378

کبھی ہم بھی ساس بنیں گے

تحریر شئیر کریں

کبھی ہم بھی ساس بنیں گے

سونیا بلال

ہمارے معاشرے میں شادی شدہ زندگی میں ساس ایک اہم ترین کردار ہے.
جیسے شادی سے پہلے کپل کی تربیت اہم ہے، ویسے ہی کچھ مشق ہونے والی ساس کو بھی کرنی چاہیے.

یہ تربیت سیشن کب شروع ہوتا ہے،
کیا عین شادی سے پہلے؟
ہرگز نہیں!

میرے خیال سے یہ بچوں کی پری ٹین ایج سے ہی شروع ہو جانا چاہیے.

ان کے مزاج کی خامیوں کو طریقے سے سلجھانا،
انھیں اس نظر سے دیکھنا کہ ہمارے گھر میں یہ مستقبل کے کیسے والدین تیار ہو رہے ہیں.
ہمارے لیے تو وہ بچے ہیں،
لیکن مستقبل میں وہ کسی کے لائف پارٹنرز اور والدین ہیں.

اور اپنی تربیت بحثیت ساس بھی ساتھ ساتھ کرنی چاہیے.

میں دیکھتی ہوں کہ بیٹے بہت پیارے ہوتے ہیں ماؤں کو.
لیکن جب وہ اپنی نئی زندگی شروع کرتے ہیں تو ماں کو زمانے بھر کا عدم تحفظ لاحق ہو جاتا یے.
اس پر محنت کرنی ہے.

یہ کیسا عدم تحفظ ہے؟
یہ کیسی بے چینی یے؟
اس دنیا میں کسی نے ہمیشہ نہیں رہنا،
اس لیے دوسروں کے راستے مشکل نہ بنائے جائیں.
خیر اور نیک نیتی پلٹ کر آتی ہے ہمیشہ،،

اس آنے والی لڑکی کو اس نظر سے دیکھا جائے کہ یہ بیٹی میرے بیٹے کے ایمان کی تکمیل کر رہی ہے. اسے بد نظری، بے حیائی جیسے گناہوں سے بچنے میں مددگار ہے، جس پر خرچ کرنے پر بھی میرے بیٹے کے لیے اجر لکھا جا رہا ہے. میرا بیٹا کتنا خوش ہے، وہی بیٹا جس کی مسکراہٹ مجھے ہمیشہ شاد کرتی رہی. آج اس کی خوشی پر دل میں یہ کیسی ہلکی سی مستقل چبھن ہے؟

میں آج اپنی تعریف کروں گی،، اس بات پر کہ میں نے اپنے نو عمر بیٹے پر بہت محنت کی ہے،
اور خود بھی اس بات پر بہت سوچتی رہتی ہوں.

میں نے اسے سکھایا ہے کہ مرد و عورت دونوں بالکل مختلف جذبات، احساسات رکھتے ہیں. عورت کے جذبات کی قدر کر کے، اس کو سراہ کر، اسے محبت دے کر، عزت اور مان دے کر شوہر اس کی صلاحیتوں سے بہت فائدہ اٹھا سکتے ہیں.
بچہ بھی سیکھتا رہا.

اب حالات یہ ہیں کہ کسی بات پر میں جھنجھلاہٹ کا شکار ہوں تو وہ میرا چہرہ ہاتھوں میں لے کر ماتھے پر بوسہ دے گا اور کندھوں پر ہاتھ رکھے کہے گا ریلیکس، ریلیکس، ابھی ہو جائے گا یہ فلاں کام،
میں کر دیتا ہوں.
اور میں لمحوں میں calm..
وہ کام ہو نہ ہو، موڈ لمحوں میں درست ہو جاتا ہے.

پھر میں اسے کہتی ہوں تم استاد سے بھی آگے نکل رہے ہو شاگرد،،

بہنوں کو مزاج کے مطابق ہینڈل کرنا،
خوب تجربات سیکھ رہا ہے گھر میں ہی پریکٹس کرتے کرتے ماشاء اللہ،،

شائد کوئی اسے قبل از وقت سمجھے لیکن مجھے اس بچی سے بہت محبت محسوس ہوتی ہے جو میرے بیٹے کی زندگی میں آ کر اسے مکمل کرے گی.

اگر نیک طبیعت ہوئی تو ضرور دعائیں ہی دے گی مجھے اس معاشرے سے ہٹ کر سیٹ کیے گئے تربیت کے اس ٹرینڈ پر..

اولاد پر اپنی زندگی کے سال اس لیے خرچ نہیں کیےجاتے کہ مستقبل میں ان سے وصول کیے جائیں. یہ کاروبار تھوڑی ہی ہے، یہ تو محبت کا معاملہ ہے.
ہمارے لیے ہماری کمزوری کے وقت اللہ مددگار مقرر فرمائیں گے.

اولاد کو جب اللہ کی فرمانبرداری سکھا دی جاتی ہے تو وہ کبھی والدین سے غافل نہیں رہ سکتے.

کسی وقت لکھے گئے اپنے چند جملے آخر میں ایڈ کرتی ہوں،،

“مجھے اپنے بیٹے سے بہت محبت ہے،،
اسی وجہ سے جب میں اس کی تربیت کرتی ہوں، تو اس کو صرف والدین کے حقوق نہیں سکھاتی بلکہ بیوی، بچوں اور دوسرے مسلمانوں کے حقوق بھی بتاتی ہوں. اسے سکھاتی ہوں کہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں پر کتنے مہربان تھے. کبھی ان کا دل خوش کرنے کے لیے ان کے ساتھ دوڑ لگا رہے ہیں اور کہیں ان کو سواری پر بیٹھنے میں مدد کے لیے اپنے گھٹنا بچھا رہے ہیں. کبھی گھر کے کاموں میں ان کی مدد فرما رہے ہیں اور کبھی انھیں خوب صورت ناموں سے پکار رہے ہیں.

اور میں کبھی نہیں چاہوں گی کہ اس بڑے دن جب حقوق کی عدالتیں لگیں تو میرا بیٹا پیرنٹس کی عدالت میں تو سرخرو ہو جائے اور شریک حیات والی عدالت میں شرمسار کھڑا ہو.
ماں ہونے کی حیثیت سے میں اپنے بیٹے کو کبھی بھی شرمسار یا ناکام نہیں دیکھنا چاہتی کیونکہ میں اس سے بہت محبت کرتی ہوں.”

کبھی ہم بھی ساس بنیں گے


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں