آسمانی بجلی سے بچاو کی دینی اور سائنسی تدابیر 379

آسمانی بجلی سے بچاو

تحریر شئیر کریں

آسمانی بجلی سے بچاو کی دینی اور سائنسی تدابیر

کل ہونے والی بارش میں نمایاں ترین چیز بجلی کی خوفناک کڑک تھی۔ ایسی گرج اور چمک کہ دل دہل دہل جاتا۔ رات گئے طبیعت عجیب بےچینی کا شکار رہی، جیسے کچھ ہونے والا ہو۔ مسلسل بجلی کڑکنے کی دعا کا ورد جاری رکھا، اور اللہ نے اپنے غضب سے محفوظ رکھا، الحمدللہ خیرا کثیرا۔

لیکن صبح جو خبریں سننے کو ملیں، وہ دل دہلا دینے والی تھیں—پاکستان کے مختلف شہروں میں نو افراد بجلی گرنے سے جاں بحق ہو گئے۔ اللہ ہم سب پر رحم فرمائے۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے وارننگز جاری کی جا رہی ہیں، اور یہ ہمارے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ہم ان تنبیہات کو سنجیدگی سے لیں۔ اللہ کرے کہ ہم نصیحت حاصل کریں اور اعمال کی اصلاح کی طرف راغب ہوں۔ آمین!

آسمانی بجلی: قدرت کی وارننگ اور احتیاطی تدابیر

آسمانی بجلی سے بچاو کی دینی اور سائنسی تدابیر

قرآن مجید میں سورہ الرعد باقاعدہ آسمانی بجلی کے نام پر ہے۔ ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ الرعد ایک زور آور فرشتہ ہے، جس کے ہاتھ میں گرز ہے اور وہ بادلوں کو ہانکتا ہے۔ جب یہ گرز بادلوں پر ضرب لگاتا ہے تو بجلی پیدا ہوتی ہے۔

نبی کریم ﷺ کے زمانے میں جب تیز ہوا چلتی تو آپ پریشان ہو جاتے اور فرماتے کہ پچھلی قوموں پر بادلوں کے ذریعے بھی عذاب آیا تھا۔ چونکہ آپ ﷺ جانتے تھے کہ اللہ قادر مطلق ہے، وہ جو چاہے کر سکتا ہے، اس لیے آپ ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے:

سُبْحَانَ الَّذِي يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ
“پاک ہے وہ ذات جس کی تسبیح بجلی کی گرج کرتی ہے اور فرشتے اس کے خوف سے”

سائنسی نکتۂ نظر

سائنس کے مطابق، جب بادلوں میں ٹھنڈک بڑھتی ہے تو ننھے قطرے پیدا ہوتے ہیں جو بادلوں کی سطح پر کرنٹ پیدا کرتے ہیں۔ یہی عمل آسمانی بجلی کا سبب بنتا ہے۔

آسمانی بجلی کے خطرات

ہندوستان آسمانی بجلی کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں ہر سال 2500 افراد جاں بحق ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی حالیہ بارشوں کے دوران کئی افراد بجلی گرنے سے جان کی بازی ہار گئے۔

آسمانی بجلی سے کیسے محفوظ رہیں؟

سب سے پہلی اور اہم بات یہ کہ اللہ ہمیں اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کبھی سیلاب، کبھی اولے، کبھی زلزلے اور کبھی آسمانی بجلی کے ذریعے وارننگ دیتے ہیں۔ ہمیں ان نشانیوں کو سمجھنا چاہیے اور اپنے اعمال کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اللہ ہمیں محفوظ رکھے اور ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

آسمانی بجلی: احتیاطی تدابیر اور دُعا

سورہ الرعد میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ
“بجلی کی گرج اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور فرشتے اس کے خوف سے۔” (الرعد: 13)

آسمانی بجلی سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر

سائنس کے مطابق، آسمانی بجلی سے محفوظ رہنے کے لیے کھلے آسمان کے نیچے کھڑے ہونے سے گریز کریں۔ اس کے علاوہ:

موبائل اور الیکٹرانک ڈیوائسز سے دور رہیں۔

دھات کے کھمبوں یا کھلی جگہوں پر کھڑے ہونے سے اجتناب کریں۔

تیز بارش اور بجلی کڑکنے کے دوران محفوظ پناہ گاہ میں چلے جائیں۔

حقیقی واقعہ: موبائل فون اور بجلی

یہ حقیقت ہے کہ بجلی اکثر الیکٹرانک ڈیوائسز کو متاثر کرتی ہے۔ میں خود ایک واقعے کی عینی شاہد ہوں—میری نند کا بیٹا موبائل چارجنگ پر لگا رہا تھا، عین اسی وقت بجلی کڑکی اور موبائل سے ٹکرا گئی، جس سے ایل سی ڈی تباہ ہو گئی۔ شکر ہے کہ وہ محفوظ رہا، لیکن یہ واقعہ ہمیں محتاط رہنے کا درس دیتا ہے۔

سبق اور نصیحت

یہ اللہ کی طرف سے تنبیہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں پر غور کریں اور اپنے اعمال کی اصلاح کریں۔ اللہ ہمیں ہر آزمائش اور آفات سے محفوظ رکھے، آمین۔

آپ سب کی خیرخواہ!

آسمانی بجلی سے بچاو کی دینی اور سائنسی تدابیر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں