
تحریر: روبینہ شاہین
پانی کی بحالی نے بستی میں احمد کو ایک اجنبی سے “محسن” بنا دیا تھا۔ احمد کا بخار اب اتر چکا تھا، مگر کمزوری اب بھی اس کے ڈھانچے میں رچی ہوئی تھی۔ وہ کھڑکی کے پاس بیٹھا باہر کی دھندلی روشنی کو دیکھ رہا تھا جب مایا اندر داخل ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانا لکڑی کا پیالہ تھا جس میں اس کے قبیلے کا مخصوص گرم شوربہ تھا، مگر اس کے ساتھ آج ایک اور لڑکی بھی تھی جس کے چہرے پر بلا کا سکون اور سر پر سلیقے سے بندھا ہوا اسکارف تھا۔
“احمد! تم سے ملوانا چاہتی ہوں، یہ میری سب سے قریبی دوست Fatima ہے،” مایا نے تعارف کروایا۔
احمد نے حیرت سے Fatima کو دیکھا۔ اس کا تعلق یہیں کے ایک مقامی قبیلے سے تھا، مگر اس نے چند سال پہلے اسلام قبول کر لیا تھا۔ مایا نے بتایا، “احمد، Fatima ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے مجھے تم پر یقین کرنے پر مجبور کیا۔ یہ جب یونیورسٹی میں میرے ساتھ ہوتی ہے، تو اس کا کردار، اس کی سچائی اور دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ بالکل تمہارے جیسا ہوتا ہے۔”
مایا خاموشی سے بیٹھ گئی۔ اس کی آنکھوں میں آج وہ روایتی چمک نہیں تھی، بلکہ ایک گہری سوچ تھی۔
“احمد! میں نے کل رات بہت سوچا،” مایا نے پیالہ میز پر رکھتے ہوئے کہا۔ “ہمارے قبیلے میں لوگ جادوگروں اور روحوں پر یقین رکھتے ہیں، اور یونیورسٹی میں ہم صرف منطق (Logic) کو مانتے ہیں۔ مگر کل تم نے جو کیا، وہ نہ جادو تھا اور نہ صرف منطق۔ تم موت کے قریب تھے، پھر بھی تم ہنس رہے تھے۔ تمہیں اس طاقت پر اتنا یقین کیسے ہے جسے تم دیکھ بھی نہیں سکتے؟”
احمد نے ایک گہرا سانس لیا اور اپنی ڈائری کی طرف اشارہ کیا جس پر وہ ابھی کچھ لکھ رہا تھا۔ “مایا، ہوا نظر نہیں آتی مگر سانس لینے کے لیے ضروری ہے۔ میرا اللہ نظر نہیں آتا، مگر وہ میرے ہر اس ارادے میں موجود ہوتا ہے جو دوسروں کی بھلائی کے لیے ہو۔”
اس نے ڈائری کا وہ صفحہ کھولا جہاں اس نے “الاسکا کی منجمد زمین پر اسلام کی دستک” کے عنوان سے جرنلنگ کی تھی۔ احمد نے Fatima کی طرف دیکھ کر مایا کو سمجھانا شروع کیا:
“مایا، تم جانتی ہو اس دور دراز خطے میں اسلام کیسے پہنچا؟ یہ کسی لشکر یا جنگ کے ذریعے نہیں، بلکہ ان گمنام مسلمانوں کے ‘اعلیٰ اخلاق’ کے ذریعے پہنچا جو یہاں مزدوری، تجارت اور تعلیم کے لیے آئے۔ 17ویں صدی کے اواخر اور پھر جب یہاں تیل کی دریافت ہوئی، تو دنیا بھر سے مسلمان یہاں آئے۔ ان میں سے اکثر طالب علم تھے یا محنتی ورکرز۔ ان کا ایمانداری سے کام کرنا، شدید سردی میں بھی نماز کی پابندی اور مقامی لوگوں کے دکھ سکھ میں شریک ہونا ایک ایسا خاموش پیغام تھا جس نے یہاں کے لوگوں کے دل موم کر دیے۔ Fatima کا اسلام لانا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔”
Fatima نے مسکرا کر احمد کی بات کی تائید کی۔ “بالکل احمد! یہاں کے مقامی لوگ بہت سادہ ہیں، وہ لفظوں سے زیادہ عمل کو دیکھتے ہیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان ورکرز سخت حالات میں بھی اپنے رب کو نہیں بھولتے اور نہ ہی کسی کا حق مارتے ہیں، تو انہوں نے خود پوچھنا شروع کیا کہ یہ ‘دین’ کیا ہے؟”
مایا نے دھیرے سے پوچھا، “کیا تمہارا مذہب تمہیں اپنی جان خطرے میں ڈالنا سکھاتا ہے؟”
احمد کی نظریں دور افق پر جم گئیں۔ “میرا مذہب مجھے یہ سکھاتا ہے کہ یہ زندگی ایک عارضی قیام گاہ ہے اور اصل کامیابی ‘آخرت کی کامیابی’ ہے۔ اگر میں کل مر بھی جاتا، تو مجھے سکون ہوتا کہ میں اپنے خالق کے سامنے سرخرو ہوں کہ میں نے اس کے بندوں کی پیاس بجھانے کی کوشش کی۔”
احمد نے ڈائری میں ایک آخری جملہ لکھا: “حق کا بیج مٹی نہیں، انسان کا دل مانگتا ہے، چاہے وہ لاہور کی تپتی زمین ہو یا الاسکا کی جمی ہوئی برف۔” مایا خاموشی سے Fatima اور احمد کو دیکھ رہی تھی، اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس کے اندر کا منجمد منطقی ذہن اب پگھلنے لگا ہے۔
اندھیرے کے مکین: قسط 13
