتخب فرما لیا۔” (سورہ آل عمران: 33)
>
اسی آلِ عمران میں حضرت مریمؑ کی پرورش ہوئی اور انہی کے بطن سے حضرت عیسیٰؑ پیدا ہوئے۔ اللہ نے انہیں “روح اللہ” اور “کلمۃ اللہ” قرار دیا، جو ان کی عظمتِ شان کی دلیل ہے۔

معجزانہ پیدائش: قدرتِ الٰہی کا شاہکار

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش انسانی تاریخ کا وہ انوکھا واقعہ ہے جو عقلِ انسانی کو دنگ کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ثابت کیا کہ وہ اسباب کا محتاج نہیں ہے۔ جس طرح اس نے آدمؑ کو بغیر ماں باپ کے پیدا کیا، اسی طرح عیسیٰؑ کو بغیر باپ کے پیدا کر کے اپنی قدرتِ کاملہ کا نمونہ پیش کیا۔
جب حضرت مریمؑ کو فرشتے نے بیٹے کی خوشخبری دی، تو انہوں نے حیرت سے پوچھا کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ اللہ نے جواب دیا:
> “اسی طرح (ہوگا)، اللہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے، جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو اسے صرف یہی کہتا ہے کہ ‘ہو جا’ تو وہ ہو جاتا ہے۔” (سورہ آل عمران: 47)
>
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب انسان اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اور اس کی رضا میں راضی رہتا ہے، تو اللہ ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔ “قلم کتاب” کا فلسفہ بھی یہی ہے کہ دنیاوی وسائل سے بڑھ کر اللہ کی ذات پر یقین ہی اصل کامیابی ہے۔

گہوارے میں کلام اور نبوت کا اعلان

جب حضرت مریمؑ اپنے معصوم بچے کو لے کر اپنی قوم کے پاس آئیں، تو لوگوں نے ان پر تہمت لگائی۔ اس نازک وقت میں، اللہ نے ایک دن کے بچے (عیسیٰؑ) کو زبان عطا فرمائی۔ حضرت عیسیٰؑ نے پنگھوڑے میں وہ تاریخی الفاظ کہے جو قرآن میں محفوظ ہیں:
> “اس (بچے) نے کہا: میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے نبی بنایا۔ اور میں جہاں کہیں بھی رہوں اس نے مجھے بابرکت بنایا ہے اور مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہے جب تک میں زندہ رہوں۔” (سورہ مریم: 30-31)
>
ان الفاظ میں “بندگی” کا اقرار سب سے پہلے ہے، جو یہ واضح کرتا ہے کہ وہ اللہ کے بیٹے نہیں بلکہ اس کے برگزیدہ بندے اور رسول ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات اور مقصدِ بعثت
اللہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بے شمار معجزات دے کر بنی اسرائیل کی طرف بھیجا۔ آپؑ مٹی سے پرندہ بناتے اور اللہ کے حکم سے وہ اڑنے لگتا۔ آپؑ اندھوں کو بینائی دیتے، کوڑھیوں کو شفا دیتے اور مردوں کو قبروں سے زندہ نکال لاتے تھے۔
لیکن یاد رہے! ان تمام معجزات کا مقصد جادوگری دکھانا نہیں تھا، بلکہ لوگوں کو یہ باور کرانا تھا کہ:
* اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

* موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونا سچ ہے۔

* دنیاوی زندگی عارضی ہے اور آخرت ہی اصل منزل ہے۔
حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا تھا کہ میں اس لیے آیا ہوں تاکہ تورات کی تصدیق کروں اور تمہارے لیے بعض ان چیزوں کو حلال کر دوں جو تم پر حرام کر دی گئی تھیں، اور میں تمہارے رب کی طرف سے نشانی لایا ہوں، پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
زہد، سادگی اور کامیابیِ آخرت
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی “زہد” (دنیا سے بے رغبتی) کی بہترین مثال ہے۔ آپؑ نے کبھی محل نہیں بنائے، کبھی مال و دولت جمع نہیں کیا۔ آپؑ کا مشہور قول ہے:
> “دنیا ایک پل (Bridge) کی مانند ہے، اس سے گزر جاؤ لیکن اس پر گھر نہ بناؤ۔”
>
آج کے دور میں جب ہم Samsung A57 جیسے جدید فونز اور دنیاوی آسائشوں کی دوڑ میں لگے ہیں، حضرت عیسیٰؑ کی یہ تعلیم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ٹیکنالوجی اور دنیاوی ترقی صرف ایک ضرورت ہے، زندگی کا مقصد نہیں۔ اصل کامیابی وہ ہے جس کا ذکر “قلم کتاب” مسلسل کرتی ہے—یعنی کامیابیِ آخرت۔

حضرت عیسیٰؑ کی آمدِ ثانی اور امتِ مسلمہ

اسلامی عقیدے کے مطابق، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ قتل کیا گیا اور نہ ہی انہیں صلیب دی گئی، بلکہ اللہ نے انہیں اپنی طرف بلند کر لیا۔ قربِ قیامت میں آپؑ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے، دجال کا خاتمہ کریں گے اور شریعتِ محمدی ﷺ کے مطابق عدل و انصاف کا نظام قائم کریں گے۔
یہ عقیدہ ہمیں امید دلاتا ہے کہ بالآخر حق کو فتح ملے گی اور دنیا میں اسلام کا بول بالا ہوگا۔

اختتامیہ: ہمارا لائحہ عمل

25 دسمبر کا دن گزر جائے گا، لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پیغامِ توحید اور فکرِ آخرت ہمیشہ باقی رہے گی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم صرف دنیاوی کامیابیوں (جیسے بہترین گیجٹس یا عہدے) پر خوش نہ ہوں، بلکہ اپنی زندگی کا محاسبہ کریں کہ کیا ہم اس راستے پر ہیں جو انبیاء نے ہمیں دکھایا؟
قلم کتاب کا مشن ہی یہی ہے کہ آپ کو دنیا کی بھیڑ میں اپنی آخرت کی یاد دلاتا رہے۔ آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی زندگیوں میں سادگی، سچائی اور اللہ کی بندگی کو اولیت دیں گے۔
25 دسمبر اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام: قرآن کی روشنی میں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں