حرکت میں ہے برکت
زعیمہ روشن
٫٫گدااگری ایک ایسی لت ہے جسکو لگ جاے وہ کسی قابل کا نہی رہتا۔۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک یہ ایک برا فعل تھا اور اسکی وضاحت اس حدیث مبارکہ کی روشنی سے ہوتی ہے کے حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کے ایک مرتبہ ایک انصاری آپکی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا(یعنی کچھ مانگا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمھارے گھر میں کچھ ہے؟؟ تو وہ بولہ کے ایک کمبل جسکو کچھ بچھا لیتے ہیں اور کچھ اوڑھ لیتے ہیں اور ایک پانی پینے کا پیالہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لے آؤ وہ دونوں چیزیں لے آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ چیزیں کون خریدے گا؟؟ایک شخص نے کہا میں ایک درہم میں لوں گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ فرمایا ایک درہم سے زائد کوئی لے گا ایک اور شخص بولہ میں لو گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں درہم انصاری کو دیے اور فرمایا ایک درہم سے کھانا خرید کے گھر لے جاؤ اور دوسرے سے کلہاڑا خرید کر میرے پاس لاؤ اس نے ایسا ہی کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلہاڑا لیا آور اپنے دستے مبارک سے اس میں دستہ ٹھونکا اور فرمایا جاؤ لکڑیاں اکٹھی کرو پندرہ یوم تک کام کرنا وہ لکڑیاں چیرتا رہا اور پیچتا رہا پھر ایک دن وہ حاضر ہوا تو اس کے پاس دس درہم تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ کا کھانا خرید لو اور کچھ سے کپڑا آور پھر فرمایا کے خود کمانا تمھارے لیے بہتر ہے بہ نسبت اس کےتم قیامت کے روز ایسی حالت میں حاضر ہو کے مانگنے کا داغ تمہارے چہرے پر ہو (استغفار) اس ایک حدیث مبارکہ میں آپ صلی اللہ علیہ نے ساری بات واضح کر ڈالی کے مانگنا کس قدر غلط اور برا فعل ہے اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارت یعنی کاروبار،محنت کو بہت زیادہ ترجیح دی ہے اور کاروبار کیسے اور کس طرح کرنا ہے یہ بھی سکھایا ہے اس شخص کے پاس دو چیزیں تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا زرا سوچیئے ہمارا معاشرہ بھرا پڑھا ہے ایسے بے شمار لوگوں سے جو جانی و مالی اچھے خاصے ہوتے ہیں لیکن بچارے عادتاً ایسا کرکے اپنی عزت نفس مجروح کرتے ہیں ۔۔خدا ایسے لوگوں کو راہِ راست پر لاے اور اپنی محنت سےرزق حلال کمانے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)
خدا نے آج تک اس قوم کی
حالت نہیں بدلی۔۔
٫٫نہ ہو خیال جسکو اپنی آپ حالت کے بدلنے کا۔۔؛؛؛…