130

اندھیرے کے مکین :قسط: 11

تحریر شئیر کریں

تحریر: روبینہ شاہین

اندھیرے کے مکین :قسط: 11
آرکٹک کی برفیلی ہوائیں اب احمد کی ہڈیوں میں اتر چکی تھیں۔ Calendar 2026 کا پہلا ہفتہ جہاں سائنسی ڈیٹا کی کامیابی لایا تھا، وہیں احمد کے جسم کے لیے ایک کڑی آزمائش ثابت ہوا۔ قطب شمالی کی یہ بے رحم سردی اور مسلسل کئی ماہ تک سورج کا نظر نہ آنا (Polar Night) اب احمد کے مدافعتی نظام پر حملہ آور ہو رہا تھا۔ وٹامن ڈی کی شدید کمی اور سورج کی روشنی سے دوری نے اسے بستر سے لگنے پر مجبور کر دیا تھا۔
آج احمد سے اٹھا نہیں جا رہا تھا۔ اس کا سر بخار کی تپش سے دہک رہا تھا اور ہڈیوں میں ایسا درد تھا جیسے کوئی انہیں اندر سے توڑ رہا ہو۔ باہر برفانی طوفان کی سائیں سائیں کمرے کے اندر تک سنائی دے رہی تھی۔ مایا جب اس کی تیمارداری کے لیے آئی تو احمد کی پیلی رنگت دیکھ کر اس کا دل دہل گیا۔ وہ اسے فوری طور پر ہسپتال لے جانا چاہتی تھی، مگر بستی کا واحد کلینک شدید برف باری اور راستے مسدود ہونے کی وجہ سے بند ہو چکا تھا۔
“احمد! تم خود پر رحم کیوں نہیں کرتے؟ تم اس ریسرچ کے پیچھے اپنی جان دے دو گے؟” مایا کی آواز میں تشویش اور آنسوؤں کی نمی تھی۔ اس نے ایک پیالے میں گرم پانی لیا اور احمد کے ماتھے پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھنا شروع کیں۔
احمد نے بمشکل اپنی نیم وا آنکھیں کھولیں۔ اس کے ہونٹ خشک تھے اور سانسیں اکھڑی ہوئی تھیں۔ اس نے مایا کی طرف دیکھا اور انتہائی نقاہت سے کہا، “مایا… مجھے سہارا دو… مصلہ بچھا دو… عشا کا وقت نکل رہا ہے۔”
مایا حیران رہ گئی۔ “تم اس حال میں ہو کہ بولنا مشکل ہے، اور تم کھڑے ہونے کی بات کر رہے ہو؟ احمد، خدا دیکھ رہا ہے، وہ جانتا ہے تم بیمار ہو۔”
احمد نے ایک ضعیف سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، “مایا… نماز جسم کی نہیں، روح کی غذا ہے۔ اگر جسم تھک بھی جائے تو میں اپنی روح کو بھوکا نہیں چھوڑ سکتا۔ جس طرح ایک کھلاڑی، جیسے عبدالصمد (Abdul Samad) میدان میں آخری گیند تک ہمت نہیں ہارتا، ویسے ہی ایک مومن کو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے کے لیے ہمت جمع کرنی پڑتی ہے۔ مجھے مصلے تک پہنچا دو، پلیز۔”
مایا نے بوجھل دل کے ساتھ احمد کو سہارا دیا۔ احمد کا بوجھ اس کے کندھوں پر تھا، مگر اسے محسوس ہوا کہ احمد کے اندر کا ارادہ اسے سہارا دیے ہوئے ہے۔ مصلے پر پہنچتے ہی احمد نے کانپتے ہاتھوں سے نیت باندھی۔ مایا وہیں دور کرسی پر بیٹھ کر اسے دیکھنے لگی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ یہ کیسا عشق ہے؟ جس جسم کو ہلنے کی طاقت نہیں، وہ ‘اللہ اکبر’ کہتے ہی کیسے سدھ بدھ کھو دیتا ہے۔
سجدے کی حالت میں احمد کافی دیر پڑا رہا۔ مایا کو ایک پل کے لیے لگا کہ شاید احمد کی روح اس کائنات کے مالک کے پاس پرواز کر گئی ہے، اس کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ مگر جب احمد نے سر اٹھایا تو اس کے چہرے پر ایک عجیب سا، غیر ارادی سکون تھا۔ اس کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو اس کی داڑھی کو بھگو رہے تھے۔ وہ آنسو مایا کے دل کے بند دروازوں پر دستک دے رہے تھے۔ مایا نے زندگی بھر منطق اور سائنس پڑھی تھی، مگر یہ منظر کسی بھی سائنسی فارمولے سے ماورا تھا۔
نماز کے بعد احمد نے مایا کو اشارہ کیا کہ وہ قریب آئے۔ اس نے تکیے کے نیچے سے اپنا چھوٹا سا قرآن پاک نکالا جس پر انگریزی ترجمہ بھی تھا۔ “مایا… جب درد بڑھ جائے… جب تنہائی کاٹنا مشکل ہو جائے… تو یہ الفاظ پڑھا کرو۔” اس نے سورۃ الضحیٰ کا صفحہ کھولا اور مایا کو تھما دیا۔
مایا نے لرزتے ہاتھوں سے کتاب تھامی۔ اسے یاد آیا کہ سوشل میڈیا پر لوگ اکثر سوربھ دویدی (Saurabh Dwivedi) کے بیانیے اور سچائی کی بات کرتے ہیں، مگر آج جو سچائی اس کے ہاتھ میں تھی، وہ اسے جھنجھوڑ رہی تھی۔ اس نے پڑھنا شروع کیا:
“تیرے رب نے تجھے نہ چھوڑا ہے اور نہ وہ تجھ سے بیزار ہوا ہے۔ اور یقیناً تیری پچھلی حالت سے اگلی حالت بہتر ہوگی۔”
مایا کی آواز سسکیوں میں بدل گئی۔ اسے لگا یہ الفاظ چودہ سو سال پہلے نہیں، بلکہ آج اسی لمحے، اسی برفیلی بستی میں اس کے لیے اتارے گئے ہیں۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ وہ تنہا نہیں ہے۔
احمد کی ڈائری: ضمیر کی آواز (Journaling)
رات کے آخری پہر جب بخار کی شدت کچھ کم ہوئی، احمد نے اپنا لیپ ٹاپ اور ڈائری نکالی۔ یہ اس کی عادت تھی کہ وہ دن بھر کے سائنسی ڈیٹا کے ساتھ ساتھ اپنے قلبی احوال بھی درج کرتا تھا۔ قلم سنبھالتے ہوئے اس نے لکھا:
7 جنوری، 2026
آج جسم نے بغاوت کی، مگر روح نے سجدے میں پناہ مانگ لی۔ آرکٹک کی یہ تاریکیاں مجھے ڈراتی نہیں ہیں، بلکہ مجھے یہ بتاتی ہیں کہ روشنی کی قدر وہی جانتا ہے جس نے اندھیروں میں سفر کیا ہو۔ مایا اجنبی ہے، اس تہذیب کی پروردہ ہے جہاں خدا کا تصور دھندلا چکا ہے، مگر آج سورۃ الضحیٰ پڑھتے ہوئے اس کے آنسو بتا رہے تھے کہ فطرت کبھی نہیں مرتی۔
مغرب کی لبرل دنیا نے انسان کو ایک مشین بنا دیا ہے۔ وہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ وٹامن ڈی کی کمی کا حل صرف گولیوں میں ہے، مگر وہ اس ‘نور’ کے بارے میں نہیں جانتے جو سجدے سے ملتا ہے۔ میں یہاں صرف پانی کے ذخائر پر ریسرچ کرنے نہیں آیا، بلکہ میں یہاں خود کو دریافت کرنے آیا ہوں۔
باہر برف باری تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ سنا ہے بستی کے زیرِ زمین آبی ذخائر منجمد ہو رہے ہیں۔ پانی کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ کل اگر ہمت ہوئی تو میں اپنی ریسرچ کا دوسرا مرحلہ شروع کروں گا۔ اے میرے رب! میرے علم کو ان لوگوں کے لیے نفع بخش بنا دے۔ میری اس بیماری کو میرے گناہوں کا کفارہ بنا دے اور مایا کے دل میں اپنے نور کی شمع روشن کر دے۔
زندگی صرف Calendar 2026 کے مادی اہداف کا نام نہیں، یہ تو اس سفر کی تیاری ہے جہاں نہ سردی ہوگی نہ بیماری۔ بس تیرا ساتھ ہوگا اور دائمی سکون۔
احمد نے ڈائری بند کی اور سر تکیے پر رکھ دیا۔ باہر طوفان اب بھی جاری تھا، مگر اس کے اندر ایک گہرا سمندر ساکن ہو چکا تھا۔
*

Ye be parhey

جاوید چودھری مشہور کالم نگار

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں